Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

تم ان جیسے نہ بن جانا ۔  جلدی کرو جلدی  !  نجات حاصل کرو نجات  !  بے شک موت تمہارے تعاقب میں   ہے اور اس کا معاملہ بہت جلد ہے ۔  ‘‘   ( [1] )

اچھے اَعمال کی ترغیب:

 ( 81 ) … حضرت سیِّدُناعمر وبن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّار  سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا :   ’’ میں   تمہیں   وصیت کرتا ہوں   کہ فقرو فاقہ کی حالت میں   بھیاللہعَزَّوَجَلَّ سے ڈرتے رہو اور اس کی اس طر ح حمد وثنا کر و جس طرح کرنے کا حق ہے اور اپنے گناہوں   کی بخشش مانگتے رہو بے شک وہ بہت زیادہ بخشنے والا ہے ۔  ‘‘

            اس کے بعد حضرت سیِّدُناعمرو بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّار نے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عکیم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکی روایت کی مثل بیان کیا ۔ البتہ اِس روایت میں  اتنازائد بیان کیا کہ ’’ جان لو ! جب تم نے خالصتاً اللہعَزَّوَجَلَّ کے لیے عمل کیا تو تم نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی اطاعت اور اپنے حق کی حفاظت کی ۔  پس تم اپنے بقیہ دنوں   میں   اچھے اعمال کر کے انہیں   اپنی آخرت کے لئے ذخیرہ کرلو تا کہ جب تمہیں   ان کی حاجت پڑے تو تمہیں   ان کا پورا پورا بدلہ دیا جائے  ۔  اے اللہعَزَّوَجَلَّکے بندو !  پھر تم اپنے اسلاف کے بارے میں   غور وفکر کرو کہ وہ کل کہاں   تھے اور آج کہا ں   ہیں   ؟  کہاں   ہیں   وہ بادشاہ جنہوں   نے زمین کو آباد کیا  ؟  لوگ انہیں   بھول چکے اور ان کا ذکر بھلادیا گیا ۔ آج وہ یوں   ہیں   گویا کبھی تھے ہی نہیں   :

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْاؕ- ( پ۱۹،  النمل :  ۵۲ )

 ترجمۂ کنزالایمان :  تو یہ ہیں   ان کے گھر ڈھے پڑے بدلہ ان کے ظلم کا ۔

            اور وہ قبر کی تاریکیوں   میں   پڑ ے ہیں :

 

هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۠(۹۸)(پ۱۶، مریم: ۹۸)

ترجمۂ  کنزالایمان:  کیاتم ان میں   کسی کو دیکھتے ہو یا ان کی بِھنَک سنتے ہو ۔

            کہاں   ہیں   تمہارے جاننے پہچاننے والے دو ست اور بھائی  ؟ جو انہوں   نے آگے بھیجاوہ اس تک پہنچ گئے ۔  کوئی سعادت مندی کوپانے میں  کامیاب ہوا تو کوئی بدبختی کے گڑھے میں   جاگرا ۔  بے شک اللہعَزَّوَجَلَّاور اس کی مخلوق کے درمیان کوئی ایسی قرابت داری نہیں   ہے جس کی وجہ سے وہ اسے بھلائی عطاکرے اوراس سے برائی کودور کر دے ۔  ہاں   جو اس کی اطاعت کرے اور اس کے حکم کی پیروی کرے تو وہ بھلائی کو پانے کا حقدار ہے  ۔ بے شک وہ نیکی نیکی نہیں   جس کے بعد جہنم میں   داخل ہونا پڑے او ر وہ برائی برائی نہیں   جس کے مرتکب کو جنت نصیب ہو  ۔ پس مجھے تم سے یہی کہنا تھا اور میں   اللہعَزَّوَجَلَّسے اپنے اور تمہارے لئے بخشش کا سوال کرتا ہوں   ۔  ‘‘   ( [2] )

خیرسے خالی چارچیزیں :

 ( 82 ) … حضرت سیِّدُنانُعَیْم بن نَمِحَہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا :  ’’ کیا تمہیں   معلوم ہے کہ تم ایک مقررہ مدت کے اندر صبح وشام کر رہے ہو ؟  ‘‘  

            اس کے بعد حضرت سیِّدُنانُعَیْم بن نَمِحَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عکیم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی روایت کی مثل بیان فرمایا ۔ البتہ اِس روایت میں   اتنا زائد ہے کہ  ( ۱ ) …  اس بات میں   کوئی بھلائی نہیں  جس سے اللہعَزَّوَجَلَّکی خوشنودی مقصود نہ ہو  ( ۲ ) …  اس مال میں   کوئی بھلائی نہیں   جسیاللہعَزَّوَجَلَّکی راہ میں   خرچ نہ کیا جائے  ( ۳ ) …  اس شخص میں   خیر نہیں   جس کی جہالت اس کی بر دباری پر غالب آجائے اور ( ۴ ) … اس شخص میں   بھلائی نہیں   جو اللہعَزَّوَجَلَّکے معاملے میں   کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ڈر جائے ۔  ‘‘   ( [3] )

 ( صَــلُّــوْا عَـلَی الْحَــبِـیْب            صَــلَّی اللہ عَــلٰی مُــحَــمَّد )

 سیِّدُنافاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکونصیحتیں :

 ( 83 ) …  حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن عبداللہبن سابِطعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاحِد سے مروی ہے کہ جب امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے امیر المؤمنین حضر ت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو بلایا اور فرمایا: ’’ اے عمر  ! اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرو اور جان لو  !  اللہ عَزَّوَجَلَّنے جس عمل کو دن میں   ادا کرنے کا حکم دیا اگر اسے رات میں   کیا گیاتو وہ اسے قبول نہیں   فرمائے گااور جس عمل کو رات میں   کرنے کاحکم ہے  اگر کسی نے اسے دن میں   کیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّاسے بھی قبول نہ فرمائے گا اور نفل قبول نہیں   فرماتا جب تک فرائض ادانہ کر لئے جائیں   اورجنہوں   نے دُنیا میں   حق کی پیروی کی قیامت کے دن ان کی نیکیوں   کا پلہ بھاری ہو گا اورمیزان پرلازم ہے کہ جب اس میں   حق رکھا جائے تووہ  ( نیکیوں   سے ) بھاری ہوجائے او ر جنہوں   نے دنیامیں   با طل کی پیروی کی بروزِ قیامت ان کی نیکیوں  کا پلہ ہلکا ہو گا اورمیزان پر لازم ہے کہ جب اس میں   باطل رکھا جائے تو وہ ہلکا ہوجا ئے ۔  بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّنے اہل جنت کا ذکر اچھے اعمال سے کیا اور ان کی برائیوں   سے در گزر فرمایا ہے  ۔ پس جب میں   انہیں   یاد کرتا ہوں   توڈرتا ہوں   کہ ان میں   داخل ہونے سے محروم نہ ہو جاؤں  اوراللہ  عَزَّوَجَلَّنے جہنمیوں   کا ذکر ان کے بُرے اعمال کے ساتھ فرمایا اور ان کی نیکیاں   ان کے منہ پرماردیں    ۔ پس جب میں   انہیں   یاد کرتا ہوں   تواللہ  عَزَّوَجَلَّسے امید رکھتا ہوں   کہ میرا انجام



[1]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزھد ،  باب کلام بی بکرالصدیق ،  الحدیث : ۱ ، ج۸ ، ص۱۴۴۔

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۳۹ ، ج۱ ، ص ، ۶۰ ، ۶۱ ،  مختصرًا۔

[3]    المعجم الکبیر ،  الحدیث  ۳۹ ، ج۱ ، ص۶۰۔



Total Pages: 273

Go To