Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

طرف تشریف لے جاتے اور چرواہے سمجھتے کہ وہ ہمارے ساتھ ہی ہیں   ۔   ‘‘   ( [1] )

لا شہ آسمان کی طرف اُ ٹھا لیاگیا :  

 ( 349 ) …  اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ جب حضورنبی ٔپاک،   صاحب لولاک،  سیَّاح افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ،   امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق اور حضرت عامر بن فُہَیْرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ زَادَہُمَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاپہنچے تو حضرت عَامر بن فُہَیْرَہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکوبِئْرِ مَعُوْنَہکے دن شہید کردیا گیااور حضرت عَمر و بن اُمَیّہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو قید کرلیا گیا ۔

 عامر بن طفیل نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی شہادت کے بعدان کے لاشے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استفسار کیا :   ’’ یہ کون ہے  ؟  ‘‘  حضرت عَمر و بن اُمَیّہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ یہ حضرت  عَامر بن فُہَیْرَہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہیں   ۔  ‘‘  تو انہوں   نے بتایاکہ ’’ جب ان کوشہید کردیا گیا تومیں   نے دیکھا کہ اِنہیں   آسمان کی طرف اُٹھالیا گیا یہاں   تک کہ میں   انہیں   آسمان کی طرف بلند ہوتے دیکھتا رہا ۔   ‘‘   ( [2] )

فرشتوں   نے دفن کیا :  

 ( 350 ) … حضرت سیِّدُنا امام زُہریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی بیان کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا ابی بن کعب بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے مجھے بتایاکہ ’’   حضورنبی ٔ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قبیلہ ٔ بنی سلیم کی طرف ایک وفد روانہ فرمایا جس میں   حضرت سیِّدُنا عامر بن فُہَیْرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبھی تھے ۔  عامر بن طفیل نے بِئْرِ مَعُوْنَہ کے مقام پران کے خلاف لشکر کشی کی اور انہیں   شہید کر دیا ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا امام زُہریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی  فرماتے ہیں :  ’’ مجھے خبر پہنچی ہے کہ لوگوں   نے حضرت سیِّدُنا عَامر بن فُہَیْرَہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے جامِ شہادت نوش کرنے کے بعد ان کا جسم تلاش کیا اور نہ پاکرسمجھ گئے کہ فر شتو ں   نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے جسمِ اقدس کو دفن کر دیا ہے ۔   ‘‘   ( [3] )

 ( 351 ) … حضرت سیِّدُناہِشَام بن عُرْوَہ اپنے والدرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا سے روایت کرتے ہیں   کہ عامر بن طفیل نے ایک شخص کے بارے میں   انہیں   بتایاکہ ’’   جب اسے شہید کیاگیاتو اس کالاشہ آسمان کی طرف اٹھا لیا گیایہاں   تک کہ میں   نے اسے آسمان کی طرف بلند ہوتے دیکھا ۔ پھرلو گوں   نے مجھے بتایا کہ وہ حضرت سیِّدُنا عَامر بن فُہَیْرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہتھے  ۔   ‘‘   ( [4] )

٭٭٭٭٭٭

حضرت سیِّدُ ناعاصِم بن ثابِترَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناعاصِم بن ثابِت انصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہظاہری وباطنی طہارت ونظافت کے وصف میں   نمایاں   اورایفائے عہد کر نے والے تھے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی زندگی راہِ خدامیں   وقف کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّنے بعد وفات بھی ان کے جسم مبارَک کو کفار کی پہنچ سے دوررکھا ۔

            علمائے تصوُّف فرماتے ہیں   کہ :  ’’  دنیا سے بے رغبتی اور آخر ت کی طرف رغبت رکھنے کانام  تصوُّفہے ۔  ‘‘

شہدکی مکھیوں   کے ذریعے حفاظت:

 ( 352 ) …  حضرت سیِّدُناعاصِم بن عمر وبن قتادہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں   کہ ’’ سرکار مدینہ ،  قرارِقلب وسینہ ،   فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے 6 جان نثار اصحاب کاایک قافلہ روانہ فرمایا جس کا امیر حضرت سیِّدُنا مَرْثَد بن ابی مَرْثَد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکومقرر فرمایا  ۔  ان میں   حضرت سیِّدُنا عاصِم بن ثابت اور حضرت سیِّدُنا خالد بن بُکَیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا بھی شامل تھے ۔ جب یہ سب مقام رجیع پر پہنچے تو قبیلہ ہذیل نے اِنہیں   امان کی پیش کش کی لیکن حضرت سیِّدُنامَرْثَد اورحضرت سیِّدُناعاصِم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے ان کی پیش کش کو ٹھکراتے ہوئے فرمایا :   ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  ہمیں   کسی مشرک کاکوئی عہد قبول ہے نہ اس کی پناہ سے کچھ غرض ۔  ‘‘  یہ سن کر اہل ہذیل طیش میں   آگئے ۔ اور ان سے قتال کیا اورانہیں   شہید کر دیا ۔  حضرت سیِّدُناعاصِم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے چونکہ جنگ اُحد کے موقع پرسُلَافَہ بنت سَعْد کے دو بیٹوں   کوقتل کیا تھا اور اس نے قسم کھائی کہ ’’ اگر مجھے ان کے سر پر قدرت ملی تو میں   اس کی کھوپڑی میں   شراب بھر کر پیوں   گی  ۔  ‘‘  لہٰذاکفارنے حضرت سیِّدُناعاصِم بن ثابِت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے جسم مبارَک سے سرِ اَقدس کو جدا کرنے کا ارادہ کرلیاتاکہ اسے سُلَافَہ بنت سَعْدکے ہاتھوں  فروخت کردیں   اوروہ اپنی قسم پوری کرلے ۔  چنانچہ،   جب کفارِبداطوار،  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا سر کاٹنے کی غرض سے آگے بڑھے تو شہد کی مکھیوں   نے آپ کے جسدمبارَک کے گرد گھیرا ڈال کر دشمنوں   سے چھپا لیااورکسی کو قریب نہ آنے دیا ۔ تووہ یہ کہتے ہوئے وہاں   سے چل دئیے کہ ’’ ابھی چھوڑو ،   شام کو جب مکھیاں   چلی جائیں   گی توہم سر کاٹ کرلے جائیں   ۔  ‘‘  لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھااور اللہ عَزَّوَجَلَّکی کرنی کچھ ایسی ہوئی کہ اس وادی میں   خوب برسات ہوئی اور برسات کا پانی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے مبارَک لاشہ کوبہالے گیا ۔  اس لئے کہ حضرت عاصِم بن ثابِترَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کاعقیدہ تھاکہ مشرکین نجس ہیں   ۔  پس انہوں   اللہ عَزَّوَجَلَّسے عہد کیا تھا کہ ’’   وہ کسی مشرک کو چھوئیں   گے نہ کوئی مشرک انہیں   چُھوئے ۔  ‘‘

            جب یہ واقعہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فارو ق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہتک پہنچاتو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے بندۂ مومن کی حفا ظت



[1]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۲۸۴ ، ج۲۴ ، ص۱۰۶۔

[2]    صحیح البخاری ،  کتاب المغازی ،  باب غزوۃ الرجیعالخ ،  الحدیث : ۴۰۹۳ ، ص۳۳۵۔

[3]    المصنّف لعبد الرزاق ،  کتاب المغازی ،  باب وقعۃ حنین ،  الحدیث : ۹۸۰۴ ، ج۵ ، ص۲۶۲۔

[4]    السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ،  حدیث بئر معونۃ فی صفر سنۃ اربع ،  ص۳۷۶۔



Total Pages: 273

Go To