Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

اللہعَزَّوَجَلَّکی توحیدکا اقرارکیا اور جس نے ’’ لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللہ ‘‘ کہا وہ مطیع وفرمانبردارہوا  ۔ یہ اَذکار اِنسان کے لئے جنت میں   رونق وخزا نہ ہوں   گے ۔  ‘‘    ( [1] )

اَنار،  کی ایک خصوصیت :  

 ( 1139 ) … حضرت سیِّدُناعبدالحمیدبن جَعْفَرعَلَیْہِ رَحْمَۃاللہ الْاَکْبَراپنے والد سے روایت کرتے ہیں  کہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَااَنارکا ( ایک ایک ) دانہ تناول فرماتے ۔ کسی نے اس کی وجہ دریافت کی تو فرمایا :  ’’ مجھے خبرملی ہے کہ زمین میں   کوئی بھی انار کا درخت ایسا نہیں   جسے باردار  ( یعنی پھل کے قابل )  کرنے کے لئے اس

 

میں   جنتی انار سے دانہ نہ ڈالا جاتا ہو،  ہو سکتا ہے یہ وہی دانہ ہو ۔  ‘‘    ( [2] )

ٹڈی کی عجیب حکایت :  

 ( 1140 ) … حضرت سیِّدُناعِکْرِمَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی بینائی جاتی رہی تھی کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت ابن حَنَفِیَّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکے ہاں   ناشتہ کیاتواس دوران ہمارے دسترخوان پر ایک ٹڈی آگری،   میں   نے اسے پکڑ کر حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی طرف کر دیا اورعرض کی: ’’ اے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا زاد بھائی !  ہمارے دسترخوان پرٹڈی گری ہے  ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے میرا نام پکارا،   میں   نے عرض کی :   ’’ میں   حاضر ہوں   ۔   ‘‘ فرمایا :   ’’ اس ٹڈی پر سریانی زبان میں   لکھا ہے :  ’’ بے شک میں   رب ہوں   ۔  میرے سوا کوئی معبود نہیں   ۔ میں   وحدہ لاشریک ہوں   ۔  ٹڈیاں   میرے لشکروں   میں   سے ایک لشکر ہے ۔  اسے میں   اپنے بندوں   میں   سے جن پر چاہوں   مسلط کر دیتا ہوں    ۔  ‘‘ یا فرمایا :   ’’ اپنے بندوں   میں   سے جن پر چاہوں   پہنچا دیتا ہوں   ۔  ‘‘    ( [3] )

چندآیات کی تفسیر :  

 ( 1141 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا  بیان کرتے ہیں : اس آیت مبارَکہ، 

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ(۸۹) ( پ۱۹،   الشعراء :  ۸۹ )

ترجمۂ کنزلایمان:  مگروہ جواللہ کے حضور حاضرہوا سلامت دل لے کر ۔

              سے مراداس بات کی گواہی دیناہے کہ اللہعَزَّوَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں   ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 1142 ) … حضرت سیِّدُناحسین بن وَاقِدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ المَاجِدفرماتے ہیں :  میرے والدنے مجھے بتایاکہ حضرت سیِّدُناامام اَعْمش رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے مجھے حضرت سیِّدُنا سعید بن  جُبَیْررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکے حوالے سے حضرت سیِّدُناعبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا فرمان بتایاکہ ’’   یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ  ( پ۲۴،   المؤمن: ۱۹ )  

 

 ترجمۂ کنزالایمان: اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ  ۔  سے مراد یہ ہے کہ جب تم کسی عورت کو دیکھو تو اس سے خیانت  ( یعنی زیادتی )  کاارادہ کرتے ہویانہیں   اور وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ( پ۲۴،   المؤمن: ۱۹ )  ترجمۂ کنزالایمان: اورجوکچھ سینوں   میں   چھپا ہے ۔ کا مطلب یہ ہے کہ جب تمہیں   کسی عورت پر قابو حاصل ہوجائے توتم اس سے زِنا کرتے ہو یا اسے چھوڑ دیتے ہو ۔  ‘‘ میرے والدصاحب فرماتے ہیں :  ’’ اس کے بعدحضرت سیِّدُنااِمام اَعْمش رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہخاموش ہوگئے پھر فرمایا :  ’’ کیا میں   تمہیں   ان آیات کے ساتھ ملی ہوئی آیت کے متعلق نہ بتاؤں   ؟  ‘‘  میں   نے کہا :   ’’ کیوں   نہیں   ضرور بتائیے ۔  ‘‘ فرمایا :  ’’  وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّؕ- ( پ۲۴،    المؤمن :  ۲۰ )   ترجمۂ کنزالایمان:  اور اللہ سچا فیصلہ فرماتا ہے ۔  ‘‘ یعنی وہ نیکی کا بدلہ نیکی سے اور برائی کا برائی سے دینے پر قادر ہے ۔  اس کے بعد ہے :   ’’  اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠(۲۰) ( پ۲۴،    المؤمن :  ۲۰ )  ترجمۂ کنز الایمان :   بے شک اللہ ہی سنتادیکھتا ہے  ۔  ‘‘   ( [5] )

 ( 1144 ) … حضرت سیِّدُناابوظَبْیَانعَلَیْہِ رَحْمَۃ ُالْحَنَّان سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے اس آیت کریمہ،   یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ ( پ۵،   النساء :  ۱۳۵ )  ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو !  انصاف پرخوب قائم ہو جاؤ اللہ کے لئے گواہی دیتے  ۔

            کی تفسیرمیں   فرمایا کہ ’’  دو آدمی قاضی کے پاس بیٹھ جائیں   پھرقاضی کسی کا لحاظ نہ رکھے اوران میں   سے ایک کو دوسرے پرپیش کرے ۔  ‘‘    ( [6] )

 



[1]    کتاب الدعاء للطبرانی ،  باب فضل التسبیح والتحمید ،  الحدیث : ۱۷۳۵ ، ص۴۹۳۔

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۱۰۶۱۱ ، ج۱۰ ، ص۲۶۳۔

[3]    شعب الایمان للبیھقی ،  باب فی الصبرعلی المصائب ،  الحدیث : ۱۰۱۳۱ ، ج ۷ ، ص۲۳۳ ، بتغیرٍ۔

[4]    کتاب الدعاء للطبرانی

Total Pages: 273

Go To