Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠(۳۱) ( پ۲۳،   الزمر :    ۳۱ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑوگے ۔

تومیں   نے عرض کی :  ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  کیا دنیا میں   ہمارے درمیان جن چیزوں   کا جھگڑا ہے ہم قیامت کے دن بھی ان کے متعلق جھگڑیں   گے ؟  ‘‘  ارشاد فرمایا :  ’’ ہاں   !  ‘‘ تومیں   نے کہا :  ’’ پھر تو معاملہ بہت سخت ہے ۔  ‘‘   ( [1] )

حضرتِ سَیِّدُنَاسَعْدبن اَبِی وَقّاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا سَعْد بن ابی وَقَّاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاسلام لانے اورحضورنبی ٔ پاک  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ تکالیف اٹھانے میں   سبقت لے جانے والوں   میں   پہلے ہیں   اورجب دل میں   دینِ اسلام کی حلاوت ومحبت پیدا ہو جائے تو تکالیف اُٹھانا اور دین کی خاطر خاندان والوں   کو بھلانا اور مال قربان کرنا مشکل نہیں   رہتا ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمستجاب الدعوات ( یعنی جس کی ہردعاقبول ہو  )  تھے اور عاجزی و انکساری آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا وصف ِ خاص تھا نیز آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو حکومت اورسیاست بھی عطا ہوئی،  آپ محافظت  ( نگہبانی ) کی آزمائش سے بھی گزرے،   اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ہاتھ پر متعد د شہرفتح کرائے اور کثیر مالِ غنیمت بھی عطافرمایاپھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے حکومت ترک کرکے گوشہ نشینی وتنہائی اختیارکرلی اورباقی ساری عمرعبادت وریاضت میں   گزاردی حتی کہ حکمرانوں   کے امام اور گوشہ نشینوں   کے لئے حجت و دلیل بن گئے  ۔

سابق الایمان :  

 ( 290 ) … حضرت سیِّدُناسَعِید بن مُسَیِّبرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سَعْدبن ابی وَقَّاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  جس دن میں   نے اسلام قبول کرنے کا شرف پایااس دن سے ساتویں   دن تک کوئی اور اسلام نہ لایا اورمیں   اسلام قبول کرنے میں   تیسرا ہوں   ۔  ‘‘   ( [2] )

درختوں   کے پتے کھاتے :  

 ( 291 ) … حضرت سیِّدُناقَیْس بن ابی حَازِم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سَعْد بن ابی وَقَّاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ مجھے یاد ہے کہ ہم حضور نبی ٔکریم ،  رَء ُ وفٌ رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ  تھے اور درختوں   کے پتوں   کے سوا ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہ تھااور پتے کھانے کی وجہ سے ہم بکری کی مینگنیوں   کی مانند پاخانہ کرتے تھے ۔  ‘‘   ( [3] )

 ( 292 ) … حضرت سیِّدُناسَعِید بن مُسَیِّبرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سَعْدبن ابی وَقَّاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ حضورنبی ٔ رحمت،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا عثمان بن مَظْعُوْن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکومجرد ( یعنی غیرشادی شدہ  )  رہنے کی اجازت نہ دی اگر انہیں   اجازت مل جاتی تو ہم بھی اس پر عمل کرتے ۔  ‘‘   ( [4] )

دُعائے مصطفٰی:

 ( 293 ) … حضر تِ سیِّدُنا قَیْس بن ابی حَازِم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناسَعْدبن ابی وَقَّاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : حضور ،  پُرنور،  شافعِ یوم النُشُور،  شاہِ غیور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرے لئے دُعا فرمائی :   ’’ یااللہعَزَّوَجَلَّ !  اس کی تیراندازی درست کردے اور اس کی دعا قبول فرما ۔  ‘‘   ( [5] )

ایک ٹکڑے پر گزارا :  

 ( 294 ) … حضرت سیِّدُناصَالِح بن کَیْسَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ آل سَعْد میں   سے کسی نے کہا کہ ہم نے حضورنبی ٔکریم،   رَء ُوفٌ رَّحیم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ مَکَّۃُ الْمُکَرَّمَہزَادَھَا اللہ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْْمًا میں   بہت تکالیف و سختیاں   بر داشت کیں   اور ان پر صبر کیا ۔  مجھے یاد ہے کہ وہاں   قیام کے دوران ایک رات میں   قضائے حاجت کے لئے نکلاتواچانک مجھے کسی چیز کی آواز سنائی دی ،   دیکھا تو اُونٹ کی کھال کا ایک ٹکڑاپایا،  میں   نے اُسے اٹھایا،   پھر دھوکراسے پکایا اورکھا لیا اور اس پر کچھ پانی پی کر میں   نے تین دن تک اسی غذاپر گزارا کیا ۔  ‘‘   ( [6] )

 ایک چادرکے دوحصے کرلئے :  

 ( 295 ) … حضرت سیِّدُنا حسنرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ بصرہ میں  منبر پر سب سے پہلے خطبہ دینے والے امیرحضرت سیِّدُناعُتْبَہ بن غَزْوَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ’’ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ 7 صحابہ حضورنبی ٔپاک،   صاحبِ لولاک،   سیاح اَفلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تھے،  ان میں   ساتواں   میں   تھااور ہمارے پاس درختوں   کے پتوں   کے سوا کھانے کو کچھ نہیں   تھا جس کی وجہ سے ہماری باچھیں   َچھل گئی تھیں  ،   پھرمجھے ایک چادر مل گئی تو میں   نے اس کے دو حصے کرکے اپنے اور حضرت سَعْد بن مالک کے



[1]    جامع الترمذی  ،  ابواب التفسیر ،  باب ومن سورۃ الزمر ،   الحدیث : ۳۲۳۶ ،  ص۱۹۸۲۔

[2]    سنن ابن ماجہ ،  کتاب السنۃ ،   باب فضل سعد بن ابی وقاص ،   الحدیث۱۳۲ ،  ص۲۴۸۵۔

[3]    مسند ابی داود الطیالسی ،  احادیث سعد بن ابی وقاص ،   الحدیث : ۲۱۲ ، ص۲۹۔

[4]    المرجع السابق ،   ،  الحدیث : ۲۱۹ ، ص۳۰۔

[5]    السنۃ لابی عاصم  ،   باب ماذکر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلمفی فضل سعد  ،  الحدیث : ۱۴۴۴ ، ص۳۲۱۔

[6]    الزہد لہناد بن السری ،  باب معیشۃ اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ،  الحدیث :