Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

 

چاہے گا اللہعَزَّوَجَلَّ اسے مستغنی کردے گااورجوہم سے مانگے گاہم اسے عطا کریں   گے اور صبر سے بڑھ کروسیع تر نعمت کسی کو عطانہیں   کی گئی ۔  ‘‘    ( [1] )

مصیبت حسبِ فضیلت آتی ہے :  

 ( 1285 ) … حضرت سیِّدُناابوسَعِیْدخُدْرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں   کہ میں   نے بارگاہِ رسالت میں  عرض کی :  ’’ لوگوں   میں  سخت مصیبت والے کون ہیں   ؟  ‘‘  ارشاد فرمایا :  ’’ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ۔  ‘‘  میں   نے عرض کی :   ’’ پھر کون ؟  ‘‘  ارشاد فرمایا :   ’’ نیک لوگ ۔  ان میں   سے کسی کواس قدرفقرمیں   مبتلا کیاجاتاہے کہ وہ اپنے پاس صرف کھجوریا اس جیسی کسی اور شے کے سواکچھ نہیں   پاتا اورکسی پرجوؤں   کی ایسی آزمائش ڈالی جاتی ہے کہ وہ اپنے جسم سے جوئیں   اُٹھا اُٹھا کر پھینکتا رہتاہے اور یہ وہ لوگ ہیں  جنہیں  فراخی وخوشحالی سے زیادہ آزمائش پرخوشی حاصل ہوتی ہے ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 1286 ) …  حضرت سیِّدُناابوسَعِیْدخدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں   کہ میں   نے رسولِ پاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوارشادفرماتے ہوئے سنا :  ’’ جب اللہعَزَّوَجَلَّ بندے سے راضی ہوتا ہے تو ایسی 7 نیکیوں   سے  ( فرشتوں   وغیرہ کے ذریعے )  اس کی تعریف بیان فرماتاہے جوابھی اس نے نہیں   کی ہوتیں   اور جب وہ کسی سے ناراض ہوتا ہے توایسے 7 گناہوں   سے اس کی برائی بیان فرماتاہے جوابھی اس نے نہیں  کئے ہوتے ۔  ‘‘    ( [3] )

حضرت سیِّدُناسَالِم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا ابوحُذَ یْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے خادِم حضرت سیِّدُناسالم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو بھی اہلِ صفہ میں   ذکر کیا گیا ہے ۔  ہم پہلے بیان کرچکے ہیں   کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جنگ یَمَامَہ میں   شہید ہوئے ۔  اس جنگ میں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے پہلے دائیں   ہاتھ میں   جھنڈا پکڑا جب دایاں   ہاتھ کٹ گیاتوبائیں   ہاتھ میں   تھام لیا ۔ پھرجب یہ بھی کٹ گیا تو اپنی گردن سے پکڑے رکھااوراپنی شہادت تک یہ آیت مبارَکہ تلاوت کرتے رہے :  

 

وَ  مَا  مُحَمَّدٌ  اِلَّا  رَسُوْلٌۚ-قَدْ  خَلَتْ  مِنْ  قَبْلِهِ  الرُّسُلُؕ-اَفَاۡىٕنْ  مَّاتَ  اَوْ  قُتِلَ  انْقَلَبْتُمْ  عَلٰۤى  اَعْقَابِكُمْؕ    ( پ۴،  ال عمران :  ۱۴۴ )

ترجمۂ کنز الایمان :   اور محمد تو ایک رسول ہیں   ان سے پہلے اور رسول ہو چکے تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں   یا شہید ہوں   تو تم الٹے پاؤں   پھر جاؤ گے ۔

خوش اِلْحان قاریٔ قرآن :  

 ( 1287 ) … ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں  کہ ایک رات مجھے اپنے سر تاج،   صاحبِ معراج صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   حاضر ہونے میں   کچھ تاخیر ہو گئی  ۔ جب میں   حاضر ہوئی تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تاخیر کا سبب دریافت فرمایاتومیں   نے عرض کی :  ’’ یارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مسجدمیں   ایک شخص قرآن مجید کی تلاوت کررہا تھامیں   وہ سننے میں   مصروف ہوگئی تھی اوراس جیسی تلاوت میں   نے کبھی نہیں   سنی ۔  ‘‘  چنانچہ،  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُٹھے میں   بھی آپ کے پیچھے چل دی توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ’’  جانتی ہو یہ کون ہیں   ؟  ‘‘  میں   نے عرض کی :  ’’ نہیں   ۔  ‘‘ ارشاد فرمایا :   ’’ یہ ابوحُذَیْفَہ کے آزاد کردہ غلام سالم  ہیں   ۔  ‘‘  پھر فرمایا :   ’’ اللہعَزَّوَجَلَّ کاشکرہے کہ اس نے میری اُمت میں   ایساشخص پیدا فرمایا ہے ۔  ‘‘    ( [4] )

حضرت سیِّدُنا سَالِم بِن عُبَیْداَشْجَعِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناسالم بن عُبَیْداَشْجَعِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں   منقول ہے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبھی صفہ میں   رہے ہیں   لیکن وہاں   سے کوفہ منتقل ہوگئے اورپھرہمیشہ کے لئے وہیں   مقیم ہوگئے ۔

سیِّدُنا صدیقِ اَکبررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی اَفضلیت :  

 ( 1288 ) …  حضرت سیِّدُنا سالم بن عُبَیْدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ جب سرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب وسینہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مرضِ موت نے شدت اِختیارکی توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر غشی طاری ہوگئی ۔ جب کچھ افاقہ ہوا توارشادفرمایا :  ’’ بلال سے کہواذان دے اور ابو بکر سے کہو کہ لوگوں   کو نماز پڑھائے ۔  ‘‘  راوی فرماتے ہیں :

 

 آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپرپھرغشی طاری ہوگئی ( جب کچھ افاقہ ہوا ) توام المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کی :   ’’ میرے والد  ( حضرت ابوبکررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  ) بہت رَقِیْقُ الْقَلْب ( یعنی نرم دل )  ہیں  ،   اگر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی اورکوحکم فرماتے تو اچھا ہوتا ۔  ‘‘  ارشادفرمایا :  ’’ تم حضرت یوسف ( عَلَیْہِ السَّلَام )  کو گھیرے میں   لینے



[1]    صحیح البخاری ،  کتاب الزکاۃ ،  باب الاسعفاف عن المسألۃ ،  الحدیث : ۱۴۶۹ ، ص۱۱۶۔

                المعجم الاوسط ،  الحدیث : ۹۰۴۶ ، ج۶ ، ص۳۵۴ ، بتغیرٍ۔

[2]    المعجم الاوسط ،  الحدیث : ۹۰۴۷ ، ج۶ ، ص۳۵۵۔

                سنن ابن ماجہ ،  ابواب الفتن ،  باب الصبرعلی البلاء ،  الحدیث : ۴۰۲۴ ، ص۲۷۱۹۔

[3]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  مسندابی سعیدالخدری ،  الحدیث : ۱۱۳۳۸ ، ج۴ ، ص۷۷۔

[4]    سنن ابن ماجۃ ،  ابواب اقامۃ الصلوات ،  باب فی حسن الصوت بالقرآن ،  الحدیث : ۱۳۳۸ ، ص۲۵۵۶۔



Total Pages: 273

Go To