Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

کہتے ہیں : ’’ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے وہ رات بڑی بے چینی سے گزاری کہ کس خوش نصیب کو سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجھنڈاعطافرمائیں   گے ۔  ‘‘ صبح حضورنبی ٔ اَکرم،  نور مجسم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسار فرمایا :  ’’ علی بن ابی طالب  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  کہا ں   ہیں    ؟  ‘‘  صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  نے عرض کی :   ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموہ آنکھو ں   کی تکلیف میں   مبتلا ہیں    ۔  ‘‘  ارشاد فرمایا :  ’’  انہیں   میرے پاس لاؤ  !  ‘‘  چنانچہ ،   جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہحاضر خدمت ہوئے تو سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِن کی آنکھو ں   پر اپنا لعاب دہن لگا یا اور ان کے لئے دعافرمائی ۔ اس کی برکت سے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی آنکھیں   فوراً ٹھیک ہو گئیں   اور ایسی ٹھیک ہوئیں   گو یا کہ کبھی تکلیف تھی ہی نہیں   ۔ پھر رسولِ اَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں   جھنڈا عطا فرمایا ،   امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  کیا میں   ان لوگوں   کے ساتھ اس وقت تک لڑوں   جب تک کہ وہ ہماری طرح مسلمان نہ ہو جائیں   ؟  ‘‘  ارشادفرمایا :  ’’ نرمی سے کام لو،  ان کے پاس پہنچ کر پہلے انہیں   اسلام کی طرف بلاؤ پھرانہیں   بتاؤ کہ اسلام قبول کرنے کے بعدان پر اللہ عَزَّوَجَلَّکے کیاحقوق ہیں   ،   اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !  اگر تمہاری وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ایک آدمی کو بھی ہدایت عطا فرمادے ،  تو یہ تمہارے لئے سر خ اُونٹوں   سے بھی بہتر ہے ۔  ‘‘     ( [1] )

 ( 190 ) … حضرت سیِّدُناسَلَمَہ بن اَکْوَع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت،   شہنشاہِ نُبوّتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پہلے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناصدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکوجھنڈا دے کر قلعہ خیبر کی طرف بھیجا لیکن آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکوشش کے باوجود قلعہ فتح نہ کر سکے اور واپس لوٹ آئے  ۔ دوسرے دن سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکوجھنڈا دے کر بھیجاآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے پوری کوشش کی لیکن قلعہ خیبر فتح نہ کرپائے اورواپس چلے آئے تونبی ٔکریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  میں   یہ جھنڈا کل ایسے شخص کو دو ں   گا جو اللہ اور اس کے رسول   سے محبت کرتا ہے ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّاس کے ہاتھ پرفتح عطا فرمائے گا ۔  وہ جب تک فتح نہ پائے گا واپس نہ آئے گا ۔  ‘‘

             حضرت سیِّدُناسَلَمَہ بن اَکْوَع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ حضورنبی ٔاَکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو بلایا،   اس وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہآشوبِ چشم  ( یعنی آنکھوں   کے مرض )  میں   مبتلا تھے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِن کی آنکھوں  پر اپنالعا ب دہن لگایا اور فرمایا :   ’’  یہ جھنڈالواور لڑتے رہو یہاں  تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  تمہارے ہاتھوں   فتح عطا فرمادے  ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُناسَلَمَہ بن اَکْوَع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمجھنڈا لے کر نکلے ،   اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہتیز تیز چلتے رہے اور میں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پیچھے پیچھے چلتا رہا ،   یہاں   تک کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے قلعہ کے نیچے ایک پتھرکی چٹان پرجھنڈانصب فرمایا،   قلعہ کے اُوپر سے ایک یہودی نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے پوچھا :  ’’  تم کون ہو  ؟  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  میں   علی بن ابی طالب ہوں   ۔  ‘‘ تو اُس یہودی نے کہا :  ’’ اب تمہیں   فتح مل جائے گی کیونکہ ہماری کتاب جو حضرت سیِّدُناموسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر نازل ہوئی ( یعنی تورات شریف )  میں   اِسی طرح لکھا ہے  ۔  ‘‘ چنانچہ،  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اس وقت لوٹے جب اللہ عَزَّوَجَلَّنے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ہاتھوں  مسلمانوں   کو فتح عطا فرما دی ۔  ‘‘     ( [2] )

 علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے محبت کرو :  

 ( 191 ) …  حضرت سیِّدُناحسن بن علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ نور کے پیکر،   تمام نبیوں   کے سَرْوَر،   سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’ میرے پاس عرب کے سردار یعنی حیدرِکرّار کو بلا لاؤ ۔  ‘‘ اُم المؤمنین سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی :   ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  کیا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعرب کے سردار نہیں  ہیں   ؟  ‘‘  فرمایا :  ’’  میں   تو اولاد آدم  ( یعنی ساری کائنات  ) کا سردار ہوں   اور علی ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  عر ب کے سردار ہیں   ۔   ‘‘ چنانچہ،  جب امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمحاضر ہوئے تو سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکوانصار کو بلانے کے لئے بھیجا ،  جب انصار حاضر خدمت ہوئے تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  اے انصار کے گر وہ !  کیا میں   تمہیں   وہ بات نہ بتا ؤں   کہ اگر تم اس پر عمل کرو گے تو اس کے بعد کبھی بھی راہ ِراست سے نہ بھٹکو گے  ؟   ‘‘  انصار نے عرض کی: ’’ کیوں   نہیں    ! یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !   ( ضرور ارشاد فرمائیں   )  ۔  ‘‘ آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :   ’’ یہ علی ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) ہیں   ،  تم میری محبت کے ساتھ ساتھ ان سے بھی محبت رکھو اور میری عزّت کے ساتھ ان کی بھی عزّت کرو ۔  ( پھر ارشاد فرمایا )  جس بات کا میں   نے تمہیں   حکم دیاہے یہ جبریلِ امینعَلَیْہِ السَّلَام نے بذریعۂ وحی مجھے بتائی ہے،  یہ حکم اللہ  عَزَّوَجَلَّکی طرف سے ہے ۔  ‘‘   ( [3] )

سیِّدُناعلی المرتضٰیکَرّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے فضائل ومناقب

 ( 193 ) … امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے مروی ہے کہ حسنِ اخلاق کے پیکر ،   محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  میں   حکمت کا گھر ہوں  اور علی  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  اس کا دروازہ ہیں   ۔  ‘‘     ( [4] )

مؤمنین کے سردار :  

 



[1]    صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابۃ ،   باب من فضائل علی بن ابی طالب ،  الحدیث : ۶۲۲۳ ، ص۱۱۰۱۔

[2]    السیرۃ النبویۃ لابن ھشام  ،  شان علی یوم خیبر  ، ج۳ / ۴ ، ص۲۸۴۔

[3]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۲۷۴۹ ،  ج۳ ،  ص۸ ۸۔

[4]    جامع الترمذی ،  ابواب المناقب ،  باب حدیث غریب

Total Pages: 273

Go To