Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 284 ) … حضرت ِسیِّدُناوَلِیْد بِن مُسْلِمرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا سعید بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بیان کرتے سنا کہ ’’   حضرت سیِّدُنا زُبَیْربن عَوَام  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ایک ہزار خادم تھے جولوگوں   سے خِراج  ( یعنی ٹیکس ) وصول کرکے آپ تک پہنچایا کرتے تھے اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اسے راتوں   رات تقسیم فرما دیتے پھرجب گھرلوٹتے تو آپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس اس مال میں   سے کچھ بھی باقی نہیں   ہوتا تھا ۔  ‘‘   ( [1] )

 ( 285 ) … حضرت سیِّدُنامُغِیْث بن سُمَی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں   کہ ’’   حضرت سیِّدُنا زُبَیربن عَوَام  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ایک ہزارخادم تھے جو لوگوں   سے خِراج  ( یعنی ٹیکس ) وصول کرکے آپ تک پہنچایا کرتے تھے لیکن جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہگھر تشریف لے جاتے توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس ایک درہم بھی نہ ہوتا ۔  ‘‘    ( [2] )

اللہ  عَزَّوَجَلَّناصرومددگارہے:

 ( 286 ) … حضرت سیِّدُناہِشَام بن عُرْوَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا  عبد اللہ بن زُبَیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  جنگِ جمل کے دن میرے والد ِمحترم ( حضرت سیِّدُنازُبَیْربن عَوَام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) نے اپنے قرض کے متعلق وصیت کرتے ہوئے فرمایا :  ’’ بیٹا ! اگرتم کسی قرض کی ادائیگی سے عا جز آجاؤ تو میرے مولا سے اس پر مدد طلب کرلینا ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُناعبداللہبن زُبَیْر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  :  اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !  میں   والدمحترم کے کلام کی مراد نہ سمجھ سکا ۔ اس لئے دوبارہ عرض کی :   ’’ اباجان ! آپ کا مولا کون ہے  ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّ ۔  ‘‘ ابن زُبَیْر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں :  ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! قرض کی ادائیگی کے معاملے میں   جب بھی مجھے مصیبت کا سامنا ہوا تو میں   نے کہا :   ’’ اے زُبَیْر کے مولا ! ان کے قرض کی ادائیگی کوآسان فرما دے ۔  ‘‘  پس آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا قرض مکمل طو ر پر ادا ہوگیا ۔ جب حضرت سیِّدُنا زُبَیْربن عوا م رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے جامِ شہادت نوش فرمایا توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے کوئی درہم و دینارنہ چھوڑا ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ترکہ میں   صرف غابہ کی دو زمینیں   اورایک گھر تھا ۔ اور دوسری طرف قرضے کا عالم یہ تھا کہ جب کوئی شخص حضرت سیِّدُنا زُبَیْربن عوا م رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  کے پاس امانت رکھنے کے لئے آتا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے: ’’ امانت نہیں   ،   قرض ہے ۔  کیونکہ مجھے اس امانت کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے ۔  ‘‘  لہٰذا جب میں   نے اس کا حساب لگایا تو وہ 20 لاکھ بنا ۔ پس میں   نے وہ قرض ادا کردیا  ۔

             علاوہ ازیں   حضرت عبد اللہ بن زُبَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا طریقہ کار یہ تھا کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ4 سال تک حج کے موسم میں  یہ اعلان کرواتے رہے کہ ’’  جس کا حضرت سیِّدُنا زُبَیربن عَوَام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہپر قرض نکلتا ہووہ آکر لے جائے ۔   ‘‘  جب 4 سال کا عرصہ گزرگیا توحضرت سیِّدُناعبداللہبن زُبَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے بقیہ مال ورثاء میں   تقسیم کردیا،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ورثاء میں   4 بیویاں   تھیں   جن میں   سے ہر ایک کے حصے میں   12،  12 لاکھ آئے ۔  ‘‘  ( [3] )

 ( 287 ) … حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا زُبَیْربن عَوَام  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہجنگِ جمل کے دن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے لشکر کو چھوڑ کر واپس آرہے تھے کہ راستے میں   آپ کے بیٹے عبد اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہملے اوربزدلی کا طعنہ دینے لگے،   حضرت سیِّدُنا زُبَیْر بن عَوَام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  اے بیٹے  !  لوگ جانتے ہیں   میں   بزدل نہیں   ہوں   لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے مجھے ایسی بات یاد دلادی ہے جو میں   نے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنی تھی پس میں   نے قسم کھائی ہے کہ جنگ میں   شریک نہیں   ہوں   گا ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے نے عرض کی :  ’’ آپ اپنے فلاں   غلام کو بلوائیے میں   اس کے ذریعے آپ کی قسم کے کفارے میں   20ہزار اَدا کر دیتا ہوں    ۔  ‘‘ اس کے باوجود آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جنگ میں   شریک نہ ہوئے اوریہ کہتے ہوئے تشریف لے گئے :   

تَرْکُ الْاُمُوْرِ الَّتِیْ اَخْشٰی عَوَاقِبَھَا          فِی اللہ اَحْسََنُ فِی الدُّنْیَا وَفِی الدِّیْن

ترجمہ :   اللہ عَزَّوَجَلَّکے لئے ان کاموں   کو چھوڑ دینا جن کی وجہ سے برے انجام کاخوف ہو،   دین ودنیا کے اعتبار سے بہتر ہے ۔   ( [4] )

پھرتویہ معاملہ بہت سخت ہے :  

 ( 288 ) … حضر تِ سیِّدُناابواُسامَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت ِ مبارَکہ نازل ہوئی :  

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠(۳۱) ( پ۲۳،   الزمر :    ۳۱ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑوگے ۔

            تو حضرت سیِّدُنا زُبَیْر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی :   ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! کیاہم دُنیا کی طرح وہاں   بھی جھگڑیں   گے  ؟  ‘‘  ارشادفرمایا :  ’’  ہاں   !   ‘‘ حضرت سیِّدُنا زُبَیْر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے کہا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم  !  پھر تویہ معاملہ بہت سخت ہے ۔  ‘‘   ( [5] )        

 ( 289 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہ بن زُبَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَااپنے والدحضرت سیِّدُنا زُبَیْربن عَوَام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہیں   کہ جب یہ آیت مبارَکہ نازل ہوئی :  

 



[1]    الزھد للامام احمد بن حنبل  ،  زھد الزُبَیْر بن العَوَام  ،  الحدیث۷۷۵ ،  ص۱۶۷۔

[2]    الاِسْتِیْعَاب فی مَعْرِفۃ الاَصحاب ،  باب حرف الزاء ،   الرقم۸۱۱  ،  الزُبَیْر بن العَوَام  ،  ج۲ ، ص۹۲۔

[3]    صحیح البخاری