Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہوسیلہ کے اعتبارسے سب سے زیادہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے قریب ہیں   ۔

 

اچھائی اوربرائی کامدار :  

 ( 1297 ) … حضرت سیِّدُناعبد اللہ بن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ارشادفرماتے ہیں :  ’’ بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے بندوں   کے دلوں   پرنظرفرمائی توحضرت سیِّدُنامحمد مصطفیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کواپنامحبوب بنایا ۔ انہیں   اپنی مخلوق کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا ۔ اپنی رسالت کاتاج ان کے سر سجایا اور اپنے علم سے ان کا انتخاب فرمایا ۔  پھر دوبارہ اپنے بندوں   کے دلوں   پر نظر فرمائی تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے جا ں   نثار دوستوں   کا انتخاب فرمایا اورانہیں   اپنے دین کا مددگار اور اپنے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وزیربنایا ۔  پس جسے مسلمان اچھا سمجھیں   وہ  ( اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بھی  )  اچھاہے اور جسے مسلمان برا جانیں   وہ برا ہے ۔  ‘‘    ( [1] )

علم کی اہمیت :  

 ( 1298 ) … حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مرفوعاًروایت ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلِین، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلَمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’ انسان تودو ہی ہیں :  عالمِ دین اورطالب علم اور ان کے علاوہ کسی میں   بھلائی نہیں   ۔  ‘‘    ( [2] )

ہرقدم کے بارے میں   سوال ہوگا :  

 ( 1299 ) … حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار،   ہم بے کسوں   کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’ انسان جوبھی قدم اُٹھاتا ہے اس کے بارے میں   سوال ہوگا کہ کس کام کے ارادے سے اُٹھایا ۔  ‘‘    ( [3] )

طلبِ علم میں   نودِن کاسفر :  

 ( 1300 ) …  حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں   کہ ہم حضور نبی ٔاکرم صَلَّی اللہ

 

تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دربار میں   حاضرتھے کہ ایک سوارآیا اوراس نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے اپنی سواری بٹھادی ۔  پھرعرض کی :  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  میں   9 دن سفر کر کے آپ کی خدمت میں   حاضرہوا ہوں   ۔  میری سواری کمزور ہو چکی ہے ۔  میں   راتوں   کو بیدار اور دن کوبھوکا رہا ہوں    ۔ صرف اس لئے کہ آپ سے ان دو خصلتوں   کے متعلق سوال کروں   جنہوں   نے مجھے جگائے رکھا  ۔  ‘‘ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے استفسار فرمانے پراس نے اپنا نام ’’ زَیْدُ الْخَیْل ‘‘  بتایا توآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :   ’’ نہیں   !  بلکہ تم ’’ زَیْدُ الْخَیْر ‘‘ ہو ۔  اب سوال کرو  ( اور یاد رکھو !  )  بہت سی فضول چیزوں   کے بارے میں   بھی سوال کیا جاتا ہے ۔  ‘‘  اس نے عرض کی :  ’’ جس آدمی کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اس کی کیا علامت ہے اور جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ نہیں   فرماتا اس کی کیا نشانی ہے ؟  ‘‘ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے دریافت فرمایا :  ’’ تم نے صبح کس حالت میں   کی  ؟  ‘‘  اس نے عرض کی :   ’’ میں   نے صبح اس حالت میں   کی کہ مجھے بھلائی،   بھلائی والوں   اور بھلائی پرعمل کرنے والوں   سے محبت تھی اور اگر میں   خود کسی نیکی کو بجا لاؤں   تو اس کا اجر وثواب پانے کا یقین رکھتا ہوں   اور اگرمجھ سے کوئی نیک کام چھوٹ جاتا ہے تو میرے دل میں   اسے کرنے کا شوق ہوتا ہے ۔  ‘‘ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :   ’’ یہ اس شخص کی علامت ہے جس کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اور اس کی علامت جس کے ساتھ وہ بھلائی کاارادہ نہیں   فرماتا یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  تیرے لئے اس کا اُلٹ کر دے اور تجھے اس کے لئے تیار بھی کر دے تو پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ کوتیری کچھ پرواہ نہیں   کہ توجس وادی میں   چاہے ہلاک ہو ۔  ‘‘    ( [4] )

حضرت سیِّدُناابوہرَیْرَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے نام میں   مختلف اقوال ملتے ہیں   ۔  چنانچہ،  بعض نے ’’ عبدُالشمس ‘‘  ذکر کیا ۔  بعض ’’ عبدالرحمن بن صَخْردَوْسِی ‘‘  بیان کرتے ہیں   ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہصفہ والوں   میں   سب سے زیادہ مشہورومعروف ہیں   کیونکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب،   دانائے غُیوب،   مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب صَلَّی

 

 اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ظاہری حیات میں  ایک طویل مدت تک صفہ کواپنا مسکن بنائے ر کھا اور صفہ چھوڑ کر کہیں   نہیں   گئے ۔  اسی وجہ سے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ صفہ میں   مستقل رہنے والے اورکچھ عرصہ کے لئے صفہ میں   ٹھہرنے والے تمام حضرات سے بخوبی واقف تھے ۔ جب پیارے مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صفہ والوں   کو کھانے کے لئے اکٹھا کرناچاہتے توحضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو بھیجتے تھے کیونکہ آپ تمام اہلِ صفہ سے واقف اوران کے منازل ومراتب سے بھی باخبرتھے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مشہورفقرا ومساکین میں   سے ایک ہیں   ۔  شدید فقر وفاقہ کی حالت میں   بھی صبر پر قائم رہے جس کی بدولت دائمی سائے کے حقدار قرار پائے ۔  یہاں   تک کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  درخت لگانے،   نہریں   جاری کرنے جیسے بکھیڑوں  کی



[1]    مسندابی داؤدالطیالسی ،  مااسندعبد اﷲ بن مسعود ،  الحدیث : ۲۴۶ ، ص۳۳ ، بدون ’ ’الی خلقہ‘‘۔

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۲۰۴۶۱ ، ج۱۰ ، ص۲۰۱۔

[3]    فردوس الاخبارللدیلمی ،  باب المیم ،  الحدیث : ۶۴۵۵ ، ج۲ ، ص۳۱۶۔

[4]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۱۰۴۶۴ ، ج۱۰ ، ص۲۰۲۔

                الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی ،  الرقم۲۶۰بشیرمولی بنی ہاشم ، ج۲ ، ص۱۸۳۔



Total Pages: 273

Go To