Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

ارشاد فرمایا :  ’’ اے معا ذ !  بے شک مومن اللہعَزَّوَجَلَّکا اسیر ہوتاہے اور جانتاہے کہ اس پراور اس کے کان،  آنکھ،   زبان ،   ہاتھ،   پاؤں   ،   پیٹ ،   شر مگاہ پر نگہبان مقرر ہے جو اس کو اُنگلی کے ساتھ مٹی سے کھیلتے ،   سرمہ لگاتے اور تمام اعمال کرتے حتی کہ ہر لمحے اسے دیکھ رہا ہے ۔ بے شک مومن کادل نہ تو امن میں   ہوتاہے او رنہ ہی اس کا خوف و اضطراب جاتا ہے ۔  اسے صبح وشام موت کا انتظار رہتا ہے ۔  تقویٰ اس کادوست،  قرآن اس کی دلیل،   خوف اس کی حجت ،   شرافت اس کی سواری ،   احتیاط اس کا ہم نشیں   ،   خشیت ِالٰہی اس کا شعار ،   نماز اس کی جائے پناہ ،   روزہ اس کی ڈھال ،   صدقہ اس کی آزادی کا پر وانہ ،   صدق اس کا وزیر ،   حیااس کی امیراوراللہعَزَّوَجَلَّکی ذات ان تمام پر نگہبان ہے ۔

            اے معاذ  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  !  قرآن مومن کو بہت سی نفسانی خواہشات وشہوات سے روک دیتا ہے اور ( قرآنِ کریم )  اللہعَزَّوَجَلَّکے اِذن سے بندے اور خواہشات و شہوات کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ۔

            اے معا ذ ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  !  میں   تیرے لئے بھی وہی پسند کرتا ہوں   جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں   اور میں   تمہیں   ان چیز وں   سے منع کرتا ہوں   جن چیزوں   سے حضرتِ جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے مجھے روکا ہے  ۔ پس قیامت کے دن تم مجھے اس حال میں   ملو گے کہ تم سے زیادہ کوئی سعادت مند نہیں   ہوگا ۔  ‘‘   ( [1] )

ایمان کی مٹھاس

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہاَصْفَہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’  اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام کی محبت حق تعالیٰ کے لئے ہوتی ہے اور وہ حق تعالیٰ کی راہ میں   ہی جیتے اور مرتے ہیں   ۔  حق تعالیٰ کے سوا ساری مخلوق ان کا قرب پاتی اور اپنے غم بھول جاتی ہے ۔

 ( 61 ) … حضرت سیِّدُنااَنس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ نور کے پیکر،   تمام نبیوں   کے سَرْوَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ 3 باتیں   جس میں   ہوں   گی وہ ایمان کی مٹھاس کو پالے گا:   ( ۱ ) … اُسے اللہعَزَّوَجَلَّاور اس کا رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں   ۔   ( ۲ ) …  اسے آگ میں   ڈالا جانا کفر کی طرف لوٹنے سے زیادہ پسند ہو جبکہاللہ عَزَّوَجَلَّنے اسے آگ سے بچالیا ہو اور  ( ۳ ) …  وہ کسی شخص سے محض اللہعَزَّوَجَلَّکی خاطر محبت کرے ۔  ‘‘   ( [2] )

 ( 62 ) … حضرت سیِّدُنااَنس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ نبی ٔکریم ،  رَءُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’  جس شخص میں   تین خصلتیں   ہوں   گی وہ ایمان کی مٹھاس کوپالے گا :   ( ۱ ) …  اللہعَزَّوَجَلَّاوراس کا رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماسے تمام چیزوں   سے زیادہ محبوب ہوں   ۔  ( ۲ ) … محضاللہعَزَّوَجَلَّکی خاطرکسی سے محبت کرے ۔   ( ۳ ) … کفرسے نجات ملنے کے بعددوبارہ اس میں   لوٹ جانے کواس طرح ناپسندکرے جس طرح آگ میں   ڈالے جانے کوناپسند کرتاہے ۔  ‘‘   ( [3] )

مشکل اَحوال اورپاکیزہ اَخلاق کا نام تصوُّف ہے

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ اَصْفَہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی فرماتے ہیں   کہ ’’   حضرت سیِّدُنامعا ذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی حدیث اور اس کے علاوہ روایا ت سے ثابت ہوتا ہے کہ تصوُّف مشکل احوال اورپاکیزہ اَخلاق کانام ہےاوراحوال،  صوفیائےکرامرَحِمَہُمُ اللہ السَّلَامکومغلوب کرکےاسیربنالیتےہیں   ۔ صوفیائےکرامرَحِمَہُمُ  اللہ السَّلَامجب اَخلاق کا علم حاصل کرتے ہیں   تو وہ ان کے سامنے بالکل ظاہر ہو کر انہیں   حق تعالیٰ کی خالص عبادت سے آراستہ کرتے ہیں   ۔  لہٰذا وہ حیرت کے راستوں   سے بچتے اور حق تعالیٰ سے تعلق ٹوٹ جانے سے محفوظ رہتے ہیں   ۔  وہ حق تعالیٰ سے ہی مانوس ہوتے اور اسی سے راحت و آرام پاتے ہیں   ۔  پس وہ ایسے دلوں   کے مالک ہیں   جو اپنے نورِ فراست سے اُمورِ غیبیہ کو جان لیتے اوراپنے محبوب کا مراقبہ کرتے ہیں   ۔  حق سے منحرف شخص کو چھوڑدیتے اور حق ہی کے لئے جنگ کرتے ہیں   ۔ وہ صحابۂ کرام و تابعین عُظَّام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں   ۔ وہ  جو لوگوں  میں   سے پھٹے پرانے لباس میں   ملبوس بقاو فنا کو جاننے والے،   اِخلاص و ریامیں   تمیز کرنے والے،  وسوسوں   اور عزیمت و نیت کو جاننے والے،  باطنی عُیُوب کامحاسبہ کرنے والے،  رازوں   کی محافظت کرنے والے،   نفس کی مخالفت کرنے والے اورہر وقت غور و فکر اور ذکر و اَذکار میں   مشغول رہنے کے ذریعے شیطانی وسوسوں   سے بچنے والے ہیں   ۔ لوگ ان صوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَامکا قرب چاہتے ہوئے اور سستی و کوتاہی سے جان چھڑاتے ہوئے ان کی پیروی کرتے ہیں  ،   ان کی خدمت کو حقیروہی سمجھے گاجو بے دین ہو چکا ہو ۔  اور ان کے احوال کا دعویٰ بے وقوف شخص ہی کرسکتا ہے ۔  ان کے عقیدے کامعتقد عالی ہمت اوربہت خواہش مند ہی ان سے تعلق رکھنے کا مشتاق ہوتاہے ۔  یہ لوگ آفاق کے سورج ہیں   ۔  ان کی جھلک دیکھنے کے لیے گر دنیں   اُٹھتی ہیں   ہم اِنہی نفو س قُدسیہ کی پیروی کرتے اور مرتے دم تک اِنہی سے اپنی دوستی کا دم بھرتے ہیں   ۔   ‘‘

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہاَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی فرماتے ہیں :  ’’ ہم اس کتاب میں   ہر اس صحابی کا ذکرکریں   گے جو کسی واقعہ کی وجہ سے مشہور ہوئے،   جن کے اچھے افعال محفو ظ کرلئے گئے،  جو فتو راورسستی سے مُبرَّا ،  جن کے ساتھ اچھی یادیں   وابستہ ہیں   اور تھکاوٹ وملال انہیں   راہِ خداسے منحرف نہ کر سکا ۔ مہاجرین صحابہ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن میں   سب سے پہلے امیر المومنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا تذکرہ کیا جاتا ہے  ۔

٭٭٭٭٭٭

امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکرصدیقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہوہ صحابی ہیں   جنہوں   نے سب سے پہلے تاجدارِ رِسالت،   شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رسالت کی تصدیق کی  ۔  



[1]    تفسیرابن ابی حاتم  ،  سورۃ الفجر ،  تحت الآیۃ۱۴ ، ج۱۲ ، ص۴۰۲ ، مختصرًا۔

[2]    المسندلابی داوُد الطیالسی ،  ما اسند انس بن مالک  ،   الحدیث  ۱۹۵۹ ، ص۲۶۳۔

[3]    المسندللامام احمد بن حنبل ،  مسند انس بن مالک  ،  الحدیث  ۱۲۰۰۲ ، ج۴ ، ص۲۰۶۔



Total Pages: 273

Go To