Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

عَزَّوَجَلَّ کے انعامات سے باخبرہیں   ۔  باوجوداس کے جب وہ اللہعَزَّوَجَلَّکی عظمت وکبریائی کا تذکرہ کرتے ہیں   توان کی عقلیں  قابومیں   نہیں   رہتیں  ،  دل شکستہ ہوجاتے ہیں   اور ان کی زبانیں  گنگ ہو جاتی ہیں   ۔ حتی کہ جب وہ اس کیفیت سے اِفاقہ پاتے ہیں   تو پاکیزہ اَعمال سے اللہعَزَّوَجَلَّکی طرف جلدی کرتے ہیں    ۔  ‘‘

            حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن مَہْدِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی نے اپنی روایت میں   اتنا زائد کیا ہے کہ ’’   وہ حضرات اپنے آپ کوغافلین میں  شمارکرتے ہیں   حالانکہ وہ عقلمندو طاقتور ہوتے ہیں   ۔  وہ خود کو ظالموں   اور خطاکاروں   میں   شمار کرتے ہیں   باوجودیکہ وہ نیکوکاراور گناہوں   سے بیزارہوتے ہیں  مگروہ اللہ عَزَّوَجَلَّسے کسی قسم کی کثرت کے خواہاں   نہیں   ہوتے،   اللہ عَزَّوَجَلَّکے لئے قلیل اعمال پر راضی نہیں   ہوتے اور نہ ہی اَعمال کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّپربھروسا کرتے ہیں   ۔ تم جہاں   کہیں   بھی ان سے ملو گے انہیں   غمگین اور اللہ  عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے ڈرنے والے پاؤ گے  ۔  ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں :  پھر حضرت سیِّدُناا بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا اپنی مجلس میں   واپس لوٹ آئے ۔  ‘‘    ( [1] )

منکرِ تقدیر پر غضب :  

 ( 1150 ) … حضرت سیِّدُناسَعِیْدبن جُبَیْررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں : ’’ کوئی تقدیرکامنکر میرے پاس ہو تو میں   اس کا سر پھوڑ دوں   ۔  ‘‘  لوگوں   نے اس کی وجہ دریافت کی توفرمایا :  ’’ اس لئے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے لوحِ محفوظ کو سفید موتی سے پیدا فرمایا ۔  اس کے دونوں   پہلوسرخ  یاقوت کے ہیں   ۔ اس کا قلم نور کا ہے ۔ اس کی لکھائی نور کی ہے ۔  اس کی چوڑائی زمین وآسمان کی درمیانی وسعت کے برابر ہے ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر روز اسے 360 مرتبہ ملاحظہ فرماتا ہے ۔  ہر نظر پر اَشیاء تخلیق فرماتا ہے،   زندہ کرتا ،   مارتا،   عزت عطافرماتااور ذلیل کرتا ہے ۔  الغرض وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔  ‘‘    ( [2] )

تکالیف کیسے دورہوتی ہیں :

 ( 1151 ) … حضرت سیِّدُناابوغَالِبخُلْجِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی بیان کرتے ہیں :  میں   نے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو فرماتے ہوئے سنا:  ’’ تم فرائض کی اَدَائیگی اپنے اوپرلازم کرلواور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تم پر

 

 جواپنے حقوق مقرر فرمائے ہیں   انہیں   ادا کرو اور اس پر اسی سے مدد طلب کرو کیونکہ وہ پروردگار عَزَّوَجَلَّ جب کسی بندے میں   صدقِ نیت اورثواب کی طلب دیکھتا ہے تواس کی تکالیف دورفرما دیتا ہے اور وہ مالک ہے جو چاہتاہے کرتا ہے ۔  ‘‘

رِزق میں   کمی کاایک سبب :  

 ( 1152 ) …  حضرت سیِّدُناسَعِیْدبن جُبَیْررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :  ’’ بلاشبہ اللہعَزَّوَجَلَّ نے ہرمومن وفاسق کا رزق لکھ دیا ہے ۔ پس اگروہ رزقِ حلال ملنے تک صبرکرے تو اللہعَزَّوَجَلَّاسے عطا فرماتاہے اوراگربے صبری سے کام لے اورحرام کی طرف قدم بڑھائے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے رزقِ حلال میں   کمی فرمادیتا ہے ۔  ‘‘  

 ( 1153 ) … حضرت سیِّدُنا عِکْرِمَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہحضرت سیِّدُناعبد اللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  اس آیت مبارَکہ،

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ(۲) ( پ۲۰،   العنکبوت :  ۲ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  کیا لوگ اس گھمنڈ میں   ہیں   کہ اتنی بات پرچھوڑ دیئے جائیں   گے کہ کہیں   ہم ایمان لائے اوران کی آزمائش نہ ہوگی ۔

            کی تفسیرنقل کرتے ہیں   کہاللہعَزَّوَجَلَّ  کسی نبی عَلَیْہِ السَّلَام کو اس کی امت کی طرف مبعوث فرماتا ہے تووہ نبی عَلَیْہِ السَّلَام اپنی حیاتِ ظاہری تک ان کے درمیان رہتا ہے ۔  پھر اللہعَزَّوَجَلَّ اس کی روح قبض فرما لیتا ہے تواس کی اُمت یا جو ان میں   سے چاہتا ہے،   کہتا ہے :  ’’  ہم اپنے نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی سنت اور طریقۂ کار پر کاربند ہیں    ۔   ‘‘  پھر جب اللہعَزَّوَجَلَّ انہیں   کسی آزمائش میں   مبتلا کرتا ہے توجوشخص اپنے نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی سنت پر ثابت قدم رہتا ہے وہ سچا اور جواپنے نبی عَلَیْہِ السَّلَام کے طریقے سے پھرکرکوئی دوسراراستہ اپنالیتاہے وہ جھوٹا ہے ۔  ‘‘

ایک قدری کی توبہ کاعجیب واقعہ :  

 ( 1154 ) … حضرت سیِّدُناعلی بن حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا :   تم سے پہلی امت میں   ایک شخص تھا جو تقدیر کا منکر تھا اوراپنی بیوی سے بُرا سلوک کیا کرتا

 

تھا ۔ ایک مرتبہ وہ ایک ویرانے کی طرف نکلا تووہاں   اسے ایک کھوپڑی ملی جس پرلکھا تھاکہ ’’   اسے جلا کراس کی خاک ہوا میں   اُڑا دی جائے گی ۔  ‘‘  اس نے وہ کھوپڑی اُٹھائی اور اسے ٹوکری میں   رکھ کر اپنی بیوی کے حوالے کر دیا ۔  پھر بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے لگااور کچھ ہی دنوں   بعدوہ کسی سفر پر چلا گیا ۔  پیچھے اس کی بیوی کے پاس پڑوسنیں   آئیں   اور کہنے لگیں : ’’ اے ام فلاں   !  اب تیرا شوہر تیرے ساتھ اچھا سلوک کرنے لگا ہے اس نے تیرے پاس کوئی چیز امانت تو نہیں   رکھوائی ؟  ‘‘  بیوی نے کہا :   ’’ ہاں   !  یہ ٹوکری امانت رکھوائی ہے ۔  ‘‘  تو وہ عورتیں   اسے بھڑکانے لگیں   اور کہا کہ ’’ اس میں   تیرے شوہر کی معشوقہ کا سر ہے ۔  ‘‘  یہ سن کر اس کی بیوی آگ بگولا ہو گئی ۔  اس نے ٹوکری لی ۔  اُسے کھولا تو اس میں   واقعی ایک کھوپڑی نکلی ۔  پڑوس کی عورتوں   نے کہا :   ’’ اے اُم فلاں   ! تم نہیں   جا نتیں   کہ تم نے اس کے ساتھ کیا کرنا ہے ؟ ایسا کرو کہ اسے جلا کر اس کی راکھ ہوا میں   اُڑا دو ۔  ‘‘  چنانچہ،   اُس نے ایساہی کیا ۔



[1]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  زہدایوب علیہ السلام ،  الحدیث : ۲۳۱ ، ص۷۹ ، بتغیرٍ۔

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۱۰۶۰۵ ، ج۱۰ ، ص۲۶۰۔



Total Pages: 273

Go To