Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

میں   اِبتلاکی وجہ سے فرائض میں   کوتاہی کرنے سے ان کی حفاظت فرمائی ۔ جس طرح ماقبل مذکور صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو اللہعَزَّوَجَلَّ نے اہلِ معرفت وحکمت کاامام بنایااسی طرح اہلِ صفہ کوفقراوغربا کاپیشواکیا ۔ ان مقدس وپاکیزہ لوگوں   کو اَہل وعیال کی فکردامن گیرہوتی نہ مال ودولت کی سوچ  ۔ انہیں   کوئی حالت اللہعَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے غافل کرتی نہ تجارت اورنہ ہی یہ دنیاچھوٹنے پررنجیدہ وملول ہوتے اوروہ محض اس چیزسے شاد ہوتے جو آخرت میں   نفع بخش ہوتی ۔ ان کی ساری خوشیاں   اپنے مالک وپروردگار عَزَّوَجَلَّسے وابستہ تھیں   اوران کے سارے غم زندگی کے قیمتی لمحات کے ضائع ہو جانے اوراَورَادووظائف کے رَہ جانے کی وجہ سے تھے  ۔ یہ وہ عظیم الشان مردانِ حق تھے جنہیں   ذِکْرُاللہعَزَّوَجَلَّ سے تجارت غافل کرتی نہ خریدوفروخت  ۔ وہ فانی دنیاکے چھوٹ جانے پرغم اٹھاتے نہ ہاتھ آنے پرخوشی مناتے ۔  ان کے پَروَرْدگار عَزَّوَجَلَّ

 

نے انہیں   دنیوی نعمتوں   سے فائدہ اٹھانے اور مال ودولت کی فراوانی سے بچائے رکھاتا کہ ان کانفس بغاوت وسرکشی میں   مبتلا نہ ہو جائے ۔ یہ لوگ سونے چاندی ودیگرمالِ دنیا کے گم ہونے پر غم کرنے سے بے نیازتھے اور حسب ونسب کی وجہ سے خوشی و غرور کا ان کے ہاں   تصوُّر نہ تھا ۔

 قرآنِ کریم اور اہلِ صفہ:

 ( 1193 ) … حضرت سیِّدُناابوہانی  قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں  کہ میں   نے عمرو بن حُرَیْث وغیرہ لوگوں   کویہ کہتے سناکہ جب اصحابِ صفہ نے دنیاکی تمنا کی تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی :  

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ ( پ۲۵،   الشوری :  ۲۷ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  اور اگر اللہ اپنے سب بندوں   کارزق وسیع کر دیتا تو ضرور زمین میں   فساد پھیلاتے ۔  ( [1] )

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبد اللہاَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی فرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّنے اَصحابِ صفہ پر لطف وکرم فرمانے اور انہیں   سرکشی سے بچانے کے لئے دنیاکو ان سے دور رکھا ۔ چنانچہ،   وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے احکامات کی بجاآوری میں  تنگدلی سے محفوظ رہے اوردنیاوی مشغولیات سے بچے رہے ۔  دنیا وی اموال نے انہیں   رُسوا کیا نہ ہی احوالِ زمانہ سے ان پر تغیرکی ہواچلی ۔  ‘‘

 ( 1195 ) … حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن اَبی بکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ صفہ والے مسکین لوگ تھے اورحضورنبی ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاک،   سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشادفرمایا :   ’’ جس کے پاس 2 آدمیوں   کا کھانا ہو وہ تیسرے کو لے جائے اور جس کے پاس 4 کا کھاناہووہ پانچویں   یاچھٹے کو لے جائے ۔  ‘‘  یا جس طرح فرمایا ۔  پھر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ 3 کو اورحضور نبی ٔرحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 10 افراد کو ساتھ لے گئے  ۔  ‘‘   ( [2] )

 ( 1196 ) … حضرت سیِّدُنامجاہدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاحِد سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : حضورنبی ٔکریم،  رَء ُ وفٌ رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے پاس سے گزرے تو ارشادفرمایا :  ’’ اے

 

ابوہریرہ ۔  ‘‘  میں   نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! حاضر ہوں   ۔  ‘‘  ارشاد فرمایا :   ’’ صفہ والوں   کے پاس جاؤ اورانہیں   بلالاؤ ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : صفہ والے اسلام کے مہمان تھے ۔  وہ گھروالوں  اورمال کے پاس نہ جاتے تھے ۔  جب حضورنبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   صدقہ آتا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اسے اہلِ صفہ کے پاس بھیج دیتے اور خود اس سے تھوڑا سا بھی تناول نہ فرماتے اور جب خدمتِ اَقدس میں   ہدیہ پیش کیا جاتا تو اہلِ صفہ کو بھی اس میں   شریک کر لیتے ۔  ‘‘   ( [3] )

 ( 1197 ) … حضرت سیِّدُناطلحہ بن عمرورَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی خدمت میں   حاضرہوتااورمدینہ طیبہ زَادَہَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًامیں   اس کا کوئی جان پہچان والا ہوتا تو وہ اس کے ہاں   قیام کرتا اوراگر کوئی واقف کارنہ ہوتا تووہ صفہ والوں   کے ساتھ ٹھہر جاتا ۔  فرماتے ہیں :  ’’ میں   ان لوگوں   میں   تھا جو صفہ والوں   کے ہاں   قیام کرتے تھے ۔  پھر میری ایک شخص سے جان پہچان ہو گئی اور وہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے ہر روزدو آدمیوں   کے لئے ایک مد  ( یعنی ایک سیر آدھ پاؤ )  کھجوریں   بھیجا کرتا تھا ۔ ‘‘  ( [4] )

 ( 1198 ) …  حضرت سیِّدُناابورَافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ جب حضرت سیِّدَتُنافاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کے ہاں   حضرت سیِّدُناامام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی ولادت ہوئی توانہوں   نے عرض کی :   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  کیا میں   اپنے بیٹے کا عقیقہ نہ کروں   ؟  ‘‘ اِرشاد فرمایا :  ’’  نہیں   !  پہلے اس کے بال اترواؤ اور بالوں   کے وزن برابر چاندی صفہ والوں   اور دوسرے مسکینوں   پر صدقہ کرو ۔  ‘‘   ( [5] )

صفہ والوں   کی بھوک کاعالم :  

 ( 1199 ) … حضرت سیِّدُنافَضَالَہ بن عُبَیْدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ جب حضورنبی ٔمُکَرَّم،  نُورِمُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  لوگوں   کونمازپڑھا رہے ہوتے تو اصحابِ صفہ میں   



[1]    الزھدلابن المبارک ،  باب التوکل والتواضع ،  الحدیث : ۵۵۴ ، ص۱۹۴۔

[2]    صحیح البخاری ،  کتاب المناقب ،  باب علامات النبوۃ فی الاسلام ،  الحدیث : ۳۵۸۱ ، ص۲۹۱۔

[3]    صحیح البخاری ،  کتاب الرقاق ،  باب کیف کان عیش النبیالخ ،  الحدیث : ۶۴۵۲ ، ص۵۴۲۔

[4]    الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،  کتاب التاریخ ،  باب اخبارہالخ ،  الحدیث : ۶۶۴۹ ، ج۸ ، ص۲۴۱۔

[5]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  حدیث ابی رافع ،  الحدیث : ۲۷۲۵۳ ، ج۱۰ ، ص۳۴۰۔



Total Pages: 273

Go To