Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

اپنے پاؤں   ایک طرف کئے ہوئے تھے ۔  ‘‘    ( [1] )

خوشامدسے بچو :  

 ( 933 ) … حضرت سیِّدُناعُمَارَہ بن عَبْدرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  اے لوگو !  فتنوں   کی جگہوں   سے بچو ۔  ‘‘  کسی نے پوچھا: ’’ اے ابوعبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  فتنوں   کی جگہیں   کون سی ہیں   ؟  ‘‘  فرمایا :  ’’ اُمرا کے دروازے ۔  کیونکہ جب تم میں   سے کوئی کسی امیر کے پاس جاتا ہے تووہ اس کی جھوٹی بات میں   بھی تصدیق کرتا ہے اور اس کی وہ خوبیاں   بیان کرتاہے جواس میں   نہیں   ہوتیں   ( یعنی خوشامدکرتاہے )  ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 934 ) … حضرت سیِّدُنازَیدبن وَہْب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آیااور عرض کی :  ’’ میرے لئے دعائے مغفرت فرمادیجئے ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کے لئے دعا نہ فرمائی اورفرمایا :   ’’ اگر میں   اس گناہ گار کے لئے دعا کردیتا تو یہ کہتا پھرتا کہ حُذَیْفَہ نے میرے لئے مغفرت کی دعا کی ہے  ۔  ‘‘ پھر (  کچھ دیر بعد )  اس سے فرمایا :   ’’ کیا تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اللہعَزَّوَجَلَّتجھے حُذَیْفَہ کے ساتھ رکھے  ۔ پھر دعافرمائی :  اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !  اسے حُذَیْفَہ کے ساتھ رکھنا ۔  ‘‘    ( [3] )

آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کاوصال :  

  ( 935 ) … حضرت سیِّدُنارِبْعِی بن خِرَاشرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنی وفات کے وقت کہنے لگے :  ’’ کتنے دن موت میرے پاس آئی لیکن مجھے اس میں   تردّدنہ ہواجبکہ آج مختلف خیالات دل پر گزر رہے ہیں   نہ معلوم کس خیال پرمیری موت واقع ہوگی ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 936 ) … حضرت سَیِّدَتُنااُم سَلَمَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ حضرت حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  میں   چاہتا ہوں   کہ کوئی شخص ہوجو میرے مال کا خیال رکھے پھر میں   دروازہ بند کرلوں   اور میرے پاس کوئی نہ آئے یہاں   تک کہ میں   اپنے رب عَزَّوَجَلَّسے جاملوں   ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 937 ) … حضرت سیِّدُناابووَائِل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’  اللہعَزَّوَجَلَّجس حالت میں   اپنے بندے کو دیکھناچاہتاہے اس میں   پسندیدہ ترین حالت یہ ہے کہ بندہ اپنے چہرے کو مٹی سے آلودہ کئے ہوئے ہو ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 938 ) … حضرت سیِّدُناضَحَّاک رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  مجھے اس اُمت پر سب سے زیادہ خوف اس بات کا ہے کہ وہ اپنی رائے کواپنے علم پرترجیح دیں   گے اورگمراہ ہو جائیں   گے اور انہیں   اپنی گمراہی کا شعور بھی نہ ہوگا ۔  ‘‘    ( [7] )

 ( 939 ) … حضرت سیِّدُنااَعْمشرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرمایاکرتے تھے کہ ’’   تم میں   بہترین لوگ وہ نہیں   جو آخرت کی خاطر دنیا کو ترک کردیں   یا دنیا کی خاطر آخرت کونظرانداز کر دیں   بلکہ بہترین لوگ وہ ہیں   جو دونوں   سے ضرورت کے مطابق حصہ لیں   ۔  ‘‘    ( [8] )

مقام محمود :  

 ( 940 ) … حضرت سیِّدُناصِلَہ بن زُفَررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  سب لوگ ایک وسیع میدان میں   جمع کئے جائیں   گے ۔  وہاں   کسی کوبات کرنے کی جرأت نہ ہوگی ۔  چنانچہ،   سب سے پہلے حضرت سیِّدُنا محمدمصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بلایا جائے گا ۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عرض کریں   گے :  ’’ اے ربعَزَّوَجَلَّ !  میں   حاضر ہوں    ۔ ساری بھلائی تیرے قبضۂ قدرت میں   ہے اور برائی تیری طرف سے نہیں    ( [9] ) ۔ جسے تونے چاہا ہدایت دی ۔ تیرا بندہ تیری بارگاہ میں   حاضر ہے ۔  میرا تعلُّق تیرے ساتھ ہے اورمجھے تجھی سے غرض ہے ۔  تیرے سوا نجات وپناہ کی کوئی جگہ نہیں   ۔  تو برکت والااور بلند رُتبے والا ہے ۔  اے رب کعبہ  !  تیری ذات پاک ہے ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  قرآنِ کریم کی اس آیت کریمہ میں   اسی طرف اشارہ ہے ۔ چنانچہ،  اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان عالیشان ہے:

عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا(۷۹) ( پ۱۵،  بنی اسرائیل :  ۷۹ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  قریب ہے کہ تمہیں   تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں   سب تمہاری حمد کریں   ۔ ( [10] )

 



[1]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الجہاد ،  باب فی امام السریۃ یأمرہمالخ ،  الحدیث : ۱۱ ، ج۷ ، ص۷۳۷۔

[2]    جامع معمربن راشدمع المصنف لعبدالرزاق ،  کتاب الجامع ،  باب ابواب السلطان ،  الحدیث : ۲۹۸۰۹ ، ج۱۰ ، ص۲۸۰۔

[3]    الطبقات الکبری لابن سعد ،  الرقم۲۳۲۵ابراھیم النخعی ، ج۶  ، ص۲۸۴ ، مختصرًا۔

[4]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزھد ،  کلام حذیفۃ ،  الحدیث : ۱۰ ، ج۸ ، ص۲۰۱۔

[5]