Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

تم چاہتے ہو کہ میں   آج کی رات کھانا نہ کھاؤں   ۔  ‘‘  چنانچہ،   اس رات کھانا تناول نہیں   فرماتے  ۔    ( [1] )

 ( 1028 ) … حضرت سیِّدُنامحمدبن قَیسرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا ہمیشہ مسکینوں   کے ساتھ بیٹھ کرکھانا تناول فرماتے تھے حتی کہ اس کی وجہ سے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے جسم میں   کمزوری پیدا ہو گئی ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ  ( کمزوری دورکرنے کے لئے ) کھجوروں   کا شیرہ تیارکرکے کھانے کے ساتھ آپ کوپلایاکرتی تھیں    ۔  ‘‘

کبھی سیرہوکرکھانانہیں   کھایا :  

 ( 1029 ) … حضرت سیِّدُنا حمزہ بن عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم فرماتے ہیں  کہ اگرکھانازیادہ ہوتا اور حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کسی کھانے والے کو پا لیتے تو خود سیر ہو کر نہ کھاتے ۔  چنانچہ،   ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا ابنِ مُطِیْععَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَدِیْع ان کی عیادت کوحاضرہوئے توان کے جسم کی نقاہت وکمزوری دیکھ کر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ حضرت صَفِیَّہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے کہا: ’’ تم ان کا خیال رکھا کرو !  ان کے لئے عمدہ کھانا بنایا کرو ! ہو سکتا ہے ان کی جسمانی طاقت لوٹ آئے ۔  ‘‘ زوجہ نے جواب دیا :  ’’  ہم ایسا کرتے ہیں   لیکن وہ اپنے بعض گھروالوں  اور جو،   ان کے پاس آتا ہے اسے اپنے ساتھ کھانے میں   شریک کر لیتے ہیں   ۔  لہٰذا آپ ہی ان سے اس بارے میں   بات کریں   ۔  ‘‘  چنانچہ،  حضرتِ سیِّدُنا ابنِ مُطِیْععَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَدِیْع نے عرض کی :   ’’ اے ابوعبدالرحمن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  اگر آپ عمدہ کھانا استعمال کریں   تو ممکن ہے کہ آپ کی صحت بحال ہو جائے ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :   ’’ میری عمرکے80سال  بیت چکے ہیں   اور میں   نے اس دوران ایک مرتبہ بھی

 

 پیٹ بھر کر کھانا نہیں   کھایا ۔  ‘‘  یا فرمایا:  ’’  سوائے ایک بار کے کبھی بھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں   کھایا اور اب تم چاہتے ہو کہ میں   پیٹ بھر کر کھاؤں   جبکہ میری عمر صرف اتنی باقی رہ گئی ہے جتنی درازگوش کی پیاس ہوتی ہے ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 1030 ) … حضرت سیِّدُنا عمر بن حمزہ بن عبداللہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم فرماتے ہیں :  میں   اپنے والد کے ساتھ تھا کہ اچانک ایک آدمی گزرا ۔ اس نے میرے والدسے کہا :  ’’ ایک دن میں   نے آپ کومقامِ جرف پرحضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے ساتھ بات چیت کرتے دیکھا تھا  ۔ مجھے بتائیے کہ آپ اس وقت ان سے کیا کہہ رہے تھے ؟  ‘‘  والدصاحب نے فرمایا :   مَیں   نے ان سے یہ عرض کی تھی :  ’’ اے ابو عبدالرحمن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  آپ کا جسم نحیف وکمزور ہو گیا ہے اور آپ کو اب بڑھاپا آرہا ہے اور آپ کے ہم نشین آپ کے حق وشرف سے ناواقف ہیں    ۔  لہٰذااپنے گھر والوں   کوحکم دیں   کہ جب آپ ان کے پاس جائیں   تو وہ عمدہ کھانا بنائیں   اور اچھا سلوک کریں    ( تاکہ آپ تندرست وتوانا ہو جائیں   )   ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :   ’’ اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم !  تجھ پر افسوس ہے ! میں   نے 11،  12،   13 اور14 سالوں   سے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں   کھایا تواب یہ کیونکر ہو سکتا ہے جبکہ میری عمرصرف درازگوش کی پیاس جتنی باقی رہ گئی ہے ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 1031 ) … حضرت سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :  ’’ میں   جب سے اسلام لایاہوں   کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں   کھایا ۔  ‘‘    ( [4] )

یتیموں   پرشفقت :  

 ( 1032 ) … حضرت سیِّدُناابوبکربن حَفْص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ ’’  حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا جب بھی کھانا تناول فرماتے توآپ کے دسترخوان پرکوئی یتیم ضرورموجود ہوتا  ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 1033 ) … حضرت سیِّدُناحَسَن بَصْرِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر

 

رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا جب بھی دوپہریاشام کاکھاناتناول فرماتے تو اپنے اڑوس پڑوس کے یتیموں   کو ضرور بلا لیتے ۔  ایک دن جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہدوپہرکا کھاناتناو ُل فرمانے لگے توحسبِ معمول یتیم کو بلوایا لیکن کوئی نہ آیا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے لئے ستو کُوٹے جاتے تھے جنہیں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہدوپہر کے کھانے کے بعد نوش فرماتے تھے ۔  چنانچہ،   کھانے سے فراغت کے بعد ابھی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے وہ ستو پینے کے لئے اٹھائے ہی تھے کہ ایک یتیم آپہنچا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے وہ ستواسے دیتے ہوئے فرمایا :   ’’ لو میں   نہیں   سمجھتا کہ تم نے دھوکا کھایا ہے  ۔  ‘‘    ( [6] )

 



[1]    الطبقات الکبریٰ لابن سعد ،  الرقم۴۰۲عبداﷲ بن عمربن الخطاب ، ج۴ ، ص۱۲۵۔

[2]    جامع معمربن راشدمع المصنف لعبدالرزاق ،  باب زہدالصحابۃ ،  الحدیث : ۲۰۷۹۶ ، ج۱۰ ،  ص۲۷۶۔

[3]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  اخبارعبداﷲ بن عمر ،  الحدیث : ۱۰۸۱ ، ص۲۱۱۔

[4]    المعجم الکبیر ،  الحدیث۱۳۰۴۴ ، ج۱۲ ، ص۲۰۲۔

[5]    الادب المفردللبخاری ،  باب فضل من یعول یتیمًابین ابویہ ،  الحدیث : ۱۳۶ ، ص۵۸۔

[6]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  اخبارعبداﷲ بن عمر ،  الحدیث : ۱۰۵۱ ، ص۲۰۷۔



Total Pages: 273

Go To