Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

میں   بھی سب سے بڑھ کرہیں   ۔  ( وہ ایسے ہیں   کہ )  اگر تجھ سے بات کریں   تو جھوٹ نہ بولیں  اورتم ان سے بات کر و تونہ جھٹلائیں   اور وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق،   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعثمان بن عفان اور امینِ امت حضرت سیِّدُناابو عبیدہ بن جراح رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ہیں   ۔  ‘‘     ( [1] )

عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی عبادات

 ( 161 ) … حضرت سیِّدُنازبیربن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہہمیشہ رو زہ رکھتے اورابتدائی رات میں   کچھ آرام کرکے پھر ساری رات عبادت میں   بسر کرتے ۔  ‘‘     ( [2] )

 ( 162 ) … حضرت سیِّدُناعبدالرحمن تیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی  فرماتے ہیں : ’’ مجھے ایک بار مقامِ ابراہیم پر رات ہوگئی ۔  میں   عشا کی نمازادا کرکے مقام ابراہیم پر پہنچایہاں   تک کہ میں   اس میں   کھڑا ہوا تو اتنے میں   ایک شخص نے میرے کندھوں   کے درمیان ہاتھ رکھا ۔ میں   نے دیکھا تو وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ تھے ۔ کچھ دیر بعد آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے سو رۂ فاتحہ سے قرآنِ مجید کی تلاوت شروع کی یہاں   تک کہ پورا قرآن مجید ختم کرلیا ۔  پھر رکوع وسجود کر کے نما زختم کی اوراپنے جوتے لے کرچل دیئے ۔  ‘‘ راوی فرماتے ہیں  : ’’ مجھے نہیں   معلوم کہ اس سے پہلے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے کچھ نماز پڑھی تھی یا نہیں   ۔  ‘‘   ( [3] )

 ( 163 ) … حضرت سیِّدُنامحمد بن سیر ین عَلَیْہِرَحْمَۃُ اللہ الْمُبِیْن سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی زوجۂ محترمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا  فر ماتی ہیں : ’’ جب حضرت سیِّدُناعثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکوشہید کرنے کے اِرادے سے دشمنوں   نے گھرکو گھیرا ہوا تھا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاس وقت بھی اس سے بے نیازتھے کہ لوگ انہیں   شہیدکردیں   یا چھوڑدیں   ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہساری رات عبادت کرتے اور ایک ہی رکعت میں   پورا قرآنِ مجید ختم کر لیاکرتے تھے ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 164 ) … حضرت سیِّدُناامام شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی  سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مسروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اَشْتَر سے ملے تو پوچھا: ’’ کیا تو نے امیر المؤ منین حضرت سیِّدُناعثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو شہیدکیاہے ؟   ‘‘ اس نے کہا :   ’’ ہاں   ۔  ‘‘ توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  تو نے رو زہ دار اور عبادت گزار شخص کو شہید کیا ہے ۔  ‘‘  ( [5] )

 ( 165 ) … حضرت سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو شہید کیا گیا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ نے قاتلوں   سے فرمایا :   ’’ تم نے اس شخص کوشہید کیا جو ساری رات عبادت کرتااور ایک رکعت میں   قرآن مجید ختم کرتا ہے ۔  ‘‘     ( [6] )

عثمانِ غنیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے صبرکابیان

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ اَصْفَہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی فرماتے ہیں : ’’  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکومصائب وآزمائش کے آنے اور ان پر شکوہ وشکایت اور بے صبری سے بچنے کی بشارت پہلے ہی دے دی گئی تھی اس لئے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہان حالات میں  صبر کرکے بے صبری سے محفوظ رہے اور شکر کرکے آزمائش میں   بھی اطا عت کرتے رہے ۔  ‘‘  کہا گیا ہے کہ ’’ تصوُّف آزمائش کی سختی میں   صبر کر کی اللہ عَزَّوَجَلَّسے مُناجات کی حلاوت حاصل کرنے کا نام ہے ۔  ‘‘

 ( 166 ) … حضرت سیِّدُناابوموسی اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ میں  مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہزَادَہَا اللہ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًاکے ایک با غ میں   حضورنبی ٔاَکرم ،  نُوْرِمُجَسَّم،   رسولِ محتشمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ تھاکہ ایک شخص آیا اس نے دروازہ کھلوایا ۔  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  اس کے لئے دروازہ کھول دو اوراس مصیبت پر جو اس شخص کو پہنچے گی جنت کی خوشخبری دو ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے  ہیں   میں   نے دروازہ کھولا تو وہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہتھے ۔  ‘‘  میں   نے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان کی ا نہیں   خبردی تو انہوں   نے فرمایا :   ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّمدد گار ہے ۔  ‘‘     ( [7] )

 ( 167 )  … حضرت سیِّدُناعبیداللہ بن عمر و رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ سرکارِدوعالم ،   نورِمجسم،  شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہزَادَھَااللہ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًاکے کسی باغ میں   تھے ۔  ایک پست آواز شخص نے آنے کی اجازت طلب کی،   آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’  انہیں   اندر آنے دواور ایک مصیبت پرجو انہیں   پہنچے گی جنت کی خوشخبری دو ۔  ‘‘ راوی فرماتے ہیں : ’’ وہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہتھے  ۔ میں   نے انہیں   یہ خبر دی تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اس پراَلْحَمْدُلِلّٰہ کہا اور قریب آ کر بیٹھ گئے ۔  ‘‘     ( [8] )

 ( 168 ) … حضرت سیِّدُناابو موسیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو ارشاد فرمایا : 



[1]    المعجم الکبیر  ،  الحدیث : ۱۶ ، ج۱ ، ص۵۶۔

[2]    المصنف لابن ابی شیبۃ  ،  کتاب صلاۃ التطوع و الامامۃ ،   باب من کان یامر بقیام اللیل ،   الحدیث : ۶ ، ج۲ ، ص۱۷۳۔

[3]    الزھد لابن المبارک ،  باب  فضل ذکراللہ  ،  الحدیث : ۱۲۷۶ ، ص۴۵۲ ، بتغیرٍقلیلٍ۔

[4]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۰ ۱۳ ، ج۱ ، ص۸۷۔

[5] <



Total Pages: 273

Go To