Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

ھٰذَا جَنَایَ وَخِیَارُہٗ فِیْہِ        وَکُلُّ جَانٍ یَدُہٗ اِلٰی فِیْہِ

ترجمہ: یہ میری خطاہے اور بہترین مال اس میں   ہے اور ہر خطا کار کا ہاتھ اس کے منہ میں   ہے  ۔

            پھر فرمایا :   ’’ اے ابن نَبَّاج  !  میرے پاس کو فہ والوں   کو لاؤ ۔  ‘‘ لوگو ں   میں   اعلان کر دیا گیا پھرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے بیت المال کا سارا مال لوگو ں   میں   تقسیم فرمادیا اور حالت یہ تھی کہ ہاتھوں   سے مال تقسیم فرماتے جاتے اور زبانِ اَقدس سے یہ کلمات دُہراتے جاتے :   ’’ اے سونا !  اے چاندی ! میرے پاس سے جا ،   ہائے افسوس  !  ہائے افسوس  !  حتی کہ کوئی درہم ودینار نہ بچا پھر بیت المال میں   پانی کے چھڑکاؤ کا حکم دیا اور اس جگہ دو رکعت نماز ادا فرمائی  ۔   ‘‘   ( [1] )

 ( 245 ) … حضرت سیِّدُنامُجَمِّع تَیْمِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم بیت المال کی صفائی کر اتے ،   پھر اس میں   اس امید پرنماز ادا فرماتے کہ بروزِ قیامت یہ جگہ ان کے حق میں   گواہی دے ۔  ‘‘   ( [2] )

 ( 246 ) … حضرت سیِّدُناابو عمرو بن علاء رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہاپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے لوگو ں   کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں    !  تمہارے مال فیٔ ( جو بغیر جنگ کے حاصل ہو  ) میں   سے میرے پاس اس کے سوا کچھ نہیں   ہے یہ کہہ کر اپنی آستین سے ایک بوتل نکالی اور فرمایا یہ میرے دیہاتی غلام نے مجھے ہبہ کی  ( یعنی تحفے میں   دی )  ہے ۔  ‘‘   ( [3] )

 ’’  فالودہ ‘‘  سے خطاب :  

 ( 247 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہ بن شریک رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں   کہ ایک بار امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو کسی نے فالودہ پیش کیا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے سامنے رکھ کر ارشاد فرمایا :  ’’ بے شک تیری خوشبو عمدہ ،   رنگ اچھا اور ذائقہ لذیذ ہے لیکن مجھے یہ پسند نہیں   کہ میں   اپنے نفس کو اس چیز کا عادی بناؤں   جس کا وہ عادی نہیں   ۔  ‘‘   ( [4] )

 ( 248 ) …  حضرت سیِّدُناعَدِی بن ثابت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین مولا مشکل کشا  حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے سامنے فالودہ پیش کیا گیا لیکن آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے تناو ُل نہ فرمایا ۔  ‘‘   ( [5] )

کھجوراورگھی کاحلوا :  

 ( 249 ) …  حضرت سیِّدُنازِیاد بن ملیح رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے سامنے کھجورا ورگھی کا حلوا پیش کیا گیاتو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے اپنے رُفقا کے سامنے رکھ دیا،   انہوں   نے اسے کھانا شروع کردیا توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا :   ’’ اسلام گم شدہ اونٹ نہیں   ہے لیکن قریش نے یہ چیز دیکھی تواس پرٹوٹ پڑے ۔   ‘‘   ( [6] )

مُہرلگاہواستوکا تھیلا :  

 ( 250 ) … حضرت سیِّدُنا عبدالملک بن عمیر رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ ایک ثقفی شخص نے مجھے بتایا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے مجھیعُکْبَرا ( بغدادمیں   ایک علاقہ ہے  )  پر عامل مقرر کیا اور فرمایا :  ’’  نماز پڑھنے والے راتوں   کو آرام نہیں   کرتے لہٰذا ظہر کے وقت میرے پاس آنا ۔  چنانچہ ،   میں   ظہر کے وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضر ہوادروازے پردربان ( یعنی چوکیدار )  نہ ہونے کی وجہ سے میں   سیدھا اندر چلا گیا ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ تشریف فرما تھے اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس ایک پیالہ اور پانی کا لوٹا ر کھا ہوا تھا  ۔  کچھ دیر کے بعد آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنا تھیلا منگوایامیرے دل میں   خیال آیا کہ مجھے کچھ جواہر عطا فرمائیں   گے حالانکہ مجھے نہیں   معلوم تھا کہ اس تھیلے میں   کیا ہے ۔  تھیلا بند تھا ۔  امیر المؤمنین  حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اس کو کھول کر کچھ ستو نکالا اورانہیں   پیالے میں   ڈالااور اس میں   پانی ملایاپھر خو د بھی پیا اور مجھے بھی پلایا ۔ مجھ سے رہا نہ گیاتومیں   نے عرض کی :  ’’  یا امیر المومنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  !  عراق میں   کھانے کی فراوانی ( یعنی کثرت )  ہے لیکن اس کے با وجو د آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ عراق میں   ایسا کھانا کیوں   کھاتے ہیں   ؟  ‘‘  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے فرمایا :  ’’  اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم !    میں   نے کنجوسی و بخل کی وجہ اسے تھیلے میں   بندکرکے نہیں   رکھابلکہ ضرورت کے لئے جمع کررکھا ہے اورتھیلے کو اس ڈرسے بندکر رکھاہے کہ کہیں   ایسا نہ ہو کہ یہ ضائع ہوجائے اور اس کے علاوہ کسی اورچیزکی محتاجی ہو ۔ لہٰذامیں   نے اس کی حفاظت کی خاطر ایساکیا ہے اورمجھے یہ پسند ہے کہ میں   پاکیزہ کھانا ہی کھاؤں   ۔  ‘‘

 ( 251 ) … حضرت سیِّدُنا اَعْمَشرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت ِسیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے پاس مدینہ منورہ زَادَہَااللہ تَعْظِیْمًاوَّتَکْرِیْمًاسے کوئی چیز آیاکرتی تھی جسے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ صبح و شام تناول فرمایاکرتے تھے  ۔  ‘‘

 



[1]    فضائل الصحابۃ للامام احمدبن حنبل ،  اخبارامیرالمؤمنین علی بن ابی طالب ،   الحدیث : ۸۸۴ ، ج۱ ، ص۵۳۱۔

[2]    الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب  ،  الرقم۱۸۷۵علی بن ابی طالب  ، ج۳ ، ص۲۱۱ ، بتغیرٍ۔

[3]    الزہد للامام احمدبن حنبل  ،  زہدامیر المؤمنین علی بن ابی طالب  ،  الحدیث  ۶۹۵ ، ص ۱۵۷ ، بتغیرٍ۔

[4]    الزہد للامام احمدبن حنبل ،   زہدامیر المؤمنین علی بن ابی طالب  ،  الحدیث : ۷۰۷ ، ص۸ ۱۵۔

[5]    الزہد للامام احمدبن حنبل ،   زہدامیر المؤمنین علی بن ابی طالب  ،  الحدیث : ۷۰۰ ، ص۱۵۷۔

[6]    فضائل الصحابۃ للامام احمد بن حنبل ،   اخبار امیر المؤمنین علی بن ابی طالب ،  الحدیث : ۸۹۵ ، ج۱

Total Pages: 273

Go To