Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

اللہعَزَّوَجَلَّکے بارے میں   شک کرتا ہے  ( اس کا انجام کیا ہوگا )  ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’ وہ ضرور ہلاک ہوگا ۔  ‘‘  میں   نے کہا: ’’ اور وہ شخص جو ہر قسم کی برائی کا اِرْتِکاب کرتا ہے مگر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہاللہعَزَّوَجَلَّکے سوا کوئی مَعْبُود نہیں   اور محمدصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہعَزَّوَجَلَّکے رسول ہیں    ( اس کا انجام کیا ہو گا )  ؟  ‘‘ فرمایا :  ’’  ( نیکیوں   والی ) زندگی بسرکر اوردھوکے میں  نہ رہنا ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 1101 ) … حضرت سیِّدُناابوسَلَمَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاایک قصہ گوکے پاس سے گزرے ۔ لوگوں   نے اپنے ہاتھ بلندکر رکھے تھے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ اللہعَزَّوَجَلَّان ہاتھوں   کوہلاک فرمائے ! تمہاری خرابی ہو ! بے شک اللہعَزَّوَجَلَّ تمہارے بلندکئے ہوئے ہاتھوں  بلکہ تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے  ( [2] )  ۔  ‘‘  

 ( 1102 ) … حضرت سیِّدُنانافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میں   حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمررَضِیَ اللہ

 

تَعَالٰی عَنْہُمَا کے ہمراہ ایک جنازہ میں   شریک ہوا جب میت کو دفن کر چکے توکسی نے صدا لگائی :  ’’  اللہعَزَّوَجَلَّکے نام پراُٹھو ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :  ’’ بے شک اللہعَزَّوَجَلَّ کا نام تو ہرشے سے بلند ہے اس لئے اللہعَزَّوَجَلَّکا نام لے کر اُٹھو ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 1103 ) … حضرت سیِّدُنا مجاہدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاحِد فرماتے ہیں   کہ میں   حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے ہمراہ تھاکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا گزر ایک کھنڈر کے قریب سے ہوا تو فرمایا :  ’’  ( اے مجاہد !  )  ذرا پوچھو !  اے ویران مکان !  تجھ میں  بسنے والوں   کا انجام کیا ہوا ؟  ‘‘  میں   نے کہا: ’’ اے ویران مکان !  تیرے اَندر رہنے والے انسان کہاں   گئے ؟  ‘‘ تو حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا :   ’’ وہ دنیا سے چلے گئے جبکہ اُن کے اعمال باقی رَہ گئے  ۔  ‘‘   ( [4] )

 ( 1104 ) … حضرت سیِّدُناابوحازِم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُناابن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا ایک عراقی شخص کے پاس سے گزرے جوبے ہوش پڑا تھا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اِسْتِفْسَار فرمایا :   ’’ اِسے کیا ہوا ؟  ‘‘  لوگوں   نے بتایا :  ’’  جب اس کے پاس قرآن مجیدپڑھاجاتاہے تواس پربے ہوشی طاری ہو جاتی ہے ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ بے شک ہم بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتے ہیں   لیکن ہم توبے ہوش نہیں   ہوتے ہیں    ۔  ‘‘    ( [5] )

اِیمان کی حلاوت پانے کا ذریعہ :  

 ( 1105 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔ اَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشادفرمایا :   ’’ اللہعَزَّوَجَلَّکی خاطر محبت رکھواوراسی کے لئے نفرت کرو ۔   اللہعَزَّوَجَلَّکی خاطر دوستی رکھواوراسی کے لئے دشمنی کرو ۔  بے شک تم اسی طرح اللہعَزَّوَجَلَّکاقرب پا سکتے ہو ا ور کوئی شخص چاہے کتنی ہی نمازیں   پڑھے اور روزے رکھے اس وقت تک ایمان کی حلاوت نہیں   پا سکتا جب تک کہ وہ ایسانہ کرے اور لوگوں   کی

 

 دوستیاں   دنیاکی وجہ سے ہوتی ہیں   حالانکہ یہ چیز انہیں   کوئی فائدہ نہیں   دے سکتی ۔  ‘‘ مزیدبیان کرتے ہیں   کہاللہ عَزَّوَجَلَّکے پیارے حبیب ،  حبیبِ لبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے یہ بھی ارشاد فرمایا :   ’’ اے ابن عمر ! صبح کو شام کی باتیں  نہ کرو اور شام کو صبح کی فکر مت کرو ۔  نیز ا پنی صحت وتندرستی سے اپنی بیماری کے لئے نفع حاصل کرو ۔  زندگی سے موت کے لئے فائدہ اٹھالوکیونکہ تم نہیں   جانتے کہ کل تمہارانام کیا ہو گا ( جناب یا محروم )  ؟   ‘‘ پھر میرے کندھے کو پکڑ کر فرمایا :   ’’ دنیا میں   اجنبی یا مسافر کی طرح رہو اور اپنے آپ کو اہلِ قبور میں   شمار کرو ۔  ‘‘    ( [6] )

عقلمندمسلمان کی پہچان :  

 ( 1106 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا روایت کرتے ہیں  کہ ایک نوجوان نے کھڑے ہوکرعرض کی :  ’’  یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  کون سامسلمان سب سے زیادہ سمجھدارہے ؟  ‘‘ توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’ موت کوکثرت سے یاد کرنے اوراس کے آنے سے پہلے اس کے لئے اچھی تیاری کرنے والاہی سب سے زیادہ سمجھدارہے ۔   ‘‘   ( [7] )

 



[1]    شرح اصول اعتقاداہل السنۃ والجماعۃ ،  باب جماع الکلام فی الایمان ،  الحدیث : ۲۰۰۲ ، ج۲ ، ص۹۱۰۔

[2]    جیساکہ قرآن مجیدمیں   ہے : ’’ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ(۱۶) ( پ۲۶ ،  ق : ۱۶ ) ترجمۂ کنزالایمان : اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں   ۔‘‘ اس کے تحت صدرالافاضل حضرت سیدمحمدنعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْہَادِی فرماتے ہیں   : ’’یہ کمالِ علم کا بیان ہے کہ ہم بندے کے حال کوخود اس سے زیادہ جاننے والے ہیں  ۔ ’ ’وَرِیْد‘‘وہ رگ ہے جس سے خون جاری ہوکربدن کے ہر جزو میں   پہنچتا ہے ۔یہ رگ گردن میں   ہے معنی یہ ہیں   کہ انسان کے اجزاء ایک دوسرے سے پردے میں   ہیں   مگراللہ عَزَّوَجَلَّ سے کوئی چیزپردے میں   نہیں   ۔ ‘‘    ( تفسیرخزائن العرفان ،  پارہ۲۶ ، ق ،  تحت الایۃ : ۱۶ )

[3]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الجنائز ،  باب فی الرجل یرفع الجنازۃ مایقول ،  الحدیث : ۱ ، ج۳ ، ص۲۵۹۔

[4]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  اخبارعبداﷲ بن عمر ،  الحدیث : ۱۰۵۹ ، ص۲۰۸۔

[5]