Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

عَزَّوَجَلَّ ظاہر فرمادے کہ ہمارے دلوں   میں   مشرکین کی کوئی محبت نہیں  ،  یہ لوگ قر یش کے سردار ،   ائمہ اور پیشو ا تھے ۔  ‘‘  لیکنرسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میر ی رائے پر عمل نہ فرمایا اور مشرکین سے فدیہ لے کر انہیں   چھوڑدیا جب دوسرے دن میں   حضورنبی ٔ مُکَرَّم،  نُورِ مُجسَّم،   رسولِ اَکرم،   شاہ ِبنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   حاضر ہوا تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صدیق اکبر  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  کو روتے ہوئے دیکھا تو عرض کی :  ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  مجھے بتائیے !  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کے رفیق  ( حضرتِ صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )   کو کس چیز نے رُلایا  ؟  اگر مجھے بھی اس چیز کی وجہ سے رو نا آیا تو روؤں   گا ورنہ آپ دونوں   کے رونے کی وجہ سے میں   رونے کی کوشش کروں   گا ۔  ‘‘ حضورنبی ٔکریم ،   رَء ُ و فٌ رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے  ( درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )  فرمایا :   ’’ قیدیوں   سے فدیہ لینے کی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا عذاب اس درخت سے بھی زیادہ قریب آچکا تھا پس اللہ عَزَّوَجَلَّنے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی :   مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِؕ-تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا ﳓ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۶۷)لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۶۸) ( پ۱۰،   الانفال :    ۶۷،   ۶۸ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  کسی نبی کو لائق نہیں   کہ کافروں   کو زندہ قید کرے جب تک زمین میں   ان کا خون خوب نہ بہائے تم لوگ دنیا کا مال چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے اگر اللہ پہلے ایک بات لکھ نہ چکا ہو تا تو اے مسلمانو  ! تم نے جو کافروں   سے بدلے کا مال لے لیا اس میں   تم پر بڑا عذاب آتا  ۔

            امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  : ’’ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّنے مسلمانو ں   کے لئے غنیمت کے اموال کو حلال فرما دیااور آئندہ سال جب اُحد کا معرکہ پیش آیا تو مسلمانوں   نے جوبدر میں   فدیہ وصول کیا تھا اس کے بدلے میں  70مسلمان شہید ہوئے  ۔  ( فتح کے بعددوسرے حملہ میں   )  صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن پسپا ہوئے اور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے کے چار دندان مبارَک  ( کے بعض حصے ) بھی شہید ہوئے اور خَود ( لوہے کی جنگی ٹوپی )  کی کڑیاں   سر میں   چُبھ گئیں   اور حضور نبی ٔمکرم،  نور مجسم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرۂ اَقدس پرخون بہنے لگا تو اللہ عَزَّوَجَلَّنے یہ آیت ِمبارَکہ نازل فرمائی :  

اَوَ  لَمَّاۤ  اَصَابَتْكُمْ  مُّصِیْبَةٌ  قَدْ  اَصَبْتُمْ  مِّثْلَیْهَاۙ-قُلْتُمْ  اَنّٰى  هٰذَاؕ-قُلْ  هُوَ  مِنْ  عِنْدِ  اَنْفُسِكُمْؕ-اِنَّ  اللّٰهَ  عَلٰى  كُلِّ  شَیْءٍ  قَدِیْرٌ(۱۶۵) ( پ۴،   ال عمران :    ۱۶۵ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  کیا جب تمہیں   کوئی مصیبت پہو نچے کہ اس سے دُونی تم پہنچا چکے ہو تو کہنے لگو کہ یہ کہا ں   سے آئی تم فرمادو کہ وہ تمہاری ہی طر ف سے آئی بے شک اللہ سب کچھ کر سکتا ہے ۔  ( [1] )

 ( 102 )  … حضرت سیِّدُناابن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ جب بد ر کے دن کفار کو قید کرلیاگیاتونور کے پیکر،   تمام نبیوں   کے سَرْوَر،   دو جہاں   کے تاجْوَر،   سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مشورہ لیا ۔  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی :   ’’ یہ آپ کی قوم اور خاندان والے ہیں   لہٰذا آپ انہیں   آزاد فرمایادیں   ۔  ‘‘ اورجب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مشورہ لیا تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے انہیں   قتل کر دینے کا مشورہ عرض کیا لیکن آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے فدیہ لے کر انہیں   چھوڑ دیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے یہ آیت ِمبارَکہ نازل فرمائی :  

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى ( پ۱۰،   الانفال :    ۶۷ )

ترجمۂ کنزالا یمان:  کسی نبی کے لائق نہیں   کہ کافروں   کو زندہ قید کرے  ۔

            پھرآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمامیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے ملے تو فرمایا :   ’’ قریب تھا کہ تمہاری مخالفت کی وجہ سے عذاب نازل ہوجاتا  ۔  ‘‘     ( [2] )

آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی رائے پرنُزُولِ آیات:

 ( 103 )  … حضرت سیِّدُنااسماعیل بن عیاش رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں   کہ ’’   میں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو فرماتے ہوئے سنا: جب  ( منافقوں  کاسردار ) عبد اللہ بن ابی سلول مرگیا تو حضورنبی ٔ پاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اس کی نمازِ جنازہ پڑھنے کے لئے بلایا گیا،   جب آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس منافق کی نماز ِجنازہ کے ارادے سے کھڑے ہوئے تو میں   نے عرض کی: ’’ یا رسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  کیا آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّکے دشمن ابن ابی سلول کی نمازِ جنازہ پڑھائیں   گے جس نے فلاں   دن یوں   کہا اور فلاں   دن یوں   کہا  ؟  ‘‘  میں   اس کے برائی کے شمار کرنے لگا اور رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسکراتے رہے یہاں   تک کہ جب میں   نے بارباریہ باتیں   بیان کیں   تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :  اے عمر  !  مجھے چھوڑ دو کیونکہ مجھے نماز پڑھنے یا نہ پڑھنے کاا ختیار دیا گیا تو میں   نے پڑھنے کو ترجیح دی چونکہ منافقین کے بارے میں   فرمایا گیا ہے کہ ’’   آپ ان کے لئے استغفار کریں   یانہ کریں   ۔   ‘‘  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ 70مرتبہ سے زائد استغفار کرنے میں   اس کے لئے بخشش ممکن ہے تو میں   استغفار میں   زیادتی کرلیتا ۔  ‘‘  پھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور اس کے جنازے کے ساتھ بھی چلے حتی کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس کے دفن سے فارغ ہونے تک اس کی قبرپر کھڑے رہے ۔  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   اب مجھے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ جرأت آمیز کلام پر تعجب ہوتا ہے ۔  حالانکہ اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم زیادہ جانتے ہیں   ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھاکہ یہ دو آیتیں   نازل ہوئیں :

 



[1]    المسند للامام احمد بن حنبل  ،  مسند عمر بن الخطاب  ،  الحدیث : ۲۲۱ ، ج۱ ، ص۷۷۔

[2]    المستدرک  ،  کتاب التفسیر ،  سورۃ الانفال ،  الحدیث : ۳۳۲۳ ، ج۳ ، ص۶۱۔



Total Pages: 273

Go To