Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

تم ہمارا راستہ چھوڑ دو ۔  ‘‘  امیر نے کہا :   ’’ ٹھیک ہے  ۔  ‘‘ چنانچہ،   حضرت سیِّدُناحَرَام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہان کے پاس جا کر بات چیت کرنے لگے ۔ اچانک ان میں   سے ایک شخص نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو سامنے سے نیز ہ مارا جو جسم سے پار ہو گیا،  جب حضرت سیِّدُناحَرَام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے پیٹ میں   نیزے کی تکلیف محسوس کی تو فرمایا :   ’’ ربِّ کعبہ کی قسم ! میں   کامیاب ہوگیا ۔  ‘‘  اس کے بعدبَنُوسُلَـیْم کے قبیلے نے اسلامی لشکر کو گھیر کر شہید کردیا یہاں   تک کہ کوئی خبر دینے والا بھی نہ بچا  ۔  حضور نبی ٔ اَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سَرِیَّہ ( [1] )پر سب سے زیادہ دُکھ کا اظہار فرمایا اور میں   نے دیکھا کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہر روز نمازِ فجر میں   ہاتھ اُٹھا کرکفارکے خلاف دعا کرتے تھے  ( [2] ) ۔   ‘‘   ( [3] )

حضرت سَیِّدُنَا عَبْدُاللّٰہ بن مَسْعُوْدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا شمارمہاجرین کے اس طبقہ میں   ہوتاہے جنہوں   نے ہجرت کرنے میں   پہل کی ۔ اوران بزرگوں  میں   بھی شامل ہیں   جو عبادت گزارمشہورہیں   ۔ قرآن پاک پڑھنے،  پڑھانے والے،  خدادادصلاح وخیرکے مالک تھے ۔ صاحب ِفہم عالم،  رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صاحبِ اسرار  ( یعنی رازدار )  اورصاحبِ سواد ( یعنی تکیہ اٹھانے والے )  تھے،   ( نیکیوں  میں   ) جلدی کرنے والے،  آگے بڑھنے والے،   رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سب سے زیادہ قرب رکھنے والے اورتمام صحابہ میں   امتیازی شان کے مالک تھے ۔ حضورنبی ٔ ٔرحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رفیق ومشیرخاص اورذکی وہونہارپہرہ دار تھے ۔  محبت خداوندی سے سرشار،   مشاہدۂ حق کے طلبگار ،   وعدوں   کے پاسدار اور مُسْتَجَابُ الدَّعْوَاتتھے ۔  ‘‘

            اہلِ تصوُّف کے نزدیک ’’   مشاہدۂ حق کا غلبہ رہنے اور وعدوں   اور حدود کی حفاظت کرنے کانام تصوُّف ہے ۔   ‘‘

ابنِ مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی طرح تلاوت کیاکرو :  

 ( 376 ) …  حضرت سیِّدُناعَلْقَمَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضر ہوکر عرض کی :  ’’  میں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس اس شخص کی شکایت لے کر آیا ہوں   جوزبانی اپنی یادداشت سے مصاحف لکھاتاہے ۔  ‘‘ یہ سن کرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جلال میں   آگئے اور فرمانے لگے: ’’ تم پرافسوس ہے !  غورکرو،   تم کیا کہہ رہے ہو ؟  ‘‘  اس نے عرض کی :   ’’ میں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے حق بیان کر رہا ہوں   ۔  ‘‘ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے دریافت فرمایا :   ’’ وہ کون ہے ؟   ‘‘ اس نے جواب دیا :   ’’ وہ  عبداللہبن مسعود  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) ہیں   ۔  ‘‘  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   عبداللہ بن مسعود ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) سے زیادہ اس کام کاحق داراب مسلمانوں   میں   کوئی نہیں   ۔  مَیں   تمہیں  ایک حدیث سناتا ہوں   کہ ایک بارامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے گھر میں   اللہعَزَّوَجَلَّکے حبیب ،   حبیبِ لبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ مسلمانوں   کے کسی کام کے سلسلے میں   ہمیں   کافی رات ہو گئی  ( فراغت کے بعد )  ہم رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دائیں   بائیں   چلتے ہوئے وہاں   سے نکلے ۔ جب ہم مسجد کے قریب پہنچے تو وہاں   ایک شخص قرآنِ مجید کی تلاوت کر رہا تھا ۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کی تلاوت سننے کے لئے ٹھہر گئے  ۔ میں   نے عرض کی:  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کی تلاوت سننے کے لئے رُک گئے ؟  ‘‘  حضورنبی ٔ رحمتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے اپنے ہاتھ مبارَک سے خاموش رہنے کا اِشارہ فرمایا  ۔  پھر اس شخص نے قراء ت کی،   رکوع وسجدہ کیااور بیٹھ کر دعا و استغفار میں   مشغول ہو گیا ۔  رحمتِ عالم ،  نورِمجسَّم،  شاہ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’  سوال کر تجھے دیا جائے گا  ۔  ‘‘ پھر فرمایا: ’’  جسے یہ پسند ہوکہ وہ اُس طرح قرآنِ مجید کی تلاوت کرے جس طرح نازل ہوا ہے تو وہعبداللہ بن مسعود ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) کی طرح تلاوت کرے ۔  ‘‘

            امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   جب مکی مدنی سلطان،  رحمتِ عالمیان ،   سردارِ دوجہانصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ ارشاد فرمایا تب مجھے اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو پتا چلا کہ وہ شخص حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہیں   ۔  صبح جب میں   انہیں   یہ خوشخبری سنانے گیا تو وہ کہنے لگے کہ ’’  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے پہلے مجھے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ یہ بشارت سناگئے ہیں   ۔  ‘‘ اس پرامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ یہ،   نیکی میں   ہمیشہ مجھ پر سَبَقَت لے جاتے ہیں   ۔  ‘‘    ( [4] )

  رحمت ِ عالَمصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے 70سورتیں   یادکیں :

 



[1]    شارحِ بخاری ،  نائب ِ مفتی ٔ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی تحریر فرماتے ہیں   :  ’’اصحابِ  سِیَرنے اس لشکرکوجس میں  حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بنفسِ نفیس شریک ہوئے ،  غَزْوَہ کہا اور جس میں   خود شریک نہ ہوئے کسی صحابی کو امیرِلشکر بناکر بھیجا اسے سَرِیَّہ  اور بَعْث کہا۔‘‘     ( نزہۃ القاری ،  کتاب المغازی ،  ج۴ ،  ص۷۳۵ )  

[2]    صدرُ الشریعہ ، بدرُ الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی بہارِ شریعت ، ج۱ ، حصہ۴ ،  ص ۶۵۷ پر نقل فرماتے ہیں   :  ’’وتر کے سوا اور کسی نماز میں   قنوت نہ پڑھے۔ ہاں  !اگر حادثۂ  عظیمہ واقع ہو تو فجر میں   بھی پڑھ سکتا ہے اور ظاہر یہ ہے کہ رکوع کے قبل قنوت نہ پڑھے۔‘‘   ( الفتاوی الرضویہ ،  ج۷ ،  ص۴۹۰۔الدرالمختار ،  کتاب الصلاۃ ،  باب الوتروالنوافل ،  ج۲ ، ص۵۴۱ )

    مدنی مشورہ :  اس مسئلہ کی روشن تحقیق مجدِّدِ اعظم ،  اعلیٰ حضرت ،  امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے رسالہ ’’اِجْتِنَابُ العُمَّال عَنْ فَتَاوٰی الجُہَّالِ‘‘  ( فتاویٰ رضویہ   ( مخرَّجہ )  ،  ج۷ ،  ص۴۸۷ ) اور صدرُ الشریعہ ،  بدرُ الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی    کے رسالہ ’’اَلتَّحْقِیْقُ الْکَامِل فِیْ حُکْمِ قُنُوْتِ النَّوَازِل‘‘  ( فتاویٰ امجدیہ ،  باب الوتر والنوافل ،  ج۱ ، ص۲۰۳ )  پر ملاحظہ فرمائیے۔   ( علمیہ )