Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

تبلیغِ دین کے لئے کوششیں :

 ( 339 ) … حضرت سیِّدُنا عُرْوَ ہ بن زُبیررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ جب انصار نے حضورنبی ٔاَکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی گفتگو سنی توانہیں   یقین کی دولت نصیب ہوئی ،   ان کے دل مطمئن ہوگئے اورانہوں   نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رسالت کی تصدیق کی اور ایمان قبول کرکے بھلائی پانے والوں  میں   شامل ہو گئے اور آئندہ سال موسمِ حج میں   ملنے کا وعدہ کر کے اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے ۔ وہاں   پہنچ کر اُنہوں   نے آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طر ف پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس کسی مبلغِ اسلام کو بھیجیں   جو لوگو ں   کو قرآنِ پاک کی طرف بلائے اور لوگ اس کی اتباع کریں   ۔ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قبیلۂ بنی عبدالدار سے تعلُّق رکھنے والے حضر تِ سیِّدُنا مُصْعَب بن عمیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو ان کی طرف روانہ کیا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے قبیلۂ بنی غنم کے اسعد بن زرارہ کے ہاں   قیام فرمایا اور انہیں   قرآن پاک سنایا ۔  پھر حضرت سیِّدُنا سَعْد بن مُعاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس جاکر اسلام کی دعوت دی تو اللہعَزَّوَجَلَّنے اِن کے ہاتھ پر اُنہیں   ہدایت عطا فرمائی ۔ حتی کہ انصار کے اکثر گھرانے ،   ان کے سردارو شرفا اور حضرت سیِّدُناعَمر وبن جَمُوْح رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاسلام لے آئے ،  بت توڑ دئیے گئے ۔ پھر حضرت سیِّدُنا مُصْعَب بن عمیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہواپس بارگاہِ رسالت عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں   لوٹ آئے اور قاری کے نام سے مشہور ہوگئے ۔  ‘‘   ( [1] )

مدینۂ منورہ میں   تبلیغ کی ابتدا :  

 ( 340 ) …  حضرت سیِّدُناامام زُہریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ جب ’’ اہلِ عقبہ ‘‘  شہنشاہِ مدینہ،  قرارِ قلب وسینہ،   صاحبِ معطر پسینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی دعوت پر ایمان لے آئے اوران پر قرآنِ مجید کی آیات تلاوت کی گئیں   تو انہوں   نے حضرت سیِّدُنا مُعاذبن عَفْرَاء اور حضرت سیِّدُنا رافع بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بار گاہ میں   بھیجا کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس کسی ایسے شخص کو بھیجیں   جو لوگوں   کو قرآنِ پاک کے احکام سکھائے اور ہم اس کی پیروی کریں   ۔ حضورنبی ٔ رحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  قبیلۂ بنی عبدالدار سے تعلُّق رکھنے والے حضرت سیِّدُنامُصْعَب بن عُمَیْر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو بھیجا،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مدینہ منورہ زَادَھَااللہ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًامیں   اسلام کی دعوت دیتے رہے،   اللہعَزَّوَجَلَّنے ان کے ہاتھ پر کثیر لوگوں   کو ہدایت عطا فرمائی حتی کہ انصار کے اکثر گھرانے،   ان کے سردار و شرفانیز حضرت عمرو بن جَمُوْح رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم اسلام لے آئے ،   بت توڑ دئیے گئے اور مسلمان مدینہ منورہ  زَادَھَااللہ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًامیں   غالب آگئے پھر حضرت سیِّدُنا مُصْعَب بن عُمَیْر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسرکار  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   واپس لوٹ آئے اور انہیں   قاری کہاجانے لگا  ۔  حضرت سیِّدُناامام زُہریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ ’’  حضرت سیِّدُنا مُصْعَب بن عُمَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہہی وہ پہلے صحابی ہیں   جنہوں   نے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آمد سے قبل مدینہ منورہ زَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًامیں   لوگو ں   کو جمعہ کے لئے جمع کیا ۔   ‘‘   ( [2] )

اللہ عَزَّوَجَلَّسے کیاعہد سچاکردیا :  

 ( 341 ) … حضرت سیِّدُناعبید بن عمیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ جب تاجدارِ رسالت،   شہنشاہِ نُبوت،   محسنِ انسانیتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُحد کے دن جنگ سے فارغ ہوئے تو حضرت سیِّدُنامُصْعَب بن عُمَیْر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو شہید دیکھ کر یہ آیت ِ مبارَکہ تلاوت فرمائی :  

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ

 ترجمۂ کنزالایمان:  مسلمانوں   میں   کچھ وہ مرد ہیں   جنہوں   نے سچا کر دیا جو عہد اللہ سے کیاتھا ۔  ( [3] )

شُہَدا،   سلام کاجواب دیتے ہیں :

 ( 342 ) …  حضرت سیِّدُنا عبید بن عُمَیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ غزوۂ اُحد سے واپسی کے موقع پر سرکار نامدار ،  رسولوں   کے سالار،  مکی مدنی تاجدارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا مُصْعَب بن عُمَیْر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاور دوسرے شہدائے اُحُدکے پاس کھڑے ہو کر فرمایا :   ’’ میں   گواہی دیتا ہوں   کہ تماللہعَزَّوَجَلَّکے ہاں   زندہ ہو ۔  (  اے لوگو  !  )  ان کی زیارت کرو اور ان پر سلام بھیجو ۔  اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   میری جان ہے !  قیامت تک جوبھی ان پر سلام بھیجے گا یہ اسے جواب دیں   گے ۔   ‘‘ ( [4] )

دُنبے کی کھال کالباس :  

 ( 343 ) … امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ حضور نبی ٔ اَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا مُصْعَب بن عُمَیْر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو دنبے کی کھال کا لباس پہنے دیکھا تو فرمایا :   ’’ اس شخص کو دیکھو جس کے دل کو اللہعَزَّوَجَلَّنے منور  ( یعنی روشن  )  فرمادیا ہے ۔  میں   نے اس کی وہ زندگی بھی دیکھی ہے کہ اس کے والدین اسے عمدہ و بہترین خوراک دیتے تھے لیکن اب اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت میں   اس کی یہ حالت ہوگئی ہے ۔   ‘‘   ( [5] )

٭٭٭٭٭٭

 



[1]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۸۴۹ ، ج۰ ۲ ، ص ۲ ۳۶۔

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۸۴۹ ،  ج۰ ۲ ، ص ۲ ۳۶۔

                المعجم الاوسط ،  الحدیث : ۶۲۹۴ ، ج۴ ، ص۳۷۶۔

[3]    المستدرک ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  باب مُصْعَب بن عُمَیْر ،   الحدیث : ۴۹۵۷ ، ج۴ ، ص۲۰۶۔

[4]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۸۵۰ ،  ج۲۰ ، ص

Total Pages: 273

Go To