Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

اپنے بڑوں   سے حسدکرتا ہو،   چھوٹوں  کو حقیر سمجھتا ہواورعلم کودنیاکے حصول کاذریعہ بناتاہو ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 1068 ) … حضرت سیِّدُنا سالم بن ابوجَعْدرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :   ’’ کوئی بندہ اس وقت تک حقیقتِ ایمان تک نہیں   پہنچ سکتا جب تک کہ لوگ دین پراس کی استقامت دیکھ کراسے بے وقوف نہ سمجھیں   ۔  ‘‘    ( [2] )

مشورہ کرنے کی ترغیب :  

 ( 1069 ) … حضرت سیِّدُناسَلِیْطرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :   ’’ اچھے کاموں  میں   ایک دوسرے سے مشورہ کیا کرولیکن برائی میں   مشورہ نہ کیا کرو ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 1070 ) … حضرت سیِّدُنامجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاحِدسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا فرمان ہے :   ’’ انسان دنیاکی کوئی بھی نعمت پاتا ہے تو اللہعَزَّوَجَلَّکے ہاں   اس کے درجات میں   کمی آجاتی ہے ۔  اگرچہ وہ بارگاہِ الٰہی میں   کتناہی شرف وعزت رکھتاہو ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 1071 ) … حضرت سیِّدُناعمروبن مَیْمُوْن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہاپنے والدسے روایت کرتے ہیں   کہ کسی نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکوبتایاکہ حضرت سیِّدُنا زَید بن حارِثَہ اَنصارِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہوفات پاگئے ہیں   توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  اللہعَزَّوَجَلَّان پررحم فرمائے ۔  ‘‘ کسی نے کہا :  ’’  اے ابوعبدالرحمنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ! انہوں   نے ایک لاکھ  ( درہم یادینار ) چھوڑے ہیں   ۔  ‘‘  فرمایا :  ’’ لیکن ایک لاکھ نے تو انہیں   نہیں   چھوڑا  ( یعنی ان کاتوحساب ہوگا )  ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 1072 ) … حضرت سیِّدُناعاصِم اَحْوَل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہایک شخص سے روایت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ایک شخص کویہ کہتے سنا کہ ’’  دنیا سے کنارہ کشی اختیارکرنے والے اورآخرت

 

 میں   رغبت رکھنے والے کہاں   گئے ؟  ‘‘  توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اسے حضورنبی ٔاکرم،  نُورمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم،   امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکرصدیق اورامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے مزارات مبارَکہ دکھائے اور فرمایا :   ’’ کیا تم ان لوگوں   کے بارے میں   سوال کررہے ہو ؟  ‘‘    ( [6] )

شراب سے نفرت :  

 ( 1073 ) … حضرت سیِّدُناسُلَیْمَان بن حُبَیْب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُناابن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا :   ’’ اگرمیری انگلی شراب میں   پڑ جائے تواسے اپنے ہاتھ کے ساتھ رکھنامجھے گوار انہیں   ہوگا  ۔  ‘‘    ( [7] )

 ( 1074 ) … حضرت سیِّدُنایُوسُف بن مِہْرَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا :  ’’ تانبے کے برتن کا کھولتا ہوا جلا دینے والا پانی پینا مجھے مٹی کے گھڑے میں   بنائی گئی  ( نشہ آور )  نبیذ ( [8] )پینے سے زیادہ پسند ہے ۔  ‘‘   ( [9] )

 ( 1075 ) … حضرت سیِّدُناقَیس بن سعدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَحَدسے مروی ہے کہ جسے شراب پینے اور خنزیرکاگوشت کھانے پر مجبور کیا گیا ہواس کے بارے میں   حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’  اگر وہ شراب پیئے نہ خنزیر کا گوشت کھائے حتی کہ اسے قتل کر دیا جائے تو اس نے خیروبھلائی  ( [10] )کو پا لیا اور اگر وہ شراب پی لے

 

 



[1]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزھد ،  کلام ابن عمر ،  الحدیث : ۳ ، ج۸ ، ص۱۷۴ ، بدون ’ ’بمکان‘‘۔

[2]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزھد ،  کلام ابن عمر ،  الحدیث : ۴ ، ج۸ ، ص۱۷۵۔

[3]    المرجع السابق ،  الحدیث : ۱۶ ، ص۱۷۶۔

[4]    المرجع السابق ،  الحدیث : ۲ ، ص۱۷۴۔

[5]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۵۱۴۹ ، ج۵ ، ص۲۲۴

[6]    شعب الإیمان للبیہقی ،  باب فی الزھدوقصرالامل ،  الحدیث : ۱۰۵۲۰ ، ج۷ ، ص۳۴۳۔