Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

قسم کھائے ( [1] )تووہ ایساہی ہے جیساکہے  ( [2] ) ۔  ‘‘   ( [3] )

 ( تُــوْ بُوْا اِ لَی اللہ                   اَ سْتَــغْــفِرُ اللہ )

 

حضرت سیِّدُنا ثابِت بِن وَدِ یْعَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناثابِت بن وَدِیْعَہ اَنصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوبھی اہلِ صفہ کی طرف منسوب کیا گیاہے حالانکہ وہ کوفہ میں   رہائش پذیرہوئے نہ کہ صفہ میں   اور ان سے یہ حدیث مروی ہے ۔

 ( 1236 ) … حضرت سیِّدُناثَابِت بن وَدِیْعَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضورنبی ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاک،   سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   ایک گوہ لائی گئی توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ’’ یہ بھی ایک اُمت تھی جسے مسخ کردیا گیا ( [4] ) ۔  ‘‘   ( [5] )واللہ اعلم

حضرت سیِّدُناثقِیْف بِن عَمْرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناثَقِیْف بن عَمروبن شُمَیْط اَسدی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جو بنو اُمَیَّہ کے حلیف تھے انہیں   خَلِیفَہ بن خَیَّاط کے حوالے سے اہلِ صفہ میں   شامل کیا گیا ہے اوریہ غزوۂ خیبرمیں   شہید ہوئے ۔

حضرت سیِّدُناجُنْدُ ب بِن جُنَادَہ ابوذَرغِفَارِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناجُنْدُب بن جُنَادَہ ابوذَرغِفَارِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوبھی اہلِ صفہ میں   ذکرکیاگیاہے ۔ ہم ان کے حالات میں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی بہادری،   چوتھے نمبر پر قبولِ اسلام اور ہجرت کرنے کے بعدمسجدنبوی عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہی میں   مقیم ہونابیان کرچکے ہیں   ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمثالی عبادت گزارتھے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بعض اَوقات اہلِ صفہ کے پاس تشریف لا تے اور ان سے گفتگو کرتے جس کی وجہ سے انہیں   اہلِ صفہ میں   

 

ذکرکیاگیاہے  ۔

 ( 1237 ) … حضرت سیِّدَتُنااَسماء بنت یزیدرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہَاسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو ذَر غِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہشہنشاہِ مدینہ،  قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   مصروف رہتے ۔  فراغت پاتے تو مسجدمیں   آجاتے اوریہیں   لیٹ جاتے گویا مسجدہی ان کا گھر تھا ۔  ایک رات آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجدمیں   تشریف لائے تو انہیں   مسجد کے  فرش پر سوتے ہوئے پایاتو پاؤں   مبارَک سے انہیں   ہلایا حتی کہ وہ بیدار ہو گئے اور سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ۔ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استفسار فرمایا :   ’’ مسجدمیں   کیوں   سورہے ہو ؟  ‘‘  انہوں   نے عرض کی :   ’’ آقا ! میں   کہاں   سوؤں   ؟  میرااس کے سوا کوئی گھر نہیں    ۔  ‘‘  پھرآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی ( کچھ دیر )  ان کے پاس تشریف فرما ہو گئے  ۔  ‘‘   ( [6] )

 لیٹنے کاشیطانی طریقہ :  

 ( 1238 ) … حضرت سیِّدُنانُعَیْم مُجْمَراپنے والدسے روایت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا ابو ذَررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایاکہ میں   بھی صفہ والوں  میں   تھا ۔  شام کے وقت صفہ والے حضورنبی ٔ رحمت،  شفیع امتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دروازے پرحاضرہوجاتے اورآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہر شخص کو صفہ والوں  میں   سے ایک ایک آدمی کوکھانا کھلانے کے لئے ساتھ لے جانے کا فرماتے حتی کہ کم وبیش 10صفہ والے باقی رہ جاتے ۔  پھر دربارِ رِسالت میں  رات کا کھانا حاضر کیا جاتا تو ہم بھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ کھانے میں   شریک ہو جاتے ۔  کھانے سے فراغت پاتے تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے :  ’’ مسجد میں   سو جاؤ ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُناابوذَررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ایک مرتبہ میں   منہ کے بل لیٹا



[1]    مفسرشہیرحکیم الامت مفتی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّان فرماتے ہیں   : ’’مثلاًکہے کہ اگرمیں   یہ کام کروں   توعیسائی یہودی ہوجاؤں   یااسلام سے نکل جاؤں   اورپھروہ کام نہ کرے یاکہے کہ اگرمیں   نے یہ کام کیا تو یہودی ہوجاؤں   حالانکہ اس نے یہ کام کیاتھا۔‘‘

[2]    یا وہ عملاً یہودی ہی ہوگیایااسلام سے بری ہوگیا ، یہ فرمان تشددکے لئے ہے جیسے فرمایا گیا کہ جوعمداً نماز چھوڑے وہ کافرہوگیا ، ایسی قَسَم میں   امام ابوحنیفہ  ، احمدواسحاق کے ہاں   قسم منعقدہوجائے گی کفارہ واجب ہو گااورامام شافعی کے ہاں   کفارہ بھی نہیں   صرف گناہ ہے کہ یہ قسم نہیں   صرف جھوٹ ہے ،  یہ اختلاف جب ہے جب کہ الفاظ آئندہ کے متعلق بولے مثلاً کہے کہ اگرمیں   فلاں   سے کلام کروں   تویہودی ہوجاؤں  یااسلام سے بری ہوجاؤں  لیکن اگریہ الفاظ گذشتہ کے متعلق بولے توکسی کے ہاں   کفارہ نہیں   سب کے ہاں   گناہ ہی ہے مثلاً کہے کہ اگرمیں   نے یہ کام کیا ہو تو میں   یہودی یا عیسائی ہوں   اورواقعہ میں   وہ کام کیاتھاتوگنہگارہے۔ ( مرآۃ المناجیح ، ج۵ ، ص۱۹۵ ، ۱۹۶ )

                سرکاراعلیٰ حضرت امام اہلسنَّت مجدد دین وملت مولاناشاہ امام احمدرضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں   : ’’اگر اس قَسَم کے کھانے والے کا یہ ذِہن بنا ہوا ہے کہ میں   وہ کام کروں   گا تو واقِعی کافِر ہو جاؤں  گا تو ایسی صورت میں   وہ اُس کام کے کرنے کی صورت میں   کافِر ہو جائے گا ورنہقَسَم  توڑنے پر کافِر تو نہ ہو گا مگر گنہگار ہو گا او راُس پرقَسَم کا کفّارہ دینا واجِب ہو جائے گا۔‘‘    ( فتاوٰی رضویہ  ، ج۱۳ ، ص ۵۷۸ ،  مُلخصًا )

[3]    صحیح البخاری ،  کتاب الادب ،  باب من اکفراخاہ بغیرتأویلٍ فہوکماقال ،  الحدیث : ۶۱۰۵ ، ص۵۱۵ ، بتغیرٍ۔

[4]    حضرت سیِّدُناامام جلال الدین سیوطی شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃّ اللہ الْکَافِیفرماتے ہیں   : ’’اس میں  یہ احتمال ہے کہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکایہ فرمان اس بات کاعلم ہونے سے پہلے کاہوکہ جن کی شکلیں   مسخ کردی جاتی تھیں   وہ تین دن سے زیادہ زندہ نہیں   رہتے تھے یامحض مسخ شدہ امتوں   سے مشابہت بیان کرنے کے لئے کہاہو ( نہ یہ کہ یہ اسی امت میں   سے ہے ) ۔‘‘ ( سنن النسائی بشرح السیوطی ،  کتاب الصیدوالذبائح ،  الضب ، ج۴ ، جز۷ ، ص۱۹۹ )

[5]    سنن النسائی ،  کتاب الصید والذبائح  ،   باب الضَب  ،   الحدیث۴۳۲۷  ،  ص۲۳۷۰۔

[6]    المسندللاما م احمدبن حنبل ،  حدیث اسماء ابنۃ یزید ،  الحدیث : ۲۷۶۵۹ ، ج۱۰ ، ص۴۴۰ ، مفہومًا۔



Total Pages: 273

Go To