Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

اُنہوں   نے راتوں   رات وہ سب خیرات کر دیئے اور

 

 آج صبح اپنی سواری کے لئے کھوٹے درہم کے عوض چارا خریدا ہے ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 1022 ) … حضرت سیِّدُنا نافعرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں   کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیمارہو گئے تو میں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے لئے ایک درہم کے انگور خرید کر لایا  ۔  اتنے میں   ایک مسکین آ گیا  ۔  تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ یہ خوشہ اسے دے دو ۔  ‘‘ میں   نے اُٹھا کر اسے دے دیا تو ایک شخص اس کے پیچھے گیا اور وہ انگور کاخوشہ مسکین سے ایک درہم میں   خرید کر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس لے آیا  ۔  اتنے میں   پھر وہی مسکین آ گیا اس نے سوال کیا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے خوشہ اسے دینے کا کہا ۔  چنانچہ،   وہ اس مسکین کو دے دیا گیا تو پھر وہ شخص مسکین کے پیچھے گیا اور وہ خوشہ اس سے ایک درہم کے عوض خرید کر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس لے آیا لیکن وہ مسکین پھر سوال کرنے آگیا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اب کی باربھی وہ خوشہ اسے دے دینے کا حکم دیا تو پھر وہ شخص اس کے پیچھے گیا اور مسکین سے ایک درہم کے بدلے خوشہ خرید لیا ۔  اب کی بار پھراس مسکین نے لوٹ کر سوال کرنے کا ارادہ کیا تو اس شخص نے اسے روک دیا  ۔  ( راوی بیان کرتے ہیں   )  اگر حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو اس بات کا علم ہو جاتا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہوہ انگور کبھی نہ چکھتے ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 1023 ) … حضرت سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کوبیماری کی حالت میں   انگور کھانے کی خواہش ہوئی تومیں   ان کے لئے ایک درہم میں   انگوروں   کا ایک خوشہ خرید لایا ۔  میں   نے وہ انگوران کے ہاتھ میں   رکھے ہی تھے کہ ایک سائل نے دروازے پر کھڑے ہوکرسوال کردیا ۔   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے وہ انگور سائل کو دینے کا کہا تو میں   نے عرض کی :  ’’  اس میں   سے کچھ تو تناو ُل فرما لیجئے ،   تھوڑے سے تو چکھ لیجئے ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ نہیں  ،   یہ اسے دے دو ۔  ‘‘  تو میں   نے وہ سائل کو دے دیئے  ۔  ‘‘

            پھر میں   نے سائل سے وہ انگور ایک درہم کے بدلے خریدلئے اورآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں   لے آیا ۔  ابھی ہاتھ میں   رکھے ہی تھے کہ وہ سائل پھر آ گیا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ یہ اسے دے دو ۔  ‘‘  میں   نے عرض کی: ’’ آپ اس میں   سے کچھ چکھ لیجئے ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ نہیں  ،   یہ اسے دے دو ۔  ‘‘  میں   نے وہ خوشہ اسے دے دیا ۔ وہ

 

سائل اسی طرح لوٹ کر آتا رہا اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاسے انگور دینے کا حکم فرماتے رہے ۔  بالآخر تیسری یا چوتھی بار مَیں   نے اس سے کہا: ’’ تیرا ناس ہو !  تجھے شرم نہیں   آتی ؟  ‘‘  پھر میں   اس سے ایک درہم کے عوض انگوروں   کا وہ خوشہ خرید کر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس لایاتو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اسے تناو ُل فرمالیا  ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 1024 ) … حضرت سیِّدُنا سعید بن اَبی ہِلَال رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا ابن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے مقامِ جُحفَہ میں   پڑاؤکیا ۔  اس وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکچھ بیمار تھے،   آپ نے مچھلی کھانے کی خواہش ظاہر کی،   رُفقا نے تلاش کیا لیکن صرف ایک ہی مچھلی دستیاب ہو سکی ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ حضرت صَفِیَّہ بنت اَبی عُبَیْدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے مچھلی پکاکرخدمت میں  پیش کر دی ۔  اتنے میں   ایک مسکین ان کے پاس آ کرکھڑا ہو گیا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اس سے فرمایا :   ’’ مچھلی اُٹھا لو ۔  ‘‘  یہ دیکھ کرزوجہ نے عرض کی :   ’’ سُبْحَانَ اللہعَزَّوَجَلَّ !  اس مچھلی نے تو ہمیں   تھکا دیا ہے اور سائل کو دینے کے لئے ہمارے پاس دوسرا کھانا بھی موجود تھا وہ اسے دے دیتے ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’  لیکن عبداللہکو تو یہ مچھلی پسند تھی  ( اور پسندیدہ چیز کاصدقہ افضل ہے  )  ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 1025 ) … حضرت سیِّدُنا عمربن سعدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَحَدسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کوبیماری کی حالت میں   مچھلی کھانے کی خواہش ہوئی ۔ جب مچھلی پکا کرپیش کی گئی توایک سائل آگیا  ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ یہ مچھلی سائل کودے دو ۔  ‘‘ زوجہ نے کہا :  ’’  ہم اسے درہم دے دیتے ہیں   ۔  وہ سائل کے لئے مچھلی سے زیادہ فائدے مند ہیں   ۔  آپ اپنی خواہش کی تکمیل کیجئے  ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ اب میری خواہش یہی ہے جو میں   کہہ رہا ہوں   ۔  ‘‘    ( [5] )

مساکین سے محبت :  

 ( 1027 ) … حضرت سیِّدُنامَیْمُوْن بن مِہْرَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی زوجہ کوکسی نے عتاب کرتے ہوئے کہا :  ’’  تم اس ضعیف العمرکے ساتھ نرم برتاؤ

 

کیوں   نہیں   کرتی  ؟  ‘‘  انہوں   نے کہا :  میں   کیا کروں   ؟  ان کے لئے کھانا بناتی ہوں   تو یہ کسی اور کو کھانے پر بلا لیتے ہیں   ۔  جب مسجد جاتے ہیں   تو میں   راستے میں   بیٹھے ہوئے مسکینوں   کو کھانا بھیج کر کھلا دیتی ہوں   اور اُن کو کہلواتی ہوں   کہ ان کے راستے میں   نہ بیٹھا کرو ۔  جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہگھر آتے ہیں   تو فرماتے ہیں   کہ ’’  فلاں   کو کھانا بھجوا دینا،   فلاں   کو کھانابھجوا دینا ۔  ‘‘  تو میں   ان کی طرف کھانا بھیجتی ہوں   اور ان کوکہلواتی ہوں   کہ ’’ اگر ابن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا تمہیں   بلائیں   تو مت آنا ۔  ‘‘   ( پھر جب وہ ان کے بلانے پر نہ آتے تو )  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے :  ’’



[1]    تاریخ دمشق لابن عساکر ،  الرقم۳۴۲۱عبداﷲ بن عمربن الخطاب ، ج۳۱ ، ص۱۴۰۔

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۱۳۰۶۷ ، ج۱۲ ، ص۲۰۶۔

[3]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  اخبارعبداﷲ بن عمر ،  الحدیث : ۱۰۵۲ ، ص۲۰۷۔

[4]    تاریخ دمشق لابن عساکر ،  الرقم۳۴۲۱عبداﷲ بن عمربن الخطاب ، ج۳۱ ، ص۱۴۳۔

[5]    الزھدلہنادبن السری ،  باب الطعام فی اﷲ ،  الحدیث : ۶۳۵ ، ج۱ ، ص۳۴۳۔



Total Pages: 273

Go To