Book Name:4 Sansani khez Khwab

          تھوڑے دنوں پہلے کی بات ہے ، رات کو حسب معمول V.C.R. پر مار دھاڑ سے بھر پور ایک فلم دیکھنے کے بعد میں پلنگ پر لیٹ گیا ۔  نہ جانے کیوں نیند اچاٹ ہوگئی تھی! مار دھاڑ کے فلمی مناظِر میرے ذِہن کے پردے سے ہٹتے نہیں تھے ۔  بَہُت دیرتک کروٹیں بدلنے کے بعد جب کچھ اُونگھ آئی تو میں خواب کی دنیا میں پہنچ گیا ۔  خواب ہی خواب میں سخت بخار آگیا حتّٰی کہ مجھے اَسپتال میں داخِل کردیا گیا ۔  اتنے میں ایک نہایت قد آور خوفناک کالا آدمی آیا جس کے جسم کے سارے بال کانٹوں کی طرح کھڑے تھے ، اس کی آنکھوں ، کانوں ، ناک کے نتھنوں اور منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے ! آتے ہی اُس نے مجھے اپنے فولادی ہاتھوں سے اُٹھا کر فَضا میں اُچھال دیا، میں ایک کھولتے ہوئے تیل کی دیگ میں جا پڑا اور میری روح قبض ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔  اس دوران مجھے طرح طرح کی اَذِیَّتوں سے گزرنا پڑا، کبھی محسوس ہوتا کہ تیز چھری سے میری کھال اُدَھیڑی جا رہی ہے تو کبھی میرے جسم سے کانٹے دار شاخیں انتہائی سختی کے ساتھ کھینچ کر نکالنے کا عمل ہورہا ہے ، کبھی ایسا لگتا کہ بَہُت بڑی قینچی سے میرے وُجُود کے ٹکڑے کئے جا رہے ہیں ، میرے ہرعُضو(عُض ۔ و) بلکہ رُوئیں روئیں کو گویا باندھ دیا گیا تھا، نہ میں ہل سکتا تھا، نہ چیخ سکتا تھا، بَہُت دیرتک اس درد و کرب میں مبتَلا رہا، بِالآخِر میری رُوح پرواز کر گئی! میرے گھر والوں نے رونا دھونا شروع کر دیا، شور مچ گیا کہ ولید جیسے کڑیل جوان کا یکا یک انتِقال ہوگیا! میرے غسل و کفن اور نمازِ جنازہ کے مراحِل طے ہوئے اور مجھے تاریک قبر میں اُتار دیا گیا ۔  خدا عَزَّوَجَلَّکی قسم! ایسا گھپ اندھیراا س سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا ۔  لوگ دفنا کر چل پڑے اور میں ان کے قدموں کی چاپ سنتا رہا ۔  اتنے میں قَبْر کی دیواریں ہلنا شروع ہوگئیں ، لمبے لمبے دانتوں سیقَبْر کی دیوار چیرتے ہوئے خوفناک شکلوں والے دو فرشتے (منکَر نکیر) میری قَبْر میں آپہنچے ، ان کا رنگ سیاہ، آنکھیں کالی اور نیلی اور شعلہ زن تھیں ، ان کے کالے کالے مُہِیب(مُ ۔ ہِیب یعنی ہیبت ناک) بال سر سے پاؤں تک لٹک رہے تھے ، انہوں نے مجھے ـجھنجھوڑ ااور جھڑک کر اٹھا دیا اور نہایت ہی سخت لہجے میں سُوالات شروع کر دئیے ۔  ہائے ! میری بد نصیبی!! اتنے میں ایک آواز گونج اٹھی :   ’’اِس بے نمازی کو کچل دو! ‘‘  بس پھر کیا تھا قَبْر کی دیواروں نے مجھے بھینچنا شروع کر دیا اور میری پسلیاں چٹاخ چٹاخ کی آوازکے ساتھ ٹوٹنے اور ایک دوسرے میں پیوست ہونے لگیں ، میرا کفن آگ کے کفن سے بدل گیا، میرے نیچے آگ کا بستر بچھ گیا ۔ اِتنے میں قَبْر میں میری خالہ زاد بہن آگئی، قریب ہی ایک بے رِ یش لڑکا بھی کھڑا تھا، یک لخت ان دونوں کی شکلیں بے حد ڈراؤنی ہوگئیں اور ان کے ہاتھوں میں دیوہیکل ڈرل مشینیں کپکپانے اور ان کی سلاخوں (RODS) سے آگ کی چنگاریاں اڑنے لگیں ۔ ایک گرجدار آواز گونج اٹھی…  ’’ولید اپنی



Total Pages: 12

Go To