Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

اس لئے کہ آج  ( یعنی دنیا ) عمل کا دِن ہے،   یہاں   حساب نہیں   ہے اور کل ( یعنی آخرت )  حساب کادِن ہے وہاں   عمل کاموقع نہیں   ملے گا  ۔  ‘‘   ( [1] )

صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے صبح وشام :  

 ( 236 ) … حضرت سیِّدُنا ابواَرَاکَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں   کہ ایک بار امیر المؤمنین مولا مشکل کشا حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  صبح کی نمازاداکرنے کے بعد آفتاب کے ایک نیزہ بلند ہونے تک اسی جگہ افسردہ حالت میں   تشریف فرمارہے ،  پھر فرمانے لگے کہ ’’  میں   نے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اصحاب کو دیکھا ہے ،  لیکن تم میں   سے کوئی بھی ان کے مشابہ نہیں    ۔  اللہ  عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  وہ صبح اس حال میں   کرتے کہ بال بکھرے ہوتے،   بدن گرد آلوداورچہرہ زردہوتاتھا ایسے لگتا جیسے لوگ ان کے سامنے تعزیت کرنے کے لئے جمع ہیں   اور رات تلاوتِ قرآن کرتے ہوئے کبھی اپنے قدموں   پھر زوردیتے تو کبھی اپنی پیشانیوں  پر ۔  جب وہ اللہ عَزَّوَجَلَّکا ذکر کرتے تو اس طر ح جھومتے جس طر ح آندھی میں   درخت جھومتا ہے ۔  پھر ان کی آنکھیں   اس قدر آنسو بہاتیں   کہ اللہ عَزَّوَجلَّ کی قسم ان کے کپڑے بھیگ جایا کرتے اوراب تو اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !  لو گ غفلت میں   رات گزارتے ہیں    ۔  ‘‘   ( [2] )

گمنام بندوں   کے لئے خوشخبری :  

 ( 237 ) … حضر تِ سیِّدُناحسنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ارشاد فرمایا :   ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے گمنام بندوں   کے لیے خوشخبری ہے ! وہ بندے جوخود تولوگوں   کو جانتے ہیں   لیکن لو گ انہیں   نہیں   پہچانتے اللہ عَزَّوَجَلَّنے ( جنت پرمقررفرشتے )  حضرت سیِّدُنا رِضوان عَلَیْہِ السَّلَامکو ان کی پہچان کرادی ہے یہی لوگ ہدایت کے روشن چراغ ہیں   اور اللہ عَزَّوَجَلَّنے تمام تاریک فتنے اِن پر ظاہر فرما دئیے ہیں   ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ اِنہیں   اپنی رحمت  ( سے جنت )  میں   داخل فرمائے گا ۔  یہ شہرت چاہتے ہیں   نہ ظلم کرتے ہیں   اور نہ ہی ریا کاری میں   پڑتے ہیں   ۔  ‘‘   ( [3] )

کامل فقیہ کون ؟

 ( 238 ) …  حضرت سیِّدُناعاصم بن ضَمْرہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین مولا مشکل کشا حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے فرمایا :  ’’  سنو  !  کامل فقیہ وہ ہے جو لوگوں   کو رحمت ِ الٰہی سے مایوس نہ کرے ،   اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے بے خوف نہ ہونے دے،   اُس کی نافرمانی کی رُخصت نہ دے اور قرآنِ حکیم چھوڑ کر کسی اور چیز میں   رغبت نہ رکھے،   بغیر علم کے عبادت،  بغیرفہم کے علم اور بغیرغوروفکر اور تدبرکے تلاوتِ قرآن میں   کوئی بھلائی نہیں   ۔  ‘‘   ( [4] )

 ( 239 ) …  حضرت سیِّدُنا عَمر و بن مُرَّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ارشاد فرمایا :   ’’ اے لوگو  !  علم کے سرچشمے ،   رات کے چراغ  ( یعنی راتوں   کوجاگ کر عبادت الٰہی کرنے والے  ) ،   بوسیدہ لباس اور پاکیزہ دل والے بن جاؤ اِس کے سبب آسمانوں   میں   تمہارے چرچے ہوں   گے اور زمین میں   تمہارا ذکر بلند ہوگا ۔  ‘‘   ( [5] )

حضرت سیِّدُناعلی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ  الْکَرِیْمکے رِقّت انگیزبیانات

 ( 240 ) … حضرت سیِّدُنابکربن خلیفہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین  حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  نے ارشاد فرمایا :  ’’  اے لوگو  !  اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  اگر تم بچھڑے کی طر ح بے تابی سے آوازیں   نکالو،   کبوتر کی طرح پکارو،   راہبوں   کی طر ح گوشہ نشین ہو جاؤ،   اپنی اولاد ومال چھوڑ کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں   بلند مرتبہ میں   اس کا قرب پانے یا اپنے گناہوں   کو جنہیں  کِرَامًاکَاتِبِیْنْنے گن رکھاہے بخشوانے کے لئے چل پڑو تو یہ سب اس عظیم و کثیرثواب کے مقابلے میں   بہت تھوڑاہے جس کی میں   تمہارے لیے امید کرتا ہوں    ۔  بہرحال میں   تمہیں   اس کے دردناک عذاب سے ڈراتا ہوں  ،   اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم  !  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم  !  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم  !  اگر تمہاری آنکھیں   اس کے خوف اور اس سے ملاقات کے شوق میں   آنسوبہائیں   پھرتم رہتی دنیا تک جیو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہیں   ایمان کی نعمت سے نواز کراس کے سبب جو تمہارے لئے بڑے بڑے انعامات رکھے ان کے لئے تم اعمالِ صالحہ کرکے،   مشقتیں   سہہ سہہ کے کوئی کسرباقی نہ چھوڑو اور تاقیامت نیک اعمال پرقائم رہوپھر بھی تم اپنے عمل کی بدولت جنت کے حق دارنہیں   بن سکتے ۔ ہاں   مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے تم رحم کئے جاؤ گے اورتم میں   انصاف کرنے والے اس کی جنت میں   داخل کئے جائیں   گے  ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں   اور تمہیں   تو بہ کرنے والے عبادت گزاروں   میں   شامل فرمائے ۔  ‘‘

 



[1]    الزھدللامام احمدبن حنبل  ،  زھدامیر المؤمنین علی بن ابی طالب ،   الحدیث : ۶۹۳ ، ص۱۵۶۔

                المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزھد ،   کلام علی بن ابی طالب  ،   الحدیث : ۱ ، ج۸ ، ص۱۵۵۔

[2]    صفۃ الصفوۃ  ،  ابو الحسن علی بن ابی طالب  ،  ج۱ ،  ص۱۷۳ ،  بتغیرٍقلیلٍ۔

[3]    الزھد لھناد بن السری  ،  باب الریاء  ،  الحدیث : ۸۶۱ ، ج۲ ، ص۴۳۷۔

                المصنف لابن ابی شیبۃ  ،   کتاب الزھد ،  کلام علی بن ابی طالب  ،  الحدیث : ۳ ، ج۸ ، ص۱۵۵۔

[4]    سنن الدارمی  ،  المقدمۃ  ،  باب من قال  الخشیۃ وتقوی اللہ ،  الحدیث : ۲۹۷ /  ۲۹۸ ، ج۱ ، ص۱۰۱۔

[5]    سنن الدارمی ،  المقدمۃ ،  باب العمل بالعلمالخ ،   الحدیث : ۲۵۶ ، ج۱ ،  ص۹۲ ،

Total Pages: 273

Go To