Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

سے کئی افراد بھوک کے باعث کمزوری کی وجہ

 

سے قیام سے عاجز آ کر گر جاتے یہاں   تک کہ اَعراب  (  یعنی دیہات کے رہنے والے )  کہتے کہ ’’ یہ لوگ پاگل ہیں   ۔  ‘‘  ( [1] )

 ( 1200 ) …  حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں   کہ ’’  اہلِ صفہ کی تعداد70 تھی لیکن ان میں   سے کسی ایک کے پاس بھی چادر نہ تھی ۔  ‘‘   ( [2] )

 ( 1201 ) …  حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں   صفہ میں   تھاکہ تاجدارِ رِسالت،   شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہماری طرف عجوہ کھجوریں   بھیجیں   ۔  ہم بھوک کی وجہ سے دو دو کھجوریں   اکٹھی کھانے لگے اور رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دیگر صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنسے فرمانے لگے:  ’’ میں   بھی دو کھجوریں   اٹھا کر کھا رہا ہوں   تم بھی دو دو کھجوریں   اُٹھا کر کھاؤ ۔  ‘‘   ( [3] )

 ( 1202 ) …  حضرت سیِّدُناحسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب،   دانائے غُیوب،   مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صفہ والوں   کے پاس تشریف لائے اور استفسار فرمایا :   ’’ تم نے صبح کس حال میں   کی ؟  ‘‘  انہوں   نے عرض کی :  ’’ خیروبھلائی کے ساتھ ۔  ‘‘  ارشاد فرمایا :   ’’ آج تم بہتر ہو  ( اس وقت سے کہ ) جب تمہارے پاس صبح کھانے کا ایک بڑا پیالہ اور شام دوسرا بڑا پیالہ لایا جائے گا اوراپنے گھروں   پراس طرح پردے لٹکاؤگے جس طرح کعبے پر غلاف ڈالا جاتا ہے ۔  ‘‘ صفہ والے عرض گزارہوئے :  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  کیاہمیں   اپنے دین پرقائم رہتے ہوئے یہ نعمتیں   حاصل ہوں   گی ؟  ‘‘  فرمایا :  ’’ ہاں   ۔  ‘‘  عرض کی :  ’’ پھرتوہم اس وقت بہترہوں   گے کیونکہ ہم صدقہ وخیرات کریں   گے اور غلاموں   کوآزاد کریں   گے ۔  ‘‘ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’ نہیں   !  بلکہ تم آج بہتر ہو کیونکہ جب تم ان نعمتوں   کو پاؤ گے تو آپس میں   حسد کرنے لگو گے اور باہم قطع تعلقی کرنے کی آفت اور بغض وعداوت میں   پڑجاؤ گے ۔  ‘‘   ( [4] )

 ( 1203 ) … حضرت سیِّدُناحسنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ جب غریب ونادار مسلمانوں   کے لئے صفہ

 

 ( یعنی چبوترہ ) بنایا گیا تومسلمان حسبِ اِستطاعت اس کی تعمیرمیں   بڑھ چڑھ کرحصہ لینے لگے ۔ حضورانور،  نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصفہ والوں   کے پاس تشریف لائے اورانہیں   پکارکرسلام ارشادفرمایاتو انہوں   نے سلام کا جواب دیا ۔ پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسارفرمایا :  ’’ تم نے صبح کس حال میں   کی ؟  ‘‘ انہوں   نے عرض کی :   ’’ خیروبھلائی کے ساتھ ۔  ‘‘ پھرآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’ تم آج اُس دن سے بہتر ہوجب تم میں   سے کسی کے پاس صبح کے وقت کھانے کا ایک بڑا پیالہ لایا جائے گا اورشام کے وقت دوسرا پیالہ پیش کیا جائے گا ۔  صبح ایک لباس پہنو گے اور شام دوسرا لباس زیبِ تن کرو گے اور اپنے گھروں  پراس طرح پردے لٹکاؤگے جس طرح بیت اللہ شریف پرغلاف ڈالاجاتاہے ۔  ‘‘ انہوں   نے عرض کی:  ’’ اس دن توہم بہتر ہوں   گےاللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں   مختلف نعمتیں   عطا فرمائے گاتو ہم ان نعمتوں   پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکربجالائیں   گے ۔  ‘‘  لیکن حضور نبی ٔ ٔرحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ’’  بلکہ تم آج اُس دن سے بدرجہا بہتر ہو ۔  ‘‘   ( [5] )

اہلِ صفہ کی تعداداورحالات :  

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ اَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی فرماتے ہیں  کہ مختلف اوقات اور مختلف حالات میں  صفہ والوں   کی تعدادمیں   کمی بیشی ہوتی رہتی تھی ۔  کبھی توبعض اہلِ صفہ مختلف علاقوں   میں   چلے جاتے تھے اور باہرسے غربا ومساکین بھی کم آتے جس کی وجہ سے صفہ والوں   کی تعدادمیں   کمی آ جاتی تھی اورکبھی فرداً فرداً اور گروہوں   کی صورت میں   آکرلوگ صفہ پرجمع ہوکر اہلِ صفہ میں   شامل ہو جاتے جس کی وجہ سے ان کی تعداد بڑھ جاتی تھی ۔  البتہ ان کے ظاہری احوال اور ان کی بابت مشہورروایات میں   سے یہ ہے کہ ان پر فقروفاقہ کا غلبہ رہتا تھا ۔ اس کے باوجودبھی یہ حضرات اِیثار سے کام لیتے اوراپنے لئے فقر وفاقہ پسند کرتے تھے ۔  انہیں   پہننے کے لئے ایک سے زائد کپڑے میسر آتے نہ رنگ برنگے کھانے ان کے ہاں   پائے جاتے تھے ۔  ان کے بیان کردہ احوال پرآنے والی احادیث مبارَکہ دلالت کرتی ہیں   ۔  چنانچہ، 

 ( 1204 ) …  حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ میں   نے 70 اہلِ صفہ کودیکھاکہ وہ ایک ہی

 

کپڑے میں   نماز ادا کرتے ۔  ( یعنی تمام کے پاس ایک ایک کپڑاتھااوروہ بھی )  کسی کا صرف گھٹنوں   تک تھا تو کسی کا گھٹنوں   سے نیچے تک ۔  جب کوئی رکوع میں   جاتا توسِتْرِ عورت  ( [6] )کے ظاہر



[1]    جامع الترمذی ،  ابواب الزھد ،   باب ما جاء فی معیشۃ اصحاب النبی ،  الحدیث : ۲۳۶۸ ، ص۱۸۸۹۔

[2]    الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،  کتاب الرقاق ،  الحدیث : ۶۸۱ ، ج۲ ، ص۳۶ ، مفہومًا۔

[3]    المستدرک ،  کتاب الاَطْعِمَۃ ،  باب النہی عن الاِقْران فی التمر ،  الحدیث : ۷۲۱۴ ، ج۵ ، ص۱۶۴۔

[4]    الزھدلہنادبن السری ،  باب معیشۃ اصحاب النبی ،  الحدیث : ۷۶۰ ، ج۲ ، ص۳۹۰۔

[5]    الزھدلہنادبن السری ،  باب معیشۃ اصحاب النبی ،  الحدیث : ۷۶۱ ، ص۳۹۱۔

[6]    دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ499صَفحات پرمشتمل کتاب  ،  ’’نمازکے احکام ‘‘ صَفْحَہ 193اور194پرشیخ طریقت ، امیراہلسنّت  ، بانی ٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطارؔقادری رَضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃ نمازکی 6شرائط میں   سے دوسری شرط بیان کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں   : ’’ ( دوسری شرط  ) سِتْرِعورت ( ہے  ، اوروہ یہ ہے کہ  )  مرد کے لئے ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں  سمیت بدن کاساراحصہ چُھپاہواہوناضروری ہے جبکہ عورت کے لئے ان پانچ اعضاء: مُنہ کی ٹِکلی ، دونوں  ہتھیلیاں   اوردونوں  پاؤں   کے تلووں   کے علاوہ ساراجسم چُھپانالازمی ہے۔ البتہ اگردونوں   ہاتھ ( گِٹوں   تک )  ، پاؤں   ( ٹخنوں   تک ) مکمل ظاہرہوں   توایک مُفْتٰی بِہٖ قول پرنماز دُرُست ہے۔ ( الدرالمختارمعہ ردالمحتار ، ج۲ ، ص۹۳ )  

                 مدنی مشورہ  : نماز کی شرائط  ،  فرائض  ، واجبات  ، سنن  ، مستحبات اورمسائل آسان انداز میں   سیکھنے کے لئے قبلہ امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃ کی مذکورہ کتاب ’’نمازکے احکام ‘‘کامطالعہ بے حدمفیدہے۔   ( علمیہ )



Total Pages: 273

Go To