Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

تکلیف ہوتی ہے ہوتی رہے ،   جب تک لوگو ں   سے فاقہ کی سختی ختم نہیں   ہوتی تیرے لئے  میرے پاس یہی کچھ ہے ۔  ‘‘     ( [1] )

 ( 116 )  … حضرت سیِّدُناسعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ اُم المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا حَفْصَہ بنت ِ عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے اپنے والدسے عرض کی:  ’’ یاامیر المومنین !  اگر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنرم کپڑا زیب تن فرمائیں   اوراچھا کھانا تناو ُل فرمائیں   تو یہ بہتر ہے اس لئے کہ اللہعَزَّوَجَلَّنے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو وسیع رِزْق اور کیثر مال عطا فرمایا ہے  ۔  ‘‘  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ اے بیٹی !  میں   اس معاملے میں   تیری مخالفت کرو ں   گا،   کیا تجھے یاد نہیں   کہ حضورنبی ٔاَکرم،   نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو زندگی میں   کس قَدَر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ؟  ‘‘ پھرامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حالاتِ زندگی بیان کرنا شروع کئے یہاں   تک کہ اُم المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا رونے لگیں   ۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  جو کچھ تم نے کہا ایسا ہی ہے  ۔ لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  جس قدر مجھ سے ہو سکتا ہے میں   مشکلات میں   آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی اِتباع کرو ں   گا شاید میں   آخرت کی راحت والی زندگی میں   ان کا شریک ہوسکوں   ۔  ‘‘     ( [2] )

لذیذاورعمدہ غذاؤں   سے پرہیز :  

 ( 117 )  … حضرت سیِّدُناحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُناعمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  میں   تم سے بہتر لباس پہن سکتا ہوں   ،   اچھا کھانا کھا سکتاہوں   اور آسائش والی زندگی گزار سکتا ہوں   اور اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !  میں   سینے کے گوشت ،  گھی ،   آگ پر بھُنے ہوئے گو شت ،   چٹنی اور چپاتیوں   سے ناواقف نہیں   ہوں   لیکن  ( استعمال اس لئے نہیں   کرتا کہ  ) میں   نے سنا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے نعمت وآسائش پانے والی قوم کو عار دِلائی ہے  ۔  جیسا کہ اِرشادِخداوندی ہے :  اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَاۚ      ترجمۂ کنزالایمان:  اُن سے فرمایاجائے گاتم اپنے حصہ کی پاک چیزیں   اپنی دنیا ہی کی زندگی میں   فنا کر چکے اور انہیں   بر ت چکے ۔  ( [3] ) ( پ۲۶،   الاحقاف :    ۲۰ )

( 118 ) … حضرت ِسیِّدُناسالِم بن عبداللہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  ہم بھی زندگی کی لذات  چاہتے ہیں   کہ ہم حکم دیں  کہ ہمارے لئے چھوٹی بکری بھُونی جائے اور میدے کی رو ٹی او رمشکیزے میں   نبیذ بنائی جائے یہاں   تک کہ جب گو شت چکور ( یعنی تیترکی مثل پہاڑی پرندے کے گوشت )  کی طرح  ( نرم ) ہو جائے تو اُسے کھائیں   اور اس سے پئیں   لیکن ہم یہ چاہتے ہیں   کہ پاکیزہ چیز وں   کو آخرت کے لئے بچالیں   کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا فرمان ہے :

اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا ( پ۲۶،   الاحقاف۲۰ )  ترجمۂ کنزالایمان:  اُن سے فرمایاجائے گاتم اپنے حصہ کی پاک چیزیں   اپنی دنیا ہی کی زندگی میں   فنا کر چکے  ۔

 ( 119 ) … حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ عراقی لوگوں   کا ایک وفد امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں   حاضر ہوا ۔ کھانے کے وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے دیکھاکہ وہ جسموں   کوطاقتوربنانے کے اندازمیں   کھارہے ہیں   توارشاد فرمایا :  اے اہل ِعراق  !  اگر میں   چاہوں   تو تمہاری طرح عُمدہ کھانے بنو ا سکتاہوں   لیکن ہم دنیا کی ان نعمتو ں   کوچھوڑدیتے ہیں   ،  جوہمیں   آخرت میں   ملیں   گی کیا تم نے اللہعَزَّوَجَلَّکا ایک قوم کے بارے میں   یہ فرمان نہیں   سنا :  

اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا ( پ۲۶،   الاحقاف :    ۲۰ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  اُن سے فرمایاجائے گاتم اپنے حصہ کی پاک چیزیں   اپنی دنیا ہی کی زندگی میں   فنا کر چکے  ۔  ( [4] )

  ( 120 ) … حضرت سیِّدُناحبیب بن ابو ثابت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں   کہ ’’   اہل عراق کا ایک وفد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں   حاضر ہوا ،  جن میں   حضرت سیِّدُنا جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبھی شامل تھے ۔ حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ان کے سامنے ایک بڑا تھال پیش کیا جس میں   رو ٹی اور زیتون کے تیل کا کھانا بنا ہوا تھا اور فرمایا :  ’’  کھاؤ !  ‘‘  انہوں   نے بہت کم کھایا،   تو امیرالمؤمنین  حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  تم یہ کھاناکیوں   نہیں   کھاتے ؟ تم کس چیز کا ارادہ رکھتے ہو کھٹا ،   میٹھا ،   ٹھنڈا،  یا گرم  ؟  پھر اسے پیٹ میں   ڈالو گے  ۔  ‘‘     ( [5] )

دُنیا کا نقصان برداشت کرلو :  

 ( 121 ) … حضرت سیِّدُناخلف بن حو شب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت ِسیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:  ’’ میں   نے اس بات پر غور کیاہے کہ جب دنیا کا ارادہ کرتا ہوں   تو آخرت کو نقصان پہنچا تاہوں   اورجب آخرت کا ارادہ کرتا ہوں   تودنیا کو نقصان پہنچتا ہے لہٰذ ا جب معاملہ اس طر ح کا ہے تو تم  ( آخرت کی بہتری کی خاطر  ) فانی دنیا کا نقصان برداشت کرلیاکرو ۔  ‘‘     ( [6] )

نیکی کی دعوت کے مکتوب:

 



[1]    الزھد للامام احمد بن حنبل ،   زھد عمر بن الخطاب ،  الحدیث : ۶۰۸ ، ص۱۴۵۔

[2]    الزھد للامام احمد بن حنبل ،   زھد عمر بن الخطاب ،  الحدیث : ۶۶۰ ، ص۱۵۲۔

[3]    الزھد لابن المبارک  ،  باب ماجاء فی الفقر  ،  الحدیث : ۵۷۹ ، ص۲۰۴ ، مختصرًا۔

[4]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزھد ،  باب کلام عمربن الخطاب ،  الحدیث : ۳۰ ، ج۸ ،  ص ۱۵۱۔

[5]    

Total Pages: 273

Go To