Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

سیِّدُناابوسعیدخدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ مَحبوبِ رَبُّ العزت،   محسنِ انسانیتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عبرت نشان ہے :   ’’ جو میرے صحابہ ( رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن )   میں   سے کسی کوبھی براکہے اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی لعنت ہو ۔  ‘‘    ( [1] )

                 ایک حدیث ِپاک میں   یہ مضمون بھی موجودہے :  ’’ جس نے میرے صحابہ کو ستایااس نے مجھے ستایااورجس نے مجھے ستایااس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ایذادی اور جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کوایذادی توقریب ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  ( دنیایاآخرت میں   )  اس کی پکڑ فرمائے ۔  ‘‘    ( [2] )

            شارح مشکوٰۃحکیم الا ُمت مفتی احمدیارخان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی نے اس کی شرح میں   حضرت سیِّدُنا اِمام مالک بن اَنَس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کایہ فرمان نقل فرمایا کہ ’’ صحابہ ( رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ) کو بُرا کہنے کایہ عمل عداوتِ رسول کی دلیل ہے ۔  ‘‘   ( مرقاۃ ) اس کے بعد فر ما تے ہیں  : ’’ اور عداوت ِ رسول ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )   عداوتِ رب  ( عَزَّوَجَلَّ ) ہے ۔  ایسا مردود دُوزخ ہی کامستحق ہے ۔  ‘‘  ( [3] )

            اِنہی نُفُوس قُدسیہ میں   سے ایک گروہ ’’ اَصحابِ صُفَّہ ‘‘ کہلاتاہے ۔ یہ حضرات ہروقت مصطفی جان رحمت ،  شمع بزم ہدایتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے درِدولت پرحاضررہتے تھے ۔ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے وہ محبوب وپسندیدہ بندے ہیں   کہ جب ان سے نفرت کرتے ہوئے عُیَیْنَہ بن حَصِیْناوراَقْرَع بن حَابِس وغیرہ نے بارگاہِ رسالت میں   انہیں   دورکرنے کی عرض کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا :   وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْۚ     (  پ۱۵،  الکھف :  ۲۸ )

 ترجمۂ کنزالایمان: اوراپنی جان ان سے مانوس رکھوجوصبح وشام اپنے رب کو پکارتے ہیں   اس کی رضاچاہتے اور تمہاری آنکھیں   انہیں   چھوڑ کراورپرنہ پڑیں   ۔

            جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی توسرکارِ نامدار،  مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُٹھے اور صُفَّہ والوں  کوتلاش کرنے لگے حتی کہ انہیں   مسجدکی پچھلی جانب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذِکرمیں   مشغول پایا توفرمایا :  ’’  تمام تعریفیں   اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں   جس نے مجھے اس وقت تک وفات نہیں   دی جب تک مجھے اپنی امت کے کچھ لوگوں   کے ساتھ اپنی جان کومانوس رکھنے  ( یعنی ان کے پاس بیٹھنے  ) کا حکم نہ دے دیا ۔  لہٰذا میرا جینامرناتمہارے ساتھ ہی ہے ۔  ‘‘   ( [4] )

پیارے اسلامی بھائیو !

            دیکھاآپ نے حضراتِ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کامقام اللہ ورسول  عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہاں   کس قدربلندہے ۔ پس اِیمان واِیقان کاتقاضاہے کہ ہمارے دل صحابۂ کرام اوراولیائے عُظَّام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی عظمت ومحبت اوراُلفت وچاہت سے لبریزہوں   اوریہ بات روزِروشن کی طرح عیاں   ہے کہ کسی سے محبت اس کی اِطاعت واِتباع پراُبھارتی ہے ۔  یقیناحضراتِ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی محبت وعقیدت میں   ڈوب کران کی سیرت پاک کے مختلف حالات وواقعات کامطالعہ کرنااور اس سے حاصل ہونے والے مدنی پھولوں   کے مطابق اپنی زندگی کے شب وروزگزارناعین سعادت ہے اورکیوں   نہ ہوکہ ان کے تقویٰ وپرہیزگاری کی گواہی خودقرآن کریم دے رہاہے  ۔ چنانچہ،   اللہ عَزَّوَجَلَّ اِرشادفرماتاہے :  

وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَاؕ     (  پ۲۶،  الفتح :  ۲۶ )

 ترجمۂ کنزالایمان: اورپرہیزگاری کاکلمہ ان پرلازم فرمایا اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے ۔

            مفسرِشہیر،  حکیم الا ُمت مفتی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس ( یعنی پرہیز گاری کا کلمہ ان پرلازم فرمایا ) کی تفسیرمیں   فرماتے ہیں : ’’ کہ یہ کلمۂ تقویٰ یعنی اِیمان واِخلاص ان سے جداہوسکتا ہی نہیں  ،  اس میں   ان سب کے حسنِ خاتمہ کی یقینی خبر ہے کہ ان صحابۂ کرام ( رَضِوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ) سے دنیامیں   وفات کے وقت،   قبرمیں   ،   حشر میں   تقویٰ جدا نہ ہوسکے گا ۔  ‘‘ اورآخری حصہ  ( یعنی اور ( وہ ) اس کے اہل تھے ) کے تحت فرماتے ہیں :  ’’ کیونکہ ربّ تعالیٰ نے ان بزرگوں   کواپنے محبوب کی صحبت،   قرآنِ کریم کی خدمت،  دِین کی حفاظت کے لئے چُناہے،  اگران میں   کچھ بھی نقصان ہوتا تو اس پاکوں   کے سردارمحبوب کی ہمراہی کے لئے ان کاچناؤنہ ہوتا ۔ موتی ہرڈبیہ میں   نہیں   رکھاجاتااس کے لئے خاص قیمتی ڈبہ ہوتاہے ۔ خیال رہے کہ یہاں   کلمۂ تقویٰ سے مرادیاکلمہ طیبہ ہے یاوفاداری یاہرقسم کی ظاہری وباطنی پرہیزگاری ۔  وَہُوَالظَّاہِر ۔ اس سے معلوم ہواکہ کوئی صحابی فاسق نہیں   تمام متقی وعادل ہیں   جوانہیں   فاسق کہے وہ اس آیت کامنکر ہے ربّ تعالیٰ جس کے ساتھ تقویٰ وپرہیزگاری لازم کردے اسے جداکرنے والاکون ۔  ‘‘  ( [5] )

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !

            اندازہ کیجئے  ! جن نُفُوس قُدسیہ کے زہدوتقویٰ کی گواہی قرآن مجیددے رہاہے اورجنہوں   نے مُعَلِمِ کائنات ،  شاہِ موجوداتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صحبت میں   رہ کربراہِ راست آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے تربیت حاصل کی ہوان کے فضائل وکمالات اورزہد وتقویٰ کاکیاعالَم ہوگا ۔

اللہ اللہ وہ کیالوگ تھے جن لوگوں   نے    چلتے پھرتے میرے آقاکی زیارت کی ہے

آسمانوں  پہ زمینوں  پہ حکومت کی ہے        جس نے میرے آقاکی اِطاعت کی ہے

 



[1]     المعجم الاوسط ،  الحدیث۱۸۴۶ ، ج۱ ، ص۵۰۰۔

[2]     مشکا ۃ المصابیح ،  کتاب المناقب ،  باب مناقب الصحابۃ ،   الفصل الثانی ،  الحدیث : ۶۰۱۴ ، ج۲ ، ص۴۱۴۔

[3]     مراٰۃ المناجیح ، ج۸ ، ص۳۴۳ ، ملخصًا۔

[4]     شعب الایمان للبیہقی ،   باب فی الزھد وقصر الامل  ،  الحدیث : ۱۰۴۹۴ ، ج۷ ، ص۳۳۶۔

[5]     تفسیرنورالعرفان ،  پ۲۶ ، الفتح ،  تحت الآیۃ : ۲۶۔



Total Pages: 273

Go To