Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

دے دیتا ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُناخُرَیم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ میں   تو سمجھتا تھا کہ مال ایک ہزار سے زیادہ نہیں   ہوتا ۔  ‘‘    ( [1] )

نعت سنناسنت ہے :  

 ( 1268 ) …  حضرت سیِّدُنا خُرَیم بن اَوس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  کہ میں   ہجرت کر کے حضور سیدعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   حاضر ہوا اس وقت آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غزوۂ تبوک سے واپس تشریف لائے تھے ۔ میں   نے اسلام قبول کرلیا ۔  حضرت سیِّدُنا عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ اقدس میں   اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ ’’   میں   آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعریف کرنا چاہتا ہوں   ۔  ‘‘ آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اجازت مرحمت فرمائی اور دُعا سے بھی نوازا کہ ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّ  آپ کے دانت صحیح وسالم رکھے ۔  ‘‘    ( [2] )

 

حضرت سیِّدُناخُبَیْب بِن یَسَافرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناابوعبدالرحمن خُبَیْب بن یَسَاف بن عُتْبَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکوحافظ ابوعبداللہ نِیْشَاپُوْرِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی کے حوالے سے اہلِ صفہ میں   ذکرکیا گیاہے اور حضرت سیِّدُنا ابوبکربن ابی داؤدرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کابدری صحابی ہونا منقول ہے ۔

 ( 1269 ) … حضرت سیِّدُناخُبَیْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میں   اور میری قوم کا ایک شخص ایسے وقت میں   بارگاہِ رسالت عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں   حاضرہوئے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک غزوہ میں   شرکت کا ارادہ فرما رہے تھے ۔  ہم اس وقت تک مسلمان تونہ ہوئے تھے لیکن  ( آپس میں   )  کہنے لگے کہ ’’   ہمیں   شرم آنی چاہئے کہ ہماری قوم تو جہاد میں   حصہ لے اور ہم ان کا ساتھ نہ دیں   ۔  ‘‘ حضورنبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِسْتِفْسَار فرمایا :   ’’ کیا تم دونوں   اِسلام قبول کر چکے ہو ؟  ‘‘  ہم نے عرض کی :   ’’ نہیں   ۔  ‘‘  توارشاد فرمایا :   ’’ ہم مشرکین سے مدد حاصل نہیں   کرتے ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا خُبَیْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ’’ پھرہم اسلام لے آئے اورآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ جہاد میں   شریک ہوئے ۔ دورانِ جنگ ایک شخص نے مجھے زخم لگادیاتو میں   نے اسے قتل کرڈالا اور بعدکومیں   نے اس کی بیٹی سے شادی کرلی تووہ کہا کرتی تھی: ’’ میں   ایسے شخص کوگم نہ کروں  جس نے تمہیں   یہ زخم لگایا ۔  ‘‘  اورمیں   اس سے کہتاتھا :  ’’ توایسے شخص کوگم نہ کرجس نے تمہارے باپ کو جلد جہنم میں   پہنچایا ۔  ‘‘    ( [3] )

حضرت سیِّدُنا دُکَیْن بِن سَعِیْد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا دُکَین بن سعید مُزَنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کاشماربھی اہلِ صفہ میں   ہوتاہے اور ایک قول کے مطابق آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ خَثْعَمِیہیں   ۔  کوفہ میں   رہتے تھے ۔  400 آدمیوں   کی جماعت کے ہمراہ بارگاہِ رسالت عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں   حاضر ہوئے اور کھانا طلب کیا ۔  پیارے آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سب کو کھانا کھلایا اور ان کے زادِ راہ کا اہتمام فرمایا ۔

 

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہاَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی فرماتے ہیں : ’’ حضرت سیِّدُنادُکَین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے صفہ کواپنامسکن بنانے اوروہاں   ٹھہرنے کی کوئی روایت میرے علم میں   نہیں   ۔  ‘‘

ایک معجزے کابیان :  

 ( 1270 ) … حضرت سیِّدُنا دُکَین بن سعیدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ ہم 400 سوار بارگاہِ نبوی عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں   حاضرہوئے اورکھانا طلب کیا ۔  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’ اے عمر !  جاؤ انہیں   کھاناکھلاؤاورکچھ زادِ راہ عطاکرو ۔  ‘‘ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی :   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  میرے پاس صرف کچھ صاع کھجوریں   ہیں   جو مجھے اور میرے اہل و عیال کو بمشکل کفایت کریں   گی ۔  ‘‘ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سے فرمایا :  ’’ سنو اور اطاعت کرو ۔  ‘‘  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا :   ’’ ہم نے حکم سنااور اطاعت کی ۔  ‘‘  یہ کہہ کرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ چل پڑے یہاں   تک کہ ایک کمرہ کے پاس پہنچے ۔  اس کی چابی نکالی اور دروازہ کھول دیا ۔  لوگوں   سے کہنے لگے :  ’’ اندر داخل ہو جاؤ ۔  ‘‘  میں   سب سے آخر میں   اندر داخل ہوا کچھ کھجوریں   لیں   پھر دیکھا تو کھجوروں   کا ایک بڑا ڈھیر ابھی باقی تھا ۔  ‘‘    ( [4] )

            حضرت مصنف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ یہ حدیث صحیح ہے ۔ اسے حضرت اسماعیل عَلَیْہ ِرَحْمَۃُ اللہ الْوَکِیْلسے بہت لوگوں   نے روایت کیاہے اوریہ ( یعنی کھجوروں  کابڑھ جانا ) حضورانورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے معجزات میں   سے ایک معجزہ ہے ۔  ‘‘

حضرت سیِّدُناعَبْداللّٰہ ذوالْبِجَادَیْن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناعبداللہ ذُوالْبِجَادَیْنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوحضرت علی بن مدینی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِیکے حوالے سے اہلِ صفہ میں   ذکر کیا گیا ہے ۔  ہم پیچھے مہاجرین سابقین میں   ان کا ذکر



[1]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۴۱۶۸ ، ج۴ ، ص۲۱۳۔

[2]    المستدرک ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  باب انشادالعبَّاس فی مدح النبی بحضرتہ ،  الحدیث : ۵۴۶۸ ، ج۴ ، ص۳۹۱۔

[3]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  حدیث جد خُبَیْب ،  الحدیث : ۱۵۷۶۳ ، ج۵ ، ص۳۴۵۔

[4]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۴۲۰۷ ، ج۴ ، ص۲۲۸ ، بتغیرٍ۔



Total Pages: 273

Go To