Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

دُنیاوی عزت باعثِ نجات نہیں :

 ( 1107 ) …  حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔپاک،   صاحبِ لَولاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمان عالیشان ہے :  ’’ کتنے ہی عقلمند ایسے ہیں   جو اللہعَزَّوَجَلَّکے حکم کو سمجھتے ہیں   اور لوگ انہیں   حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں   جبکہ وہ کل قیامت کے دن نجات پائیں   گے اورکتنے ہی خوش زبان ایسے ہیں   جنہیں   لو گ اچھا سمجھتے اور عزت دیتے ہیں   لیکن کل قیامت میں   ہلاکت ان کا مقدر ہوگی ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 1108 ) …  حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ جب نبیوں   کے سلطان،  سرور

 

 ذیشان ،  محبوب رحمنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسجدتعمیرفرمائی توایک دروازہ،  خاص طورپرعورتوں   کے لئے بنوایا اورفرمایا :   ’’ اس دروازے سے کوئی مرد اندرآئے نہ باہر جائے ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 1109 ) … حضرت سیِّدُناعطاء رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :  ہم پرایک ایساوقت بھی تھاکہ ہم میں   سے ہر ایک اپنے درہم ودینارکاخودسے زیادہ حق دار اپنے مسلمان بھائی کوسمجھتاتھا یہاں   تک کہ یہ زمانہ آ گیا اور بے شک میں   نے حضورنبی ٔکریم،  رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ ’’  جب لوگ درہم ودینار میں   بخل کرنے لگیں   گے اور بطورِ ’’   عِیْنَہ ‘‘   ( [3] )خرید و فروخت کریں   گے اور  ( کھیتی باڑی کے لئے ) بیلوں   کی دُمیں   پکڑیں   گے اور راہِ خدامیں   جہاد کرنا ترک کردیں   گے تو اللہ عَزَّوَجَلَّان کو ذلیل ورُسوا کر دے گا پھر ان سے ذلت کو دور نہ فرمائے گا یہاں   تک وہ اپنے دین ( کے احکام )  پر واپس لوٹ آئیں   ۔  ‘‘    ( [4] )

 

 

 

حضرت سیِّدُ ناعَبْدُ اللہ بِن عَبَّاسرَضِیَ اللہ تَعالٰی عَنْہُمَا

            مہاجرین صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنمیں   سے حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا ایک ذہین مُعَلِّم ( یعنی اُستاذ ) ،   صاحبِ فراست ،   قابلِ فخر،   بدرُالعُلما،   قطب الافلاک،   بادشاہوں   کی ضرورت ،    ( علم کے )  بہتے چشمے،   مفسرِ قرآن،  تأویلات کوبیان فرمانے والے،   باریکیوں   کے جاننے والے،   عمدہ لباس زیبِ تن کرنے والے،   اپنے پاس بیٹھنے والے کی عزت کرنے والے اورلوگوں   کوکھانا کھلانے والے تھے ۔

            اہلِ تصوُّف فرماتے ہیں : ’’  عمدہ اَخلاق کواپنانے میں   سبقت لے جانے اور نفس کو دنیاوی تعلقات سے دوررکھنے کانام تصوُّف ہے ۔  ‘‘

 ( 1110 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن عبداللہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں   کہ رسول اَکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا :   ’’ اے لڑکے !  میں   تمہیں   ایسی باتیں   نہ بتاؤں  جن سے اللہعَزَّوَجَلَّ تمہیں   نفع بخشے ؟  ( پھرخودہی ارشادفرمایا :   ) حُقُوق اللہکی حفاظت کرو اللہعَزَّوَجَلَّتمہاری حفاظت فرمائے گا ۔  حُقُوق اللہ کی حفاظت کرو اللہعَزَّوَجَلَّ کو اپنے سامنے پاؤ گے  ۔  فراخی وخوشحالی میں   اللہعَزَّوَجَلَّکو یاد کرو وہ سختی وشدت میں   تمہیں   یاد رکھے گا ۔  جب سوال کرو تو اللہعَزَّوَجَلَّسے کرو اور جب مدد مانگو تو اللہعَزَّوَجَلَّسے مانگو ۔   ( [5] )قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے قلم اسے لکھ کر خشک ہو چکا ہے اور جو چیز اللہعَزَّوَجَلَّ نے تیرا مقدر نہیں   فرمائی وہ سب لوگ مل کر بھی تجھے



[1]    فردوس الاخبارللدیلمی ،  باب الکاف ،  الحدیث : ۴۹۴۹ ، ج۲ ، ص۱۸۴ ’ ’ذمیم‘‘بدلہ ’ ’دمیم‘‘۔

[2]    مسندابی داودالطیالسی ،  ماروی نافع عن ابن عمر ،  الحدیث : ۱۸۲۹ ، ص۲۵۱۔

[3]    بیع ’ ’ عِیْنَہ‘‘قرض پرنفع حاصل کرنے کاایک حیلہ ہے۔چنانچہ  ، دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1182 صَفحات پر مشتمل کتاب  ،  ’’بہارِ شریعت‘‘جلد دوم صَفْحَہ 779پرصدرالشریعہ ،  بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی  فرماتے ہیں   :  ’’سودسے بچنے کی ایک صورت بیع ’’ عِیْنَہ‘‘ ہے امام محمدرَحِمَہُ اللہ تَعَالٰینے فرمایا کہ بیع ’’ عِیْنَہ‘‘ مکروہ ہے کیونکہ قرض کی خوبی اور حسنِ سلوک سے محض نفع کی خاطربچناچاہتاہے اورامام ابویوسف رَحِمَہُ اللہ تَعَالٰینے فرمایا کہ اچھی نیت ہو تواس میں   حرج نہیں   بلکہ بیع کرنے والا مستحقِ ثواب ہے کیونکہ وہ سود سے بچناچاہتاہے۔ مشائخِ بلخ نے فرمایا بیع ’’ عِیْنَہ‘‘ ہمارے زمانہ کی اکثر بیعوں   سے بہتر ہے ۔ بیع ’’ عِیْنَہ‘‘ کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نے دوسرے سے مثلاً دس روپے قرض مانگے اس نے کہامیں   قرض نہیں   دوں   گا ،  یہ البتہ کرسکتا ہوں   کہ یہ چیز تمہارے ہاتھ بارہ روپے میں   بیچتاہوں   اگر تم چاہو خرید لو اسے بازار میں   دس روپے کی بیع کر دینا تمہیں   دس روپے مل جائیں   گے اور کام چل جائے گااور اسی صورت سے بیع ہوئی۔ بائع نے زیادہ نفع حاصل کرنے اور سود سے بچنے کا یہ حیلہ نکالا کہ دس کی چیز بارہ میں   بیع کر دی اس کا کام چل گیااور خاطر خواہ اس کونفع مل گیا۔بعض لوگوں   نے اس کایہ طریقہ بتایاہے کہ تیسرے شخص کواپنی بیع میں   شامل کریں   یعنی مُقرض ( قرض خواہ )  نے قرض دارکے ہاتھ اس کوبارہ میں   بیچااورقبضہ دے دیاپھرقرض دارنے ثالث کے ہاتھ دس روپے میں   بیچ کرقبضہ دے دیااس نے مقرض کے ہاتھ دس روپے میں   بیچااورقبضہ دے دیااوردس روپے ثمن کے مقرض سے وصول کرکے قرض دار کو دے دئیے نتیجہ یہ ہوا کہ قرض مانگنے والے کودس روپے وصول ہوگئے مگر بارہ دینے پڑیں   گے کیونکہ وہ چیز بارہ میں   خریدی ہے۔‘‘  ( الفتاوی الخانیۃ ،  کتاب البیع ،   فصل فیما یکون فراراً عن الربا ،  ج۱ ،  ص۴۰۸۔فتح القدیر ،   کتاب الکفالۃ ،  ج۶ ، ص۳۲۴۔ردالمحتار‘‘ ،  کتاب البیوع ،  باب الصرف ،  مطلب  فی بیع العینۃ ، ج۷ ، ص۵۷۶ )

[4]    المسندلابی یعلی الموصلی ،  مسندعبداﷲ بن عمر ،  الحدیث : ۵۶۳۳ ، ج۵

Total Pages: 273

Go To