Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

            حضرت سیِّدُناسَعْد بن اَبی وَقَّاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو بھی اہلِ صفہ میں   ذکر کیا گیا ہے اور اس پر اس بات سے استدلال کیاگیاہے کہ حضرت سیِّدُنا سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایاکہ یہ آیت مبارَکہ ہمارے حق میں   نازل ہوئی

وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ   ( پ۷،  الانعام :  ۵۲ )

ترجمۂ کنز الایمان :   اور دور نہ کرو انہیں  جو اپنے رب کو پکارتے ہیں   صبح اور شام  ۔

            ہم نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کاذکرمہاجرین سابقین میں   کردیاہے  ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی کنیت ابواِسحاق ہے اورآپ کاوصال مدینہ منورہ زَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًامیں   ’’ عَقِیْق ‘‘  کے مقام پرہوا ۔

 ( 1277 ) … حضرت سیِّدُناسَعْدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  کہ میں   نے بارگاہِ رسالت عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُوَالسَّلَام میں  عرض کی :  ’’ لوگوں   میں  سخت آزمائش کن کی ہوتی ہے  ؟  ‘‘ حضورنبی ٔکریم،  رَء ُوفٌ رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’ انبیاکرام  عَلَیْہِمُ الصلٰوۃُ وَالسَّلَامکی پھردرجہ بدرجہ نیک لوگوں   کی ۔ یہاں   تک کہ بندہ اپنی دینداری کے مطابق آزمائش  میں   مبتلا ہوتا ہے ۔  ایسا ہوتا رہے گاحتی کہ وہ زمین پر بے گناہ ہوکرچلے گا  ۔  ‘‘    ( [1] )

 

اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے بندے :  

 ( 1278 ) …  حضرت سیِّدُناعامربن سَعْدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ میرے والدحضرت سیِّدُناسَعْدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے بتایاکہ میں   نے حضورنبی ٔاکرم،  نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوارشادفرماتے ہوئے سنا کہ ’’ بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ پرہیزگار،   ( مخلوق سے  ) بے نیاز اور گوشہ نشین بندے سے محبت فرماتا ہے ۔  ‘‘    ( [2] )

حضرت سیِّدُناسَعِیْدبِن عَامررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا سعید بن عامِر بن جُذَیْم جَمْحِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوبھی امام وَاقِدِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی کے حوالے سے اہلِ صفہ میں   ذکرکیاگیاہے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کامدینہ طیبہ زَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًامیں   کوئی گھر ہونا معلوم نہیں    ۔ ہم ان  کے حالات ،   دنیا سے بے رغبتی اور فقر کو اختیار کرنا وغیرہ مہاجرین کے تذکرے میں   بیان کرچکے ہیں   ۔    ( [3] )

حضرت سیِّدُناابوعَبدالرَّحْمن سَفِیْنَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضورنبی ٔاکرم،  نُورِمُجَسَّم،  شاہ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خادم حضرت سیِّدُنا ابوعبدالرحمن سَفِیْنَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوحضرت سیِّدُنا یحییٰ بن سعید قَطَّان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کے حوالے سے اہلِ صفہ میں   شمارکیاگیا ہے ۔  حضرت سیِّدَتُنااُم سَلَمَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے انہیں   اس شرط پرآزاد کیا تھا کہ جب تک زندہ رہیں   گے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت کرتے رہیں   گے ۔  چنانچہ،   حضرت سیِّدُناسَفِیْنَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے 10 سال تک حضورنبی ٔ رحمت،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت کا شرف پایا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اہلِ صفہ سے میل جول اوربے پناہ محبت واُلفت رکھتے تھے ۔

زندگی بھرصحبت ِسرکارکی خواہش :  

 ( 1279 ) … حضرت سیِّدُناسَفِیْنَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں   کہ مجھے حضرت سیِّدَتُنااُم سَلَمَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی

 

 عَنْہَانے خریدا اور پھر اس شرط پر آزاد کر دیا کہ جب تک زندہ رہوں  اللہ عَزَّوَجَلَّکے مَحبوب،   دانائے غُیوب،   مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت کروں   ۔  میں   نے کہا :   ’’ مجھے بھی یہی پسند ہے کہ زندگی بھرآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رفاقت میں   رہوں   ۔  ‘‘    ( [4] )

تیرے منہ سے جونکلی وہ بات ہوکے رہی :  

 ( 1280 ) … حضرت سیِّدُناسَعِیْدبن جَمْہَانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنبیان کرتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُناسَفِیْنَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے ان کا نام دریافت کیاتوانہوں   نے فرمایا :   ’’ میں   تمہیں   اپنا نام بتاتا ہوں   میرانام میرے پیارے آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ’’   سَفِیْنَہ ‘‘ رکھا ہے ۔  ‘‘  میں   نے پوچھا: ’’ کیوں   ؟  ‘‘  تو فرمایا :  حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنکے ہمراہ ایک مُہِمّ پر روانہ ہوئے  ۔  دورانِ سفر صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنکے سامان کا بوجھ انہیں   بھاری لگنے لگا توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے ارشاد فرمایا :  ’’ چادربچھاؤ ۔  ‘‘ میں   نے اپنی چادر بچھا دی ۔  پھرسب نے اپنا سامان اس میں   رکھ دیا اوراٹھاکر میرے اوپر لاد دیا ۔  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’ اُٹھاؤ تم سَفِیْنَہ ( یعنی کشتی )  ہو ۔  ‘‘ فرماتے ہیں : ’’ بس اس دن سے یہ حال ہے کہ میں   1یا 2 یا5 یا6 اونٹوں  کابوجھ اُٹھا لوں   تو وہ مجھے بھاری نہیں   لگتا ۔  ‘‘    ( [5] )

 



[1]    جامع الترمذی ،  ابواب الزھد ،  باب ماجاء فی الصبرعلی البلاء ،  الحدیث : ۲۳۹۸ ، ص۱۸۹۲ ، بتغیرٍ۔

[2]    صحیح مسلم ،  کتاب الزھد ،  باب الدنیاسجن للمؤمن وجنۃ للکافر ،  الحدیث : ۷۴۳۲ ، ص۱۱۹۲۔

[3]    الطبقات الکبریٰ لابن سعد ،  الرقم۴۴۸سعیدبن عامربن حِذْیَم ، ج۴ ، ص۲۰۳۔

[4]    سنن ابن ماجہ ،  ابواب العتق ،  باب من اعتق عبداواشترط خدمتہ ،  الحدیث : ۲۵۲۶ ، ص۲۶۲۸۔

                المستدرک ،  کتاب العتق ،  باب العتق علی شرط ،  الحدیث : ۲۹۰۳ ، ج۲ ، ص۵۸۲ ، مفہومًا۔