Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

سائل کوخالی نہ پھیرتے :  

 ( 1034 ) … حضرت سیِّدُنااَفْلَحبن کَثِیرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَدِیْرسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکسی سائل کوخالی ہاتھ نہیں   لوٹاتے تھے حتی کہ مجزوم ( یعنی کوڑ ھ والے )  کو بھی اپنے ساتھ ایک ہی برتن میں   کھانا کھلاتے اگرچہ اس کی انگلیوں   سے خون ٹپک رہا ہوتا ۔  ‘‘   ( [1] )

 ( 1035 ) … حضرت سیِّدُناعُبَیداللہبن مُغِیْرَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے آزادکردہ غلام حضر ت سیِّدُناعُبَیداللہبن عَدِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَلِیعراق سے آپ  کی خدمت میں   حاضر ہوئے،  سلام کیا پھر عرض کی :  ’’  میں   آپ کے لئے ایک تحفہ لایا ہوں   ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے دریافت فرمایا :  ’’ تم کیا تحفہ لائے ہو ؟  ‘‘  عرض کی :  ’’ جوارش ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ جوارش کیا ہے ؟   ‘‘   عرض کی :   ’’ کھانا ہضم کرنے والی ایک دوا ہے ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ میں   نے 40 سال سے پیٹ بھر کر کھانا نہیں   کھایاتو میں   اسے کیا کروں   گا ۔  ‘‘

 ( 1036 ) … حضرت سیِّدُنااِمام محمدبن سِیْرِین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمُبِیْن سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے عرض کی: ’’ میں   آپ کے لئے جوارش بنادوں   ؟  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اس سے پوچھا :   ’’ جوارش کیا ہے ؟  ‘‘  اس نے بتایا :   ’’ یہ ایک دوائی ہے جوبدہضمی کے لئے بہت مفید ہے ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ میں   نے تو4 مہینے سے پیٹ بھرکرکھانا ہی نہیں   کھایا مجھے اس کی کیا ضرورت،   میری زندگی ان لوگوں    ( یعنی صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ

 

تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن )  کے ساتھ گزری ہے جو ایک مرتبہ پیٹ بھر کر کھاتے اور دوسری بار بھوکے رہا کرتے ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 1037 ) … حضرت سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس کُبَّرْنامی ایک چیزلائی گئی  ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ ہم اس کا کیا کریں   گے ؟  ‘‘  لانے والے نے کہا :   ’’ یہ آپ کوکھاناہضم کرنے میں   مدددے گی ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ میں   تومہینے بھرمیں   ایک دو مرتبہ ہی پیٹ بھر کر کھانا کھاتا ہوں   ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 1038 ) … حضرت سیِّدُنامَیْمُوْن بن مِہْرَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نجدہ حروری کے کچھ لوگ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے اُونٹوں   کے پاس سے گزرے اوراُنہیں   ہانک کرساتھ لے گئے ۔  اونٹوں   کا چرواہا آپ کے پاس آیا اورکہا: ’’ اے ابوعبدالرحمنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ! اللہعَزَّوَجَلَّسے اپنے اونٹوں   کے ثواب ہی کی امید رکھئے ۔  ‘‘ دریافت فرمایا :   ’’ انہیں   کیا ہوا ؟  ‘‘  چرواہے نے بتایا :   ’’ نجدہ حروری کے کچھ لوگوں   کا گزر ان کے پاس سے ہوا تو وہ انہیں   ہانک کر ساتھ لے گئے  ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ وہ اونٹوں   کو لے گئے تو تمہیں   کیسے چھوڑ گئے ؟  ‘‘  چرواہے نے عرض کی:  ’’  وہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے لیکن میں   ان سے بھاگ نکلا ہوں   ۔  ‘‘  فرمایا :  ’’ انہیں   چھوڑ کر میرے پاس آنے پر تمہیں   کس چیز نے آمادہ کیا  ؟  ‘‘  اس نے عرض کی:  ’’ آپ مجھے ان سے زیادہ محبوب ہیں   ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’  تجھے اساللہعَزَّوَجَلَّکی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں   !  کیا میں   واقعی تجھے ان سے زیادہ محبوب ہوں   ؟  ‘‘  چرواہے نے قسم اُٹھا کر اقرار کیا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ میں   اونٹوں   کے ساتھ تجھے بھی ثواب کاذریعہ سمجھتا ہوں    ۔  ‘‘ اوریہ کہہ کر اسے آزاد کر دیا ۔  پھر کچھ عرصے بعد ایک آدمی آیا اور اس نے اُونٹنی کا نام لے کر کہا کہ ’’    فلاں   اونٹنی جو آپ کو پسند تھی وہ بازار میں   بکنے آئی ہے ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ میری چادر دو ۔  ‘‘ چادرکندھوں   پر ڈالی کھڑے ہوئے پھر بیٹھ گئے اورچادرکندھوں   سے اتارکرفرمانے لگے :  ’’ میں   تو اللہعَزَّوَجَلَّ سے اس کے ثواب کی امید لگائے ہوئے ہوں   ۔  پھر کیوں   اس کی خواہش کروں   ؟  ‘‘   ( [4] )

 

 ( 1039 ) … حضرت سیِّدُنا مَیْمُوْن بن مِہْرَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے ایک غلام کومکاتب بنایااورکتابت کی رقم قسط وار مقرر فرمائی ۔  چنانچہ،   جب پہلی قسط کی ادائیگی کا وقت آیاتو غلام آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس رقم لے آیا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اِستفسار فرمایا :   ’’ یہ رقم کہاں   سے لائے ہو ؟  ‘‘ اس نے عرض کی: ’’ کچھ کماکراورکچھ لوگوں   سے مانگ کر ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ توکیا تم لوگوں   کا میل کچیل لاکرمجھے کھلانا چاہتے ہو ؟  ‘‘ جاؤمیں   تمہیں   اللہعَزَّوَجَلَّکی رضا کے لئے آزاد کرتا ہوں   اور جورقم لائے ہواسے بھی لے جاؤ ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 1040 ) … حضرت سیِّدُنا مَیْمُوْن بن مِہْرَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے ایک صاحبزادے نے ان سے تہبندمانگااورعرض کی کہ ’’  میرا تہبندپھٹ گیاہے  ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  تہبندکاٹ کردوبارہ سِی لوپھراسی کوپہن لو ۔  ‘‘ لیکن انہوں   نے ایساکرناناپسندجاناتوآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا : 



[1]    تاریخ دمشق لابن عساکر ،  الرقم ۳۴۲۱عبداﷲ بن عمربن الخطاب ، ج۳۱ ، ص۱۴۵ ، ’’صحنہ‘‘بدلہ ’ ’صحفتہ‘‘۔

[2]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  اخبارعبداﷲ بن عمر ،  الحدیث : ۱۰۵۰ ، ص۲۰۷۔

[3]    المرجع السابق ،  الحدیث : ۱۰۶۰ ، ص۲۰۸ ، ’’لہ الکبر‘‘بدلہ ’ ’لہ الکبل‘‘۔

[4]    الزھدلابی داود ،  اخبارعبداﷲ بن عمر ،  الحدیث : ۳۰۳ ، ج۱ ، ص۳۲۸۔

[5]    السنن الکبریٰ للبیہقی ،  کتاب المکاتب ،  باب من کرہ اخذہاالخ ،  الحدیث : ۲۱۶۶۶ ، ج۱۰ ، ص۵۵۲ ، مفہومًا