Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سب سے پہلے اِیمان لانے والے پر لعن طعن کیوں   کرتے ہو حالانکہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنبھی ان کے ساتھ ہیں   ؟  ‘‘  انہوں   نے کہا:  ’’ ہم ان پر تین باتوں   کی

 

 وجہ سے طعن وتشنیع کرتے ہیں   ۔  ‘‘  میں   نے وہ تین باتیں   دریافت کیں   تو اُنہوں   نے بتایا :  پہلی تویہ کہ انہوں   نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دین میں   بندوں   کو حَکَم بنایا ہے حالانکہ اللہعَزَّوَجلَّ  کا فرمان ہے :   ’’  اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِؕ-  ‘‘   ( پ۷ الانعام :   ۵۷ )   ترجمۂ کنزالایمان:  حکم نہیں   مگراللہ کا ۔  ‘‘  میں   نے کہا :   ’’  اس کے علاوہ اور کیاہے ؟  ‘‘  انہوں   نے کہا: ’’  ( حضرت ) علی نے قتال کیا ( یعنی جنگ کی )  لیکن فریقِ مخالف کے بچوں   اورعورتوں   کو قیدی بنایا نہ ہی ان کے اَموال کوغنیمت قراردیا ۔  پس اگروہ کافر ہیں   تولامحالہ ان کے اَموال ہمارے لئے حلال ہیں   اور اگر وہ مومنین ہیں   تو ان کے خون ہم پر حرام ہیں   ۔  ‘‘  میں   نے پوچھا :   ’’ ان کے علاوہ اورکون سی بات ہے ؟  ‘‘  وہ بولے :  ’’ انہوں   نے اپنے نام سے امیرالمومنین کالقب مٹا دیا ہے ۔  پس اگر یہ امیرالمومنین نہیں   ہیں   تو پھرامیر الکافرین ہوں   گے ۔  ‘‘  میں   نے کہا :  ’’  اگر میں   تمہیں   قرآنِ مجید کی آیات اورحضور نبی ٔاکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ارشادات بیان کروں   جن پر تمہارا بھی ایمان ہے تو کیا رجوع کر لوگے ؟  ‘‘ وہ بولے :   ’’ ہاں   !  ‘‘  میں   نے کہا :  ’’ تمہارے اس اعتراض کہ ’’ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے اللہعَزَّوَجَلَّکے دین میں   بندوں   کوحَکَم بنایا ہے ‘‘  کا جواب اللہعَزَّوَجَلَّ کایہ ارشادہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌؕ-وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ ( پ۷،   المائدۃ :  ۹۵ )

  ترجمۂ کنزالایمان:  اے ایمان والو شکار نہ مارو جب تم احرام میں   ہو اور تم میں  جو اسے قصدا قتل کرے تواس کا بدلہ یہ ہے کہ ویسا ہی جانورمویشی سے دے تم میں   کہ دو ثقہ آدمی اس کا حکم کریں   ۔

             نیز اللہعَزَّوَجَلَّنے خاونداور بیوی کے بارے میں   ارشادفرمایا :  

وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَاۚ    ( پ۵،   النساء :  ۳۵ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  اور اگر تم کومیاں   بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو توایک پنچ مردوالوں   کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں   کی طرف سے ۔

            میں   تمہیں   اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم دے کر پوچھتا ہوں   کہ کیا مردوں   کے خون وجان کی حفاظت اور ان کے باہمی امور کی اِصلاح کی خاطر مردوں   کو حکم بنانا زیادہ بہتر ہے یاایک شکار کئے ہوئے خرگوش جس کی قیمت چوتھائی درہم ہے کے بارے میں   مردوں   کو حکم بنانا زیادہ بہترہے ؟  ‘‘ بولے :  ’’ مردوں  کی جان کی حفاظت اور ان کے باہمی اُمور کی اِصلاح

 

کے لئے مردوں   کو حکم بنانا زیادہ بہتر ہے ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُناعبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے پوچھا :  ’’  کیا یہ اعتراض اُٹھ گیا ؟  ‘‘  بولے :   ’’  اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم ! اُٹھ گیا ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ تمہارا یہ اعتراض کہ وہ جنگ تو کرتے ہیں   لیکن فریقِ مخالف کے بچوں   اورعورتوں   کو قید نہیں   کرتے اورنہ ہی ان کے اَموال غنیمت کے طورپرتقسیم کرتے ہیں   ؟  ‘‘   ( تو اس کا جواب یہ ہے کہ تم بتاؤ )  کیا تم اپنی ماں   کو قید کرو گے اور پھر تم اس سے ایسے تعلقات حلال سمجھو گے جن کو تم دیگر عورتوں   سے حلال سمجھتے ہو ؟  ‘‘  ( اگر ایساہے )  تو بالیقین تم کافر ہو چکے ہو اور اگر تم یہ گمان کرتے ہو کہ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا تمہاری ماں   نہیں   ہیں   تو بھی بلاشک وشبہ تم کافر اور دائرۂ اِسلام سے خارج ہو گئے ۔  کیونکہ اللہعَزَّوَجَلَّ  کاارشاد ہے :

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْؕ- ( پ۲۱،   الاحزاب :  ۶ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  یہ نبی مسلمانوں   کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے اوراس کی بیبیاں   ان کی مائیں   ہیں   ۔

            پس تم ان دو گمراہیوں   میں   پھنس رہے ہو جس کو چاہو اختیار کرو ۔  اب یہ اعتراض بھی جاتا رہا ؟  ‘‘  بولے :   ’’  اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم !  جاتا رہا ۔   ‘‘  فرمایا :   ’’ اب رہا یہ اِعتراض کہ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اپنے نام سے امیرالمومنین کا لقب کیوں   مٹایا ؟  ‘‘  ( تو سنو )  بے شک سرکارمدینہ،  راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صلحِ حدیبیہ کے دن قریش کو صلح کی شرائط لکھنے کی دعوت دی اور فرمایا :   ’’ لکھوکہ ’’ یہ وہ معاہدہ ہے جسے ’’ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللہ ‘‘  نے طے کیاہے ۔  ‘‘  قریش نے کہا:  ’’ اگرہم آپ کو ’’  اللہ کا رسول ‘‘  مانتے توآپ کا راستہ کیوں   روکتے اور آپ سے جنگ وجدال کیوں   کرتے  ؟  اس لئے صرف محمد بن عبداللہلکھوائیں   ۔  ‘‘  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !  میں   اللہکا رسول ہی ہوں   اگرچہ تم میری تکذیب کرتے ہو ۔  اے علی !  مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کے بجائے محمد بن عبداللہلکھ دو ۔  ‘‘  اب بتاؤ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے بدرجہا اَفضل ہیں    ( توجب آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لفظ ’’ رسول اللہ  ‘‘  مٹوانے پر اعتراض نہیں   توحضرت علی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیمکے لفظ ’’ امیرالمومنین  ‘‘ مٹانے پراعتراض کیوں   ؟   ) فرمایا :   ’’ کیا اس اعتراض کا بھی ازالہ ہوگیا ؟  ‘‘ بولے :   ’’ اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم ! ہوگیا ۔  ‘‘ چنانچہ،  ان میں   سے20 ہزار توبہ کرکے لوٹ آئے اور بقیہ 4 ہزار اپنی بد دِینی پر اَڑے رہے جنہیں   بعد میں   قتل کر دیاگیا ۔  ‘‘    ( [1] )

 

تین سوالات کے جوابات :  

 ( 1127 ) … حضرت سیِّدُناسعیدبن جُبَیْررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا امیرِمُعَاوِیَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُناعبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکوخط لکھا اوراس میں   تین چیزوں   کے بارے میں   سوال کیا ۔  راوی کہتے ہیں : یہ تینوں   سوال روم کے بادشاہ  ہَرِقْل نے بذریعہ خط حضرت سیِّدُناامیرِمُعَاوِیَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے کئے تھے ۔ جب آپ رَضِیَ



[1]    المصنف لعبدالرزاق ،  کتاب العقول ،  باب ماجاء فی الحروریۃ ،  الحدیث : ۱۸۹۴۹ ، ج۹ ، ص۴۵۵۔



Total Pages: 273

Go To