Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

اللہ تَعَالٰی عَنْہکو خط ملاتوفرمایا :  ’’ کون ان سوالوں   کے جواب دے گا ؟   ‘‘ حاضرین میں   سے کسی نے عرض کی :  ’’ حضرت عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاان کا جواب دے سکتے ہیں   ۔  ‘‘  چنانچہ،   حضرت سیِّدُناامیرِمُعَاوِیَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ان کی طرف خط لکھاجس میں   انہوں   نے ’’ مجرہ ،   قوس اوراس جگہ کے بارے میں   دریافت کیا جہاں   صرف ایک بار سورج طلوع ہوا نہ اس سے پہلے کبھی طلوع ہوا نہ اس کے بعدکبھی طلوع ہوگا ؟   ‘‘  حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے خط کے جواب میں   تحریرفرمایا :   ’’ مجرہ،   ایک دروازہ ہے جو آسمان میں   کھلتا ہے ۔  قوس،   اہلِ زمین کے لئے تباہی سے بچنے کی علامت ہے اور وہ جگہ جہاں   صرف ایک مرتبہ سورج طلوع ہوا،   نہ اس سے پہلے کبھی طلوع ہوا تھا نہ اس کے بعد طلوع ہو گا تویہ وہ راستہ ہے جو بنی اسرائیل کے لئے سمندر پھاڑ کر بنایا گیا تھا ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 1128 ) … حضرت سیِّدُنا عبداللہبن دِینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الغَفَّارسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں : ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے زمین وآسمان کے بارے میں  اللہعَزَّوَجَلَّ کے فرمان ’’  كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَاؕ  ( پ۱۷،   الانبیاء :    ۳۰ )  ترجمۂ کنزالایمان:  بندتھے تو ہم نے انھیں   کھولا  ۔  ‘‘  کی تفسیر دریافت کی تومیں   نے اسے کہا :   ’’ اس شیخ التفسیر  ( یعنی حضرت عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا )  کے پاس جاؤ،  ان سے یہ سوال کرو ۔  پھر میرے پاس آؤ اور مجھے ان کے دیئے ہوئے جواب سے آگاہ کرو ۔  ‘‘  چنانچہ،   وہ شخص حِبْرُالْاُمَّہ،   حضرت سیِّدُناابن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی خدمت میں   حاضر ہوا اور اس کے متعلق پوچھا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا کہ ’’   آسمان بند تھے ا ن سے بارش نہیں   ہوتی تھی اور زمین بھی بندتھی کہ اس سے سبزہ نہیں   اُگتا تھا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آسمانوں   سے بارش برساکر اور زمینوں   سے نباتات اُگا کرانہیں   کھول دیا ۔  ‘‘  وہ شخص حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر

 

 رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس لوٹا اور انہیں   وہ جواب سنایا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ زمین وآسمان ایسے ہی تھے ۔  ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں   کہ پھر حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :   میں   کہا کرتا تھاکہ ’’ حضرت عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی قرآنِ مجیدکی تفسیر پر جرأت مجھے تعجب میں   ڈال دیتی ہے لیکن اب مجھے معلوم ہوگیا ہے کہ انہیں   کثیرعلم عطا کیا گیا ہے ۔  ‘‘    ( [2] )

علم سیکھنے والوں   کی بھیڑ :  

 ( 1129 ) … حضرت سیِّدُناابوصالح رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُناعبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی ایک ایسی مجلس دیکھی کہ اگرسارے قریش اس پرفخرکریں   تویہ ضروران کے لئے قابلِ فخر ہے ۔  میں   نے دیکھا کہ لوگ جمع ہورہے ہیں   ۔ یہاں   تک کہ راستہ تنگ پڑ گیا اور لوگوں   کا ایسا تانتا بندھا کہ کوئی شخص ان کے درمیان سے گزر کر اِدھر اُدھر نہیں   جا سکتا تھا ۔  چنانچہ،   میں   حضرت سیِّدُناعبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس حاضر ہوا اور اِنہیں   دروازے پر لوگوں   کے جمع ہونے کی اِطلاع دی ۔ انہوں   نے فرمایا :   ’’ میرے وضو کے لئے پانی لاؤ ۔  ‘‘ وضو کے بعدآپ بیٹھ گئے اورمجھ سے فرمایا :   ’’ باہر جاؤ اور جو لوگ جمع ہیں   ان سے کہوکہ جسے قرآنِ مجید یا اس کے حروف یا کسی اور بات کے متعلق سوال کرنا ہے وہ اندر آ جائے ۔  ‘‘  راوی کہتے ہیں : میں   نے جیسے ہی لوگوں   کو اندر آنے کی اجازت دی تو وہ داخل ہونا شروع ہو گئے یہاں   تک کہ سارا گھربھر گیا ۔  پھرانہوں   نے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے جس چیز کے متعلق بھی سوال کیاانہوں   نے اس کا جواب دیا بلکہ ان کے سوال سے کچھ زیادہ ہی بیان کیاپھرفرمایا :   ’’ اپنے بھائیوں   کا خیال کرو ۔  ‘‘ چنانچہ،   وہ لوگ باہرچلے گئے ۔  

            پھرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے مجھ سے فرمایا :  ’’ باہر جاؤ اورلوگوں   سے کہوکہ جو قرآنِ مجید کی تفسیر یا تأویل پوچھنا چاہتا ہے وہ اندرآجائے ۔  ‘‘ راوی کہتے ہیں : میں   باہر نکلا اور لوگوں   کو اندر آنے کی اجازت دی تو وہ داخل ہونے لگے یہاں   تک کہ سارا گھر بھر گیا ۔  پھر لوگوں   نے حضرت سیِّدُناعبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے جو بھی سوال کیا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کا جواب دیا ۔  بلکہ کچھ مزید علمی باتیں   بھی بتائیں   ۔  پھر ان سے فرمایا :   ’’ تم اپنے بھائیوں    کا خیال کرو ۔  ‘‘ تو وہ باہر نکل آئے ۔  پھر فرمایا :   ’’ جاؤ اور نداء کرو کہ جس کا سوال حرام وحلال اور فقہ کے متعلق ہے وہ اندر

 

 آ جائے ۔  ‘‘  میں   نے نداء کی تو لوگ اندر داخل ہونے لگے یہاں   تک کہ ساراگھربھر گیا ۔  اُنہوں   نے جوپوچھا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اس سے بڑھ کر انہیں   جواب دیا پھر ان لوگوں   سے فرمایا :   ’’ اپنے بھائیوں   کا خیال کرو ۔  ‘‘ چنانچہ،  وہ باہر نکل گئے ۔  تو مجھے حکم دیا کہ ’’ باہرجاکرلوگوں   میں   یہ صدا لگاؤ کہ جو فرائض اوراس جیسے دیگرمسائل دریافت کرنا چاہتا ہے وہ اندر آئے ۔  ‘‘ میں   نے باہرآکرلوگوں  کواندرآنے کا کہا تو وہ داخل ہونے لگے یہاں   تک کہ پورا گھر بھرگیا  ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ان کے ہر سوال کاکافی و شافی جواب دیا ۔ پھرفرمایا :   ’’ اپنے بھائیوں   کاخیال کرو ۔  ‘‘ چنانچہ،   وہ چلے گئے ۔  پھر مجھے ارشاد فرمایا کہ ’’ جاؤ اور کہو کہ جو شخص عربی زبان ،  اشعار اور نادِر کلام کے بارے میں   سوال کرنا چاہتا ہے وہ اندر آجائے ۔  ‘‘ چنانچہ لوگ اندر داخل ہونا شروع ہوئے یہاں   تک کہ گھر بھر گیا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ان کے ہر سوال کا تسلی بخش جواب دیا ۔  ‘‘  راوی حضرت سیِّدُنا ابوصالح رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں   کہ ’’   اگر سارے قریش اس مجلس پرفخرکریں   تویہ ضروران کے لئے قابلِ فخر بات ہے  ۔  میں   نے لوگوں   میں   ان جیسا نہیں   دیکھا ۔  ‘‘    ( [3] )

ابن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی سخاوت :  

 



[1]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۱۰۵۹۱ ، ج۱۰ ، ص۲۴۳ ، مفہومًا۔

[2]    تفسیرابن ابی حاتم ،  سورۃ الانبیاء ،  تحت الآیۃ۳۰ ، ج۹ ، ص۳۲۰۔

[3]    المستدرک ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  باب ذکرتبحرعلم ابن عبَّاس ،  الحدیث : ۶۳۴۷ ، ج۴ ، ص۶۹۳۔



Total Pages: 273

Go To