Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 1304 ) … حضرت سیِّدُنااِمام محمدبن سِیْرِیْنعَلَیْہِ رَحِمَہُ اللہ الْمُبِیْنسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’ میں   منبرِ رسول اورحجرۂ عائشہ کے درمیان بے ہوش ہو کر گر جاتاتھااور لوگ مجھے پاگل سمجھتے  تھے حالانکہ میں   پاگل نہیں   تھا بلکہ میری یہ حالت بھوک کی وجہ سے ہوتی تھی ۔  ‘‘   ( [1] )

 

احادیث یادکرنے کاشوق :  

 ( 1305 ) … حضرت سیِّدُنا سعیداورابوسَلَمَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ تم یہ کہتے ہوکہ ابوہریرہ،  حضور نبی ٔکریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بہت حدیثیں   روایت کرتا ہے جبکہ مہاجرین واَنصار ابوہریرہ کی طرح احادیث روایت نہیں   کرتے ۔  ‘‘   ( دراصل بات یہ ہے  ) کہ میرے مہاجرین بھائی تجارت میں  مشغول رہتے تھے اورمیرے انصار بھا ئی اپنے مال میں   ۔  جبکہ میں   صفہ کے مسکینوں   میں   سے ایک مسکین تھا ۔  جب سیر ہو جاتاتو ہمیشہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت میں  رہتا ۔ جب مہاجرین وانصار غائب ہوتے تو میں   بارگاہِ رِسالت عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں   حاضرہوتا اور جب وہ احادیث بھول جاتے تومیں   یادرکھتا  ۔  ‘‘    ( [2] )

خوش حالی میں   خستہ حالی کی یاد :  

 ( 1306 ) … حضرت سیِّدُناامام محمدبن سِیْرِین عَلَیْہِ رَحِمَہُ اللہ الْمُبِیْنبیان کرتے ہیں   کہ ہم حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پا س تھے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کیسری رنگ میں   رنگے ہوئے ’’ کَتان ‘‘  کے دوکپڑے زیب تن کئے ہوئے تھے ۔ ان سے ناک صاف کرتے ہوئے فرمایا :  ’’ بھلا ابوہریرہ کودیکھو ’’ کَتان ‘‘ ( [3] )سے ناک صاف کر رہا ہے حالانکہ ایک وقت تھاکہ میں   منبرِرسول اورحجرۂ عائشہ کے درمیان بے ہوش ہو کر گر جاتاپھر کوئی راہ گیر آتا اور مجھے دیوانہ سمجھ کرمیرے سینے پر بیٹھ جاتاتومیں   اس سے کہتا :   ’’ میں   دیوانہ نہیں   ہوں   ۔  بھوک نے میری یہ حالت بنا رکھی ہے ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 1307 ) … حضرت سیِّدُنامَقْبُرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ لوگ کہتے ہیں   کہ ابوہریرہ بہت احادیث بیان کرتا ہے ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! میں   بھوک کے باعث سرکارِ مدینہ ،   قرارِ قلب وسینہ ،  با عثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دَر اقدس پر پڑا رہتا ۔  حتی کہ میں   خمیری روٹی کھاتانہ ریشمی لباس پہنتا اور نہ ہی غلام اورلونڈی میری خدمت کرتے ۔ میں   بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر چھوٹے

 

چھوٹے پتھر باندھ لیتااورکسی آدمی سے قرآنِ کریم کی کوئی آیت پوچھتا حالانکہ وہ مجھے بھی معلوم ہوتی ۔ اس کامقصد یہ ہوتاکہ وہ مجھے کھانا کھلا دے ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 1308 ) … حضرت سیِّدُناقَیس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   جب میں   حضورنبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   حاضر ہوا تو راستے میں   یہ شعرپڑھتا ہوا آیا :  

یاَ لَیْلَۃً مِّنْ طُوْلِھَا وَعَنَا ئِھَا           عَلٰی اَنَّھَامِنْ دَارَۃِ الْکُفْرِنَجَّتٖ

                ترجمہ :  غم کی شب درازتھی مصائب کادوردوراتھاصدشکر کہ کفرکے گھرسے نجات ملی ۔

            آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ راستے میں   میرا غلام بھاگ گیا ۔ جب میں   بارگاہِ رسالت عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں   حاضرہواتو میں   نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بیعت کی ۔ میں   ابھی حاضرخدمت ہی تھا کہ میرا بھاگا ہوا غلام آ گیا ۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’ اے ابوہریرہ !  یہ تیرا غلام ہے ؟   ‘‘  میں   نے عرض کی :  ’’ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے آزاد ہے اور یوں   میں   نے اسے آزاد کر دیا ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 1309 ) … حضرت سیِّدُنامُسْلِم بن حَیَّانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ میں   نے یتیمی کی حالت میں   پرورش پائی ۔  مسکینی کی حالت میں   ہجرت کی اورمیں   غَزْوَان کی بیٹی کا صرف کھانے پرملازم تھا ( یعنی اجرت میں   صرف کھاناملتاتھا )  ۔  ان کی سواری کے ساتھ پیدل چلتا ۔ جب وہ سوارہوتے تومیں  اس وقت حُدِی خوانی کرکے ان کے جانوروں   کوچلاتا اور جب وہ کسی مقام پر اُترتے توان کے لئے لکڑیاں   جمع کرتا ۔  پس اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ہے کہ اس نے اس دین کو مضبوط بنایا اور ابوہریرہ کو امام  ۔  ‘‘    ( [7] )

 ( 1310 ) … حضرت سیِّدُناابویُونُسرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے لوگوں   کو نماز پڑھائی اور سلام پھیرنے کے بعد بلند آواز سے کہا :   



[1]    صحیح ابن خزیمۃ ،  کتاب الصلاۃ ،  باب عقدالازارعلیالخ ،  الحدیث : ۷۶۴ ، ج۱ ، ص۳۷۵۔

                صحیح البخاری ،  کتاب الصلاۃ ،  باب نوم الرجال فی المسجد ،  الحدیث : ۴۴۲ ، ص۳۷۔

[2]    صحیح البخاری ،  کتاب البیوع ،  باب ماجاء فی قول اﷲ فاذا قضیت الصلاۃالآیۃ ،  الحدیث : ۲۰۴۷ ، ص۱۶۰۔

                صحیح البخاری ،  کتاب المزارعۃ ،  باب ماجاء فی الغرس ،  حدیث : ۲۳۵۰ ، ص۱۸۴۔

[3]    ایک قسم کاباریک کپڑا جس کی نسبت مشہورہے کہ چاندنی رات میں   ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے ۔

[4]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  الحدیث : ۱۷۱ ، ص۶۷۔

[5]    صحیح البخاری ،  کتاب فضائل اصحاب النبی ،  باب مناقب جَعْفَربن ابی طالب ،  الحدیث : ۳۷۰۸ ، ص۳۰۳ ، بتغیرٍ۔

[6]    صحیح البخاری ،  کتاب العتق ،  باب اذا قال لعبدہ ہوﷲ ونوی العتق والاشہادبالعتق ،  الحدیث

Total Pages: 273

Go To