Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

اے اللہعَزَّوَجَلَّ !  مجھے ان لوگوں   میں   سے کر دے جو تجھ سے،   تیرے فرشتوں   سے،   تیرے پیغمبروں   سے اور تیرے نیک بندوں   سے محبت کرتے ہیں   ۔ ایاللہعَزَّوَجَلَّ !  مجھے اپنا،   اپنے فرشتوں  کا،  اپنے پیغمبروں  کااوراپنے نیک بندوں  کا پسندیدہ بنا دے ۔ ایاللہعَزَّوَجَلَّ !  مجھے آسانی مہیا فرما اور تنگی و دشواری دور فرما ۔ دنیا وآخرت میں   میری مغفرت فرما اورمجھے پرہیزگاروں   کا امام بنا ۔ اے  اللہعَزَّوَجَلَّ !  تیراہی فرمان ہے کہ ’’   مجھ سے دُعا کرو میں   قبول کروں   گا ۔  ‘‘  اور بے شک تواپنے وعدہ کے خلاف نہیں   کرتا ۔  اےاللہعَزَّوَجَلَّ ! جب کہ تونے مجھے اسلام کی ہدایت دی ہے تواب مجھے اس نعمت سے دور نہ کرنا اور نہ ہی اس نعمت کو مجھ سے دور کرنا یہاں   تک کہ تواسلام پرہی میری روح قبض فرما لے ۔  ‘‘

            حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا صفاو مروہ پرطویل دعا کرتے تھے یہ اس دُعاکاکچھ حصہ ہے  ۔  اوریہی دُعاعرفات،   دوجمروں   کے درمیان اورطواف کے دوران مانگا کرتے تھے ۔  ‘‘    ( [1] )

حجرِ اَسودکابوسہ لیتے تویہ پڑھتے :  

 ( 1082 ) … حضرت سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا جب حجرِاسودکا بوسہ لیتے تویہ پڑھتے تھے :  ’’ بِسْمِ اللہ وَاللہ اَکْبَرْ ترجمہ :  اللہعَزَّوَجَلَّ کے نام سے جو سب سے بڑا ہے ۔  ‘‘    ( [2] )

بوسۂ حجرِ اَسود کا جذبہ :  

 ( 1083 ) … حضرت سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو حجراَسود کا بوسہ لینے کے لئے سخت بھیڑ کا سامنا کرنا پڑتا حتی کہ بعض دفعہ نکسیر پھوٹ جاتی پھرلوٹ کرخون دھوڈالتے ۔  ‘‘    ( [3] )

 

مدینے کی حاضری :  

 ( 1084 ) … حضرت سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا مدینہ منورہ زَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاحاضر ہوتے تو پہلے حضورنبی ٔرحمت،  شفیعِ اُمَّتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے روضۂ اقدس پرحاضری دیتے اورمُوَاجہہ شریف کی طرف رُخ کرکے درودِپاک پڑھتے ۔  پھر امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکرصدیقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی قبرِ مبارَک کی طرف آتے اوراس طرف رُخ کرکے ان کے لئے دُعا کرتے ۔  پھر امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی قبرِ مبارَک پر آتے اوراس طرف رُخ کرکے ان کے لئے دُعا کرتے اور پھر کہتے: ’’  اے ابا جان ! اے ابا جان !  ‘‘    ( [4] )

 ( 1085 ) … حضرت سیِّدُنا عُرْوَہ بن زُبَیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  کہ دوران طواف میں   نے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کوان کی بیٹی سے نکاح کا پیغام دیا ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ خاموش رہے اورکوئی جواب نہ دیا  ۔  میں   نے ( دل میں   ) کہا :  ’’ اگرآپ راضی ہوتے توضرورجواب دیتے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !  میں   آئندہ اس بارے میں   کوئی بات نہیں   کروں   گا ۔  ‘‘  پھر یوں   ہوا کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مجھ سے پہلے مدینہ طیبہ کی طرف کوچ کرآئے پھرمیں   بھی مدینہ شریف حاضرہوگیا اور مسجد ِ نبویعَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں   داخل ہوا روضۂ اَقدس پر صلوۃ وسلام پیش کیا ۔  پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس آیا ۔  آپ نے مجھے خوش آمدید کہا اور پوچھا:  ’’ کب آئے ہو ؟  ‘‘  میں   نے کہا: ’’ ابھی آ رہا ہوں    ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ تم نے دورانِ طواف مجھ سے سودہ بنت عبداللہ کے بارے میں   تذکرہ کیا تھامگر اس وقتاللہ عَزَّوَجَلَّکی شانِ کبریائی ملحوظ تھی،   تم مجھے اس کے علاوہ کہیں   اور بھی مل سکتے تھے ۔  ‘‘  میں   نے کہا :  ’’ تقدیرمیں   اسی طرح معاملہ لکھا جا چکا تھا ۔  ‘‘  انہوں   نے پوچھا:  ’’ اب تمہاری کیا رائے ہے ؟  ‘‘ میں   نے کہا :  ’’ میری رائے وہی ہے جو پہلے تھی  ۔  ‘‘  چنانچہ،  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے دونوں   صاحبزادوں   حضرت سیِّدُنا سالم وحضرت سیِّدُناعبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کوبلایا اوراپنی صاحبزادی سے میرا نکاح کر دیا  ۔  ‘‘    ( [5] )

 

میں   تومغفرت چاہتاہوں :

 ( 1086 ) … حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن اَبی زِنادعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْجَوَاداپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ ایک مرتبہ حجرکے مقام پرحضرت سیِّدُنامُصْعَب بن زُبَیر،   حضرت سیِّدُناعُرْوَہ بن زُبَیر،  حضرت سیِّدُناعبداللہبن زُبَیراور حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمجمع ہوئے،  تو انہوں   نے کہا: چلوآج سب اپنی اپنی خواہش کا اِظہار کریں   ۔  چنانچہ،   حضرت



[1]    اخبارمکۃ للفاکھی ،  باب ذکرکیف یوقف بین الصفاوالخ ،  الحدیث : ۱۴۱۱ / ۱۴۱۴ ، ج۲ ، ص۲۲۹ـ۲۳۱۔

[2]    المصنف لعبدالرزاق ،  کتاب المناسک ،  باب القول عنداستلامہ ،  الحدیث : ۸۹۲۵ ، ج۵ ، ص۲۴ ، بدون ’ ’الاسود‘‘۔

[3]    المصنف لعبدالرزاق ،  کتاب المناسک ،  باب الزحام علی الرکن ،  الحدیث : ۸۹۳۵ ، ج۵ ، ص۲۵۔

[4]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الجنائز ،  باب من کان یاتی قبرالنبی ،  فیسلم ،  الحدیث : ۱ ، ج۳ ، ص۲۲۲ ، بتغیرٍ۔

[5]    اخبارمکۃ للفاکھی ،  الحدیث : ۳۴۰ / ۳۳۹ ، ج۱ ، ص۲۰۴۔

                الطبقات الکبریٰ لابن سعد ،  الرقم۴۰۲عبداللہ بن عمربن الخطاب ، ج۴ ، ص۱۲۶۔



Total Pages: 273

Go To