Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

لوگ تھوڑی مشقت بر داشت کرکے طویل آرام حاصل کرتے ہیں   ۔  ‘‘   ( [1] )

تَصَوُّف کی تحقیق

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ اَصْفَہانی  قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی فرماتے ہیں  : ’’ ہم نے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام کے چند مناقب اور اَصفیاء کے کچھ مراتب بیان کر دئیے ہیں   اورجہاں  تک تصوُّف کاتعلُّق ہے تو محققین ومدققین فرماتے ہیں   کہ ’’ تصوُّف ’’ صَفَاءٌ ‘‘ اور ’’  وَفَاءٌ ‘‘ سے مشتق ہے اورلغوی حقائق  کے اعتبار سے چا ر چیزوں   میں   سے کسی ایک سے مُشْتَق ہے  ( ۱ )  تصوُّف ’’  صُوْفَـانَـۃٌ  ‘‘ سے مُشْتَق ہے جس کے معنی سبزی اور گر دو غبار کے ہیں   یا  ( ۲ ) ’’ صُوْفَـۃٌ  ‘‘ سے مُشْتَق ہے ۔  پہلے زمانے میں   ’’ صوفـۃ  ‘‘ نامی ایک قبیلہ تھا جو حاجیوں   کی دیکھ بھال کرتا اور کَعْبَۃُ اللہزَادَھَا اللہ تَعْظِیْمًاوَّ تَکْرِیْمًاکی خدمات سر انجام دیتا تھا  ۔ یا ( ۳ ) یہ ’’  صُوْفَۃُ الْقَفَا ‘‘ سےمُشْتَق ہے ۔  جس کا معنی گدی پر اُگنے والے بال ہیں   ۔ یاپھر ( ۴ ) تصوُّف ’’ صُوْفٌ ‘‘ سے بنا ہے جس کے معنی بھیڑ کی اُون کے ہیں   ۔

تصوُّف کے پہلے معنی کی تحقیق :  

             اگر تصوُّف کو ’’  صُوْفَانَۃٌ  ‘‘ سے ماخوذ مانا جائے جس کے معنی سبزی کے ہیں   تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ لوگوں   کا اس چیز ( یعنی سبزی وغیرہ )  پراکتفا کرنا کہ جسے ایک ہی خدا عَزَّوَجَلَّنے پیدا کیا ہے اور جس میں   دوسری مخلوق کوتکلیف دئیے بغیر اپنی ضرورت پوری کر لی جاتی ہے  ۔ پس اُنہوں   نے اس سبزی پر جو لوگوں   کے کھانے کے لئے پیدا کی گئی ہے اس طرح قناعت کی جس طرح پاکیزہ و پارسا لوگ قناعت کرتے ہیں   اور جس طرح تمام مہاجرین نے اپنے ابتدائی احوال میں   قناعت اختیارکی ۔ جیساکہ حدیث ِپاک میں   ہے ۔  چنانچہ، 

 ( 31 ) …  حضرت سیِّدُناقیس بن ابی حازم  رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُناسعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو فرماتے ہوئے سنا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  اہلِ عرب میں   سب سے پہلے جس نےاللہعَزَّوَجَلَّکی راہ میں   تیر چلایاوہ میں   ہوں   اور بلاشبہ ہم رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ جہادمیں   شرکت کیا کرتے تھے اور حالت یہ ہوتی تھی کہ ہمارے پاس انگو ر اور بیری کے پتو ں   کے سوا کھانے کے لئے کچھ نہیں   ہوتا تھا یہاں   تک کہ پتے کھاکھا کر ہماری با چھیں   زخمی ہوجاتیں   اور ہم اس طرح پاخانہ کرتے جس طر ح بکری مینگنیاں   کرتی ہے ۔  ‘‘   ( [2] )

 تصوُّف کے دوسرےمعنی کی تحقیق :  

            اور اگر تصوُّف کو ’’  صُوْفَـۃٌ ‘‘ سےمُشْتَق مانا جائے جو کہ ( حاجیوں   اور حرم شریف کی خدمت پر مامور ایک )  قبیلہ ہے تو اس صورت میں  ’’ صوفی ‘‘  سے مراد وہ ہوگا جو دنیا کے رنج وغم سے چھٹکارا حاصل کرکے اپنے مال سے فائدہ اٹھاکراسے اپنی آخرت کے لئے ذخیرہ کرلیتا ہے ۔ دنیا میں   رہتے ہوئے ہدایت پر ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں   سے محفوظ رہتا،   نیکیوں   میں   کوشش کرتا،  اپنی زندگی کے لمحات کو غنیمت جان کر اس میں   اپنی آخرت کے لئے اچھے اَعمال کا زادِ راہ اکٹھا کر لیتا اور اپنے اوقات کی حفا ظت کرتا ہے اوریوں   وہ برگز یدہ لوگوں   کے راستے پر چل کر موت کی سختیوں   اورہلاکتوں   سے نجات پالیتا ہے  ۔ چنانچہ، 

 ( 32 ) … امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ نور کے پیکر،   تمام نبیوں   کے سَرْوَر،   دو جہاں   کے تاجْوَر،   سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  اے علی !  جب لوگ نیکی کے دروازوں   کے ذریعے اپنے خالق عَزَّوَجَلَّکا قرب حاصل کریں   تو تُم عقل کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کر وکہ اس طر ح تم لوگوں   سے دَرَجات میں   بڑھ جاؤ گے اور یہ دنیا میں   لوگوں   کے نزدیک بلندمرتبہ اور آخرت میں  اللہ عَزَّوَجَلَّکے قرب کا باعث ہے ۔  ‘‘   ( [3] )

  ( 33 )  … حضرت سیِّدُناابوذرغفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : میں   سرکارِ مدینہ ،   قرارِ قلب وسینہ ،  با عثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ عالیہ میں   حاضر تھا  ۔ میں   نے اِستفسار کیا :   ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  حضرت سیِّدُناابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَامکے صحیفوں   میں   کیا تھا  ؟  ‘‘  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اس میں   ہر قسم کی مثالیں   تھیں   ان میں   یہ بھی تھا کہ عمل کرنے والا جب تک عقل کے معاملے میں   مغلوب نہ ہو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اوقات کو اس طرح تقسیم کرے کہ ایک وقت میں   اپنے پَروَرْدْگار عَزَّوَجَلَّسے مُناجات کرے  ۔  ایک وقت میں   اپنے نفس کا محاسبہ کرے ،   ایک وقت میں  اللہ عَزَّوَجَلَّکی مخلوق میں   غور وفکر کرے اور ایک وقت میں   اپنے کھانے پینے کی حاجات کو پورا کرے ۔  ‘‘    ( [4] )

تصوُّف کے تیسرے معنی کی تحقیق :  

            اگر تصوُّف ’’  صُوْفَۃُ الْقَفَا ‘‘  ( جس کا معنی گدی کے بال ہے  )  سے مُشْتَق ہو تو اس کے معنی یہ ہوں   گے کہ صوفی خالق عَزَّوَجَلَّکی طر ف متوجہ ہوتااور مخلوق سے منہ موڑ لیتا ہے نیزوہ مخلوق سے نہ تو کوئی بدلہ چاہتا ہے اور نہ ہی حق سے پھرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ چنانچہ، 

 ( 34 ) … حضرت سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال،   پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جب آگ کے دن حضرت



[1]    مسندالحارث ،  کتاب الادب ،  باب ماجاء فی العقل ،  الحدیث : ۸۴۴ ، ج۲ ، ص۸۱۴۔

[2]    صحیح مسلم  ،  کتاب الزھد ،  باب الدنیا سجن للمؤمن وجنۃ للکافر ،  الحدیث : ۷۴۳۳ / ۷۴۳۵ ، ص۱۱۹۲۔

   صحیح البخاری ،  کتاب الرقاق ،  باب کیف کان عیش الخ ،   الحدیث : ۶۴۵۳ ، ص۵۴۲۔

[3]    الترغیب فی فضائل الأعمال وثواب ذلک الخ ،  الحدیث : ۲۵۶ ، ج۱ ، ص۲۸۶۔

[4]    الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،  کتاب البر والاحسان ،  الحدیث : ۳۶۲ ، ج۱ ،  ص۲۸۸ ، بتغیرٍ۔



Total Pages: 273

Go To