Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

حالت یہ تھی کہ مسلمان اپنا  ایمان پوشیدہ رکھتے تھے ۔  اورجب کوئی مسلمان ہوجاتا تو کفار اس کے در پے ہوجاتے ۔  وہ اِسے مارتے اور یہ اُنہیں   مارتا ۔

            میں   اپنے ماموں   کے پا س آیا اور ساری صورت حال بتائی اس نے گھر میں   گھُس کر دروازہ بند کر لیاپھر میں   قریش کے ایک بڑے سردار کے پاس گیا اسے اپنے اِسلام کے بارے میں   بتا یا لیکن وہ بھی گھر میں   گھُس گیا میں   نے اپنے دل میں   کہا :  ’’  یہ تو کوئی بات نہ ہوئی لوگ تو مسلمانوں   کو مارتے ہیں   لیکن مجھے کیوں   نہیں   کوئی مارتا  ؟  ‘‘  پھر ایک شخص نے کہا :  ’’ کیا تم سب پر اپنے اسلام کو ظاہر کرنا چاہتے ہو  ؟  ‘‘  میں   نے کہا :  ’’  ہاں   ۔  ‘‘ اس نے کہا :  ’’  جب لوگ حجر ا سود کے پاس جمع ہوجائیں   تو فلاں   کے پاس جاکر اسے اپنے بارے میں   بتا دیناکیونکہ وہ شخص راز کے معاملے میں   ہلکا ہے ۔   ‘‘  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  : ’’ میں   اس کے پاس گیا اور اسے بتا یاکہ میں   نے تمہارا دین چھوڑدیاہے  ۔  ‘‘ اس نے فورا ً بلند آواز سے اعلان کیا :  ’’ ابن خطاب بے دین ہوگیاہے ۔  ‘‘

             اس کا یہ کہنا ہی تھا کہ کفار مجھے مارنے لگے اور میں   بھی انہیں   مارنے لگا اسی دوران میرے ماموں   نے آکر اعلان کیا :  ’’ اے لوگو ! میں   اپنے بھانجے کو پنا ہ دے چکا ہوں   ۔  لہٰذا اب کوئی اسے چھونے کی جرأ ت نہ کرے ۔  ‘‘  سب لوگ مجھ سے دور ہو گئے مگر میں   نہیں   چاہتا تھا ۔  میں   نے کہا :  ’’  دوسرے مسلمانوں   کو زدو کو ب کیا جا تا ہے ۔  لیکن مجھے نہیں   مارا جاتا  ۔  ‘‘  جب لوگ بیت اللہ شریف میں   جمع ہوئے تو میں   اپنے ماموں   کے پا س آیا اور کہا :  ’’ تم سن رہے ہو  ؟   ‘‘ اس نے کہا :   ’’ میں   نے نہیں   سنا تم نے کیا کہا ۔   ‘‘ میں   نے کہا:  ’’ میں   تمہاری پناہ تمہیں   لوٹاتا ہوں    ۔  ‘‘ میرے ماموں   نے کہا :  ’’  ایسا نہ کرو !  ‘‘  لیکن میں   نے اس کی پناہ لینے سے انکار کر دیا ۔ اس نے کہا :  ’’  جیسے تمہاری مرضی ہے  ۔  ‘‘ پھرمیری مار پیٹ ہوتی رہی یہاں   تک کہ اللہ  عَزَّوَجَلَّنے اسلام کو غلبہ عطا فرمادیا ۔  ‘‘     ( [1] )

حق گوئی وصلۂ رحمی :  

            امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فارو ق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی گفتگو سکون و اطمینان،   سنجیدگی اور وقارکے ساتھ ہوتی اورآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہقطعِ رحمی اورفِراق سے اجتناب فرماتے،   احکامِ خدواندی کو پھیلاتے اور مضبوطی کے ساتھ نافذ کرواتے تھے  ۔

             علمائے تصوُّف رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰی فرماتے ہیں   کہ ’’   تصوُّف،   حق کی موافقت اور مخلوق سے دور رہنے کانام ہے ۔  ‘‘

 ( 96 ) …  امیر المؤمنین حضرت ِسیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : ہم آ پس میں   کہاکرتے تھے کہ ’’   کوئی فر شتہ ہے جو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  کی زبان پر بو لتاہے ۔  ‘‘     ( [2] )

 ( 97 )  … امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : ’’ ہم اس بات کو بالکل بعید نہیں   سمجھتے تھے کہ سکینہ و اطمینان امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی زبان پر بو لتاہے ( [3] ) ۔  ‘‘     ( [4] )

 ( 98 ) … حضر ت سیِّدُناعمر وبن میمون رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ  کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں  : ’’ ہم اصحابِ رسول کثیر تعدادمیں   ہونے کے باجود اس بات کا انکار نہیں   کرتے تھے کہ سکینہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی زبان پر بولتا ہے ۔  ‘‘     ( [5] )

  ( 99 ) … حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،   رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّنے عمر فاروق  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )   کی زبان اور ان کے دل پر حق کو جاری فرمادیا ہے ۔  ‘‘     ( [6] )

 ( 100 )  … حضرت سیِّدُناعبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّنے (  قرآن پاک میں   )  تین باتو ں  میں   میری موافقت فرمائی ہے :    ( ۱ ) مقام ابراہیم  ( ۲ )  پردہ اور  ( ۳ )  جنگ بد ر کے قیدیوں   کے بارے میں    ۔  ‘‘     ( [7] )

جنگ ِ بدرمیں   خاص کردار :  

{101 ) … حضرت سیِّدُناعبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں   کہ مجھے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے بتایاکہ جب بدرکے دن اللہ عَزَّوَجَلَّنے مشرکین کو شکست سے دو چار کیاتوان کے 70آدمی قتل ہوئے اور70 ہی قید ہوئے توحُسنِ اَخلاق کے پیکر،  نبیوں   کے تاجور،   مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  سے مشورہ طلب فرمایا اور پوچھا: ’’ اے خطاب کے بیٹے  ( عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) تمہاری ان قیدیوں   کے متعلق کیا رائے ہے  ؟  ‘‘  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’ میں   نے عرض کی ’’  میرا خیال یہ ہے کہ آپ میرا فلاں   رشتے دارمیرے حوالے فرمائیں   میں   اس کی گر دن اُڑاتا ہوں   او راولادِ عقیل ( یعنی حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے چچا کی اولاد )  حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے حوالے کی جائے وہ ان کی گر دن اڑائیں   اور فلاں   حضرت سیِّدُناحمزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے حوالے ہو،   وہ اسے قتل کریں   تا کہاللہ



[1]    دلائل النبوۃ للبیھقی  ،  باب ذکر اسلام عمرالخ  ، ج۲ ،  ص۲۱۶تا ۲۱۹ ، بتغیرٍ قلیلٍ۔

[2]    المصنف لابن ابی شیبۃ  ،   کتاب الفضائل  ،  باب ماذکرفی فضل عمربن الخطاب ،  الحدیث : ۱۴ ،  ج۷ ،  ص۴۸۰ ، بتغیرٍ۔

[3]    یعنی حضرت عمر رَضِیَ اللہ عَنْہ کے کلام ان کی زبان میں   مسلمانوں   کے دلوں   کو چین ہوتا تھا یا وہ فرشتہ جسے سکینہ کہتے ہیں   وہ حضرت عمر رَضِیَ اللہ عَنْہ کی زبان پر بولتا تھا ۔  ( مراٰۃ المناجیح  ، ج۸ ، ص۳۶۷ )

[4]    جامع معمر بن راشد مع مصنف عبد الرزاق  ،   باب اصحاب النبی ،  الحدیث : ۲۰۵۴۸ ، ج۱۰ ،  ص۲۱۸



Total Pages: 273

Go To