Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 923 ) … حضرت سیِّدُناسَعِیْد بن وَہْب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں   نے حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو فرماتے سنا کہ ’’   گویا میں   ایک سوار کو دیکھ رہا ہوں  جو تمہارے درمیان اقامت اختیارکرتا ہے اور دعویٰ کرتاہے کہ ساری زمین ہماری اور سارے اموال ہمارے ہیں   ۔  وہ بیواؤں  ،   مسکینوں    اور اس مال کے درمیان حائل ہے جواللہ عَزَّوَجَلَّنے اس کے آباء و اجداد کو عطا فرمایا ۔  ‘‘  

دل چارقسم کے ہوتے ہیں :

 ( 924 ) … حضرت سیِّدُنااَبوبَخْتَرِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ دل چار قسم کے ہیں :  ایک وہ جو پردوں   میں   لپٹا ہوا ہے ۔ یہ کافر کا دل ہے ۔  دوسرا وہ جو اُلٹا جھکا ہوا ہے ۔ یہ منافق کا دل ہے ۔  تیسرا وہ جو صاف ستھرا ہے ۔ جس میں   ایک روشن چراغ ہے ۔ یہ مومن کا دل ہے اور چوتھاوہ جس میں   نفاق و ایمان دونوں   ہیں   ۔  ایمان کی مثال اس درخت کی سی ہے جسے پاکیزہ پانی پروان چڑھاتا ہے اور نفاق کی مثال اس زخم کی سی ہے جس میں   پیپ و خون بھرا ہوتا ہے ۔  پس ان میں   سے جودوسرے پر غلبہ پالے وہی غالب ہو جاتا ہے ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 925 ) … حضرت سیِّدُناابومُغِیرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں   نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے زبان کی تیزی کی شکایت کی توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرما یا :  ’’ تم ( دن میں   )  کتنی باراستغفارکرتے ہو ؟ بے شک میں   تو ہرروز100بار اللہ عَزَّوَجَلَّسے استغفار کرتا ہوں   ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 926 ) … حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  میں   نے بارگاہِ رسالتعَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں   حاضر ہوکرعرض کی کہ ’’  گھر والوں   پر میری زبان تیز ہوجاتی ہے اور میں   ڈرتاہوں   کہ کہیں   یہ مجھے جہنم میں   نہ لے جائے ۔  ‘‘ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دریافت فرمایا :  ’’  تم ( دن میں   ) کتنی بار استغفار کرتے ہو ؟ بے شک میں   روزانہ 100باراللہ عَزَّوَجَلَّسے استغفار کرتا ہوں    ۔  ‘‘   ( [3] )

فقروفا قہ آنکھوں   کی ٹھنڈ ک :  

 ( 927 ) … حضرت سیِّدُناابو اَبیض مَدَنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِیسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  میری آنکھوں   کوزیادہ ٹھنڈک ان ایام میں   پہنچتی ہے جن میں   میرے گھرلوٹنے پر گھر والے فاقہ کی شکایت کرتے ہیں   ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 928 ) …  حضرت سیِّدُنااُمَیَّہ بن قَسِیْم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْحَکِیْمسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ میری آنکھوں   کوسب سے زیادہ ٹھنڈک اس وقت پہنچتی ہے جب گھر والے مجھ سے فقر و فاقہ کی شکایت کر رہے ہوں   اور بے شکاللہ عَزَّوَجَلَّبندہ ٔمومن کی،  دنیاسے اس طرح حفاظت فرماتاہے جس طرح مریض کے گھر والے مریض کوکھانے سے پرہیز کرواتے  ہیں   ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 929 ) …  حضرت سیِّدُناسَاعِد بن سَعْدبن حُذَیْفَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرمایاکرتے تھے کہ میری آنکھوں  کوسب سے زیادہ ٹھنڈک اس دِن پہنچتی ہے اورمجھے سب سے زیادہ محبوب وہ دن ہے کہ جس دن میں   گھر آؤں   اور اپنے گھر والوں   کے پاس کھانے کی کوئی چیز نہ پاؤں   اوروہ مجھے کہیں   کہ تم تھوڑے بہت پربھی قدرت نہیں   رکھتے ہو  ( کہ کما سکو )  یہ اس لئے کہ میں   نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشادفرماتے ہوئے سنا کہ ’’  جتنا پر ہیز مریض کے گھر والے مریض کو کھانے سے کرواتے ہیں   ۔  اس سے بڑھ کراللہ عَزَّوَجَلَّبندۂ مومن کی دنیاسے حفاظت فرماتاہے  اورجس قدرایک باپ اپنی اولاد کو خیریت سے رکھنا چاہتا ہے اس سے بھی کہیں   زیادہ اللہ عَزَّوَجَلَّاپنے بندۂ مومن کو آزمائش میں   رکھنا چاہتا ہے ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 930 ) … حضرت سیِّدُنااَعمش رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا سَعْدبن مُعَاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے استفسار فرمایا :   ’’ جب ہم دنیا میں   مبتلا ہو جائیں   گے تو آپ ہمیں   کس حالت میں   دیکھنا پسند کریں   گے ؟  ‘‘ انہوں   نے فرمایا :  ’’  ہم ایسا زمانہ نہیں   پائیں   گے ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ حضرت سَعْدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ان کے گمان کے مطابق اور مجھے میرے گمان کے مطابق دنیا عطاکی گئی ۔  ‘‘    ( [7] )

سیِّدُناحُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی عاجزی وانکساری :  

 ( 931 ) … حضرت سیِّدُناامام محمدبن سِیْرِین  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمُبِیْن فرماتے ہیں : ’’ حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جب مدائن تشریف لائے تو دراز گوش کے پالان پرسوارتھے اور ہاتھ میں   ایک روٹی اورایک بوٹی تھی جسے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ دراز گوش پربیٹھے بیٹھے تناول فرمارہے تھے ۔  ‘‘    ( [8] )

 ( 932 ) … یہ روایت بھی سابقہ روایت ہی کی طرح ہے ۔  البتہ اس کے راوی حضرت سیِّدُناطلحہ بن مُصَرِّف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہہیں  اوراس میں   اتنا زائد ہے کہ ’’ حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے



[1]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الفتن ،  باب من کرہ الخروجالخ ،  الحدیث : ۲۸۷ ، ج۸ ، ص۶۳۷۔

[2]    السنن الکبرٰی للنسائی ،  کتاب عمل الیوم واللیلۃ ،  باب مایقول منالخ ،  الحدیث : ۱۰۲۸۴ ، ج۶ ،  ص۱۱۷۔

[3]    السنن الکبرٰی للنسائی ،  کتاب عمل الیوم واللیلۃ ،  باب مایقول منالخ ،  الحدیث : ۱۰۲۸۵ ، ج۶ ، ص۱۱۷۔

[4]    شعب الإیمان للبیہقی ،  باب فی الصبرعلی المصائب ،  الحدیث : ۱۰۱۲۱