Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

قبل قبولِ اسلام کا شرف پایا  ۔  جنگِ بدر میں   بھی شریک ہوئے،   حکومتی عہدوں   سے ہمیشہ اجتناب کیا اورعام لوگوں   کی طرح زندگی بسرکی،   اپنے نفس پر غالب رہتے ،   دنیا سے بے رغبت ،   غرو ر وتکبراورفتنۂ وفساد سے کنارہ کش رہتے اور اُخروی سعادتوں   ونعمتوں   کے حصول میں   ہردم کوشاں   رہتے ۔ عبادت میں   مصروف رہتے اور نفسانی خواہشات کی مخالفت کرتے تھے ۔

تحفظ ِ ناموسِ صحابہ :

 ( 303 ) …  حضرت سیِّدُنا رَباح بن حارِث رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت سیِّدُنامُغِیرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہجامع مسجد میں   تشریف فرماتھے اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ارد گر دکوفہ کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران حضرت سیِّدُناسعید بن زَید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہتشریف لائے ،  حضرت سیِّدُنا مُغِیرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ان کااِستقبال کیا اور اپنے قریب تخت پربٹھایا،  پھر اہل کوفہ میں   سے ایک شخص آیا اورحضرت سیِّدُنامُغِیرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے کھڑے ہو کرگالی دینے لگا تو حضرت سیِّدُنا سَعِیْد بن زَید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے پوچھا :  ’’  اے مُغِیرہ !  یہ کس کو گالی دے رہا ہے ؟  ‘‘  کہا :  حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے تین مرتبہ پکارا اے مُغِیرہ ! میں   سن رہا ہوں   کہ تمہارے سامنے صحابہ کرام کو گالیاں   دی جارہی ہیں   اورپھربھی آپ اسے منع نہیں   کرتے  ؟ حالانکہ میں   گواہی دیتا ہوں   کہ میرے کانوں   نے سنااوردل نے یاد رکھا اور میں   نے کبھی حضورنبی ٔ اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے جھوٹی حدیث بیان نہیں   کی کہ کل قیامت میں   جب حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مُلاقات ہو تومجھ سے اس کے بارے میں  دریافت فرمائیں    ۔  بے شک حضور نبی ٔکریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ’’  ابو بکرجنتی ہیں   ،   عمر جنتی ہیں    ۔  عثمان جنتی ہیں    ۔  علی جنتی ہیں   ۔ طلحہ جنتی ہیں   ۔  زُبَیْرجنتی ہیں   ۔  ( عبدالرحمن جنتی ہیں   ۔  )  سَعْد بن مالک جنتی ہیں   اور مؤمنین میں   نواں  بھی جنتی ہے ۔  ‘‘  پھر فرمایا :  ’’ اگر تم چاہو تو میں   اس کانام بھی تمہیں   بتاؤں   ؟  ‘‘  مسجدمیں   موجود سب لوگوں   نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا واسطہ دیتے ہو ئے عرض کی:  ’’ اے صحابی ٔ رسول ’’ بتائیے نواں   شخص کون ہے  ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’  تم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا واسطہ دیا ہے،   سنو !  عظمت والے رب عَزَّوَجَلَّکی قسم !  نواں  مَیں   ہوں   اوردسویں   خود مخبرِ صادق صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں   ۔  ‘‘  پھر قسم اُٹھا کر فرمایا:  ’’ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی معیت میں   جس شخص کا چہرہ غبار آلود ہوااس کا یہ عمل تمہارے تمام اعمال سے افضل ہے اگرچہ تمہیں   حضرت سیِّدُنا نوح عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُُ وَالسَّلَامجتنی عمر دے دی جائے  ۔  ‘‘   ( [1] )

 ( 304 ) …  حضرت سیدنا عبد اللہ بن ظالم مازنیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِی بیان کرتے ہیں   کہ حضرت سیدنا سعید بن زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ایک موقع پریوں  ارشادفرمایا :   ’’ میں   9  ( صحابہ کرام  ) کے بارے میں   گواہی دیتا ہوں   کہ وہ جنتی ہیں   اور اگر میں   نے دسویں   کے بارے میں   گواہی دی توگنہگارنہ ہوں   گا ۔  ‘‘   ( [2] )

جھوٹی عورت اندھی ہوکرمرگئی :  

 ( 305 ) …  حضرت سیِّدُنا ہِشَام بن عُرْوَہ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ اَرْویٰ بنت اُوَیْس نامی ایک عورت نے مَرْوَان کے ہاں   حضرت سیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی شکایت کی کہ ’’   اُنہوں   نے میری  زمین کا کچھ حصہ اپنی زمین میں   شامل کرلیا ہے ۔  ‘‘ حضر ت سیِّدُنا سعیدبن زَید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   میں   ایسا کیسے کرسکتاہوں   ؟  جبکہ میں   نے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سن رکھا ہے کہ ’’ جو کسی کی ایک بالشت زمین پر ناحق قبضہ کرے گا بروزِ قیامت اس کی گردن میں   ساتوں   زمینوں   کا طوق ڈالا جائے گا ۔   ‘‘  مَرْوَان نے کہا :  ’’ اب میں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے کوئی سوال نہیں   کرو ں   گا ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا سعیدبن زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں   عرض کی :   ’’  یااللہعَزَّوَجَلَّ !  اگریہ عورت جھوٹی ہے تو اِسے اندھا کردے اور یہ اپنی زمین میں   ہی مرے ۔  ‘‘ چنا نچہ اس عورت کی بینائی چلی گئی اور وہ اپنی زمین کے گڑھے میں   گر کر مرگئی ۔   ( [3] )

 بالشت بھرزمین پرقبضہ کاعذاب :  

 ( 306 ) …  حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ مَروَان نے کچھ لوگوں   کو حضرت سیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی طر ف اَروَی بنتِ اُوَیْس کی شکایت کے متعلق دریافت کرنے کے لئے بھیجا ۔  حضرت سیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  لوگ سمجھتے ہیں   کہ میں   اس عورت پر ظلم کروں   گا ؟  حالانکہ میں   نے سیِّد ِعالَم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ ’’  جس نے کسی کی ایک بالشت زمین پر بھی ناحق قبضہ کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ بروزِقیامت اسے سات زمینوں   کا طوق پہنائے گا ۔   ‘‘   ( پھربارگاہِ الٰہی میں   عرض کی )   یااللہعَزَّوَجَلَّ !  اگر یہ جھوٹی ہے تو اسے اندھا کر کے مار اور اس کا کنواں   ہی اس کی قبربن جائے  ۔  راوی فرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  وہ اندھی ہوکرمری ،   ہوا یوں   کہ ایک دن وہ اپنے گھر میں   بڑی احتیاط سے چل رہی تھی کہ کنوئیں   میں   گرکرمرگئی اور وہی اس کی قبر بن گیا ۔  ‘‘   ( [4] )

صحابی کی بے ادبی کی سزا:

 ( 308 ) …  حضر ت سیِّدُناابو بکر بن محمد بن عمر و بن حَزْم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے ،  بیان کرتے ہیں  کہ اَرْویٰ بنتِ اُوَیْس نے مَرْوَان بن حَکَم کے ہاں   حضرت سیِّدُنا سعید بن زَید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے خلاف شکایت کی تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں   عرض کی :   ’’ یااللہعَزَّوَجَلَّ !  یہ عورت گمان کرتی ہے کہ میں   نے  اس پر ظلم کیا ہے ۔  اگر یہ جھوٹی ہے تو اسے اندھا کر دے اور اسے اس کے اپنے ہی کنوئیں   میں   موت دے اور میری سچائی مسلمانوں   پر ظاہر فرما دے کہ میں   نے اس پر ظلم نہیں   کیا  ۔  ‘‘  راوی کہتے ہیں   کہ ’’   ابھی یہ معاملہ



[1]    المسند للامام احمد بن حنبل ،  مسند سعید بن زید بن عمرو بن نُفَیْل ،   الحدیث : ۱۶۲۹ ، ج۱ ،  ص۳۹۷۔

[2]    المرجع السابق  ،  الحدیث : ۱۶۴۴ ، ج۱ ،  ص۴۰۰۔

[3]    المعجم الکبیر  ،  الحدیث : ۳۴۲ ، ج۱ ، ص۱۴۹۔

[4]    الاِستِیْعاب فی معرفۃ الاصحاب ،  باب حرف السین  ،   الرقم ۹۸۷سعید بن زید بن عمرو  ،  ج۲ ،  ص۱۸۰۔



Total Pages: 273

Go To