Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

طرف رُخ نہ کرتے ۔ نیزتاجروں  اور مالداروں   سے ملنے جلنے سے پرہیز کرتے ۔  عارضی وفانی دنیاوی  آرائشوں   سے کنارہ کش رہتے ۔  معبودِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کے انعامات سے نفع اٹھانے کے منتظر رہتے  ۔  نرم وملائم اور ر یشمی لباس پہننے سے گریزکرتے ۔ جس کی بدولت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے قوتِ حافظہ اور حکمت ودانشمندی سے بڑاحصہ پایا ۔

اِسلام کے مہمان :  

 ( 1301 ) … حضرت سیِّدُنامجاہدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاحِدسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرمایاکرتے تھے :   اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم جس کے سوا کوئی معبودنہیں   !  میں   بھوک کی وجہ سے پیٹ کے بل لیٹ جاتا تھا اور بھوک کی شدت کے باعث پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا ۔  ایک دن میں   لوگوں   کی عام گزرگاہ پر بیٹھ گیا تومیرے پاس سے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکرصدیقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ گزرے ۔  میں   نے ان سے قرآنِ کریم کی ایک آیت کے متعلق دریافت کیا اور میرے سوال کرنے کا مقصدیہ تھاکہ وہ مجھے کھانا کھلاتے لیکن وہ جواب دے کر چلے گئے اور ایسا نہ کیا ۔  پھر میرے پاس سے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہگزرے تومیں   نے ان سے بھی ایک آیت کے بارے میں   سوال کیا اور سوال کرنے کا مقصدیہ تھا کہ وہ مجھے کھانا کھلاتے لیکن وہ بھی جواب دے کرچلے گئے اورکچھ نہ کیا ۔  اس کے بعد رحمت والے آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے پاس سے تشریف لے جارہے تھے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے دل کی خواہش اور چہرے کی حالت جان گئے اورارشاد فرمایا :   

 

 ’’  اے ابوہریرہ  !  ‘‘  میں   نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  میں   حاضر ہوں    ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ آؤ ۔  ‘‘  

            چنانچہ،  میں   پیچھے پیچھے چل دیا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اندر داخل ہوئے میں   نے اجازت طلب کی تو مجھے اجازت مل گئی ۔  چنانچہ،   میں   بھی اندر چلا گیا  ۔ پھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک پیالے میں  دودھ ملاحظہ فرمایاتو اِسْتِفْسَار فرمایا :   ’’ یہ دودھ کہاں   سے آیا ؟  ‘‘ گھر والوں   نے بتایا :  ’’  یہ فلاں   عورت یامرد نے آپ کے لئے ہدیہ بھیجا ہے ۔  ‘‘  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’ اے ابوہریرہ  !  ‘‘  میں   نے عرض کی :   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  میں   حاضر ہوں   ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ صفہ والوں  کو بلا لاؤ ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  صفہ والے اسلام کے مہمان تھے ۔  وہ اہل وعیال کے پاس جاتے نہ مال کماتے تھے ۔  جب سرورِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس صدقہ آتا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صفہ والوں   کے پاس بھیج دیتے اور خود اس میں   سے کچھ تناول نہ فرماتے اور جب ہدیہ وغیرہ آتا تو خود بھی اس میں   سے تناول فرماتے اور صفہ والوں   کو بھی اپنے ساتھ شریک فرما لیتے ۔  ‘‘   ( [1] )

 ( 1302 ) …  حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ مَیں   بھی صفہ کے ان 70افرادمیں   شامل تھا جن میں   سے کسی کے پاس بھی چادر نہ تھی ۔  صرف تہبندتھایا کمبل  ( موٹی اونی چادر ) جسے وہ اپنی گردن میں   باندھے رہتے تھے ( یعنی گردن میں   باندھ کرلٹکادیتے تھے  ۔ کسی کے آدھی پنڈلی تک پہنچتااورکسی کے ٹخنوں  تک )  ۔  ‘‘    ( [2] )

سیِّدناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی بھوک کاذکر :  

 ( 1303 ) … حضرت سیِّدُناعامررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  میں   اصحاب صفہ میں   سے تھا ۔  ایک دن میں   نے روزہ رکھا ۔  شام کے وقت پیٹ میں   تکلیف کا احساس ہوا تو میں   قضائے حاجت کے لئے چلا گیا ۔  جب واپس آیا تو صفہ والے اپنا کھانا کھا چکے تھے ۔  قریش کے مالدار لوگ صفہ والوں   کے پاس کھانا بھیجا کرتے تھے ۔  میں   نے دریافت کیاکہ ’’   آج کھانا کس کے ہاں   سے آیا تھا ؟  ‘‘ ایک شخص نے بتایا :  

 

 ’’ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمربن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف سے ۔  ‘‘  میں   امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس گیاتو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نماز کے بعد تسبیحات پڑھنے میں   مصروف تھے ۔ میں   انتظار کرنے لگا ۔ جب فارغ ہوئے تومیں   نے قریب ہوکرعرض کی :  ’’  مجھے کچھ پڑھا دیجئے ۔  ‘‘  اور میرا مقصدیہ تھاکہ مجھے کچھ کھانا کھلا دیں   ۔  امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمجھے سورۂ آل عمران کی آیات پڑھانے لگے ۔  پھر جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ گھر پہنچے تو مجھے دروازے پر چھوڑ کر خود اندر چلے گئے کافی دیرہو گئی لیکن واپس تشریف نہ لائے ۔  میں   نے سوچا شایدکپڑے تبدیل فرما رہے ہوں   ۔  پھر میرے لئے گھر والوں   کو کھانے کا حکم دیا ہو لیکن میں   نے وہاں   ایسا کچھ نہ پایا ۔ جب بہت زیادہ دیرہو گئی تو میں   وہاں   سے اُٹھ کر چل دیا ۔  راستے میں   رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ملاقات ہوئی تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’  اے ابوہریرہ !  آج تمہارے منہ کی بُو بہت تیز ہے ۔  ‘‘

            میں   نے عرض کی :  ’’ جی ہاں   !  یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  آج میں   نے روزہ رکھا تھا اور ابھی تک افطار نہیں   کیا اور نہ ہی میرے پاس کچھ ہے جس سے روزہ افطار کروں   ۔  ‘‘  رحمتِ عالم،  نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے اپنے ساتھ چلنے کا فرمایا ۔  میں   ساتھ ساتھ چلتارہا یہاں   تک کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے گھر پہنچ گئے ۔  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک سیاہ فام لونڈی کوبلایا اورارشادفرمایا :  ’’ وہ پیالہ ہمارے پاس لے آؤ ۔  ‘‘  لونڈی نے پیالہ پیش کر دیا ۔  میں   نے دیکھا اس میں   کھانے کا کچھ اثر باقی تھا ۔  مجھے ایسے لگا جیسے اس میں   کسی نے جَو کھائے ہوں   ۔ پیالے کے کناروں   پر کچھ کھانا باقی بچا رہ گیاتھاجو بہت قلیل تھا ۔  میں   نے بِسْمِ اللہ پڑھی اسے اِکٹھا کیا اور کھا لیا حتی کہ شکم سیر ہو گیا ۔  ‘‘    ( [3] )

 



[1]    صحیح البخاری ،  کتاب الرقاق ،  باب کیف کان عیش النبیالخ ،  الحدیث : ۶۴۵۲ ، ص۵۴۲۔

                جامع الترمذی ،  ابواب صفۃ القیامۃ ،  باب قصۃ اصحاب الصفۃ ،  الحدیث : ۲۴۷۷ ، ص۱۹۰۱۔

[2]    صحیح ابن خزیمۃ ،  کتاب الصلاۃ ،  باب عقدالازارعلیالخ ،  الحدیث : ۷۶۴ ، ج۱ ، ص۳۷۵۔

                صحیح البخاری ،  کتاب الصلاۃ ،  باب نوم الرجال فی المسجد ،  الحدیث : ۴۴۲ ، ص۳۷۔

[3]    تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر ،  الرقم۸۸۹۵ابو ہریرۃ الدوسی ، ج۶۷ ، ص۳۲۱۔



Total Pages: 273

Go To