Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

دل دوقسم کے ہوجائیں   گے :  

 ( 904 ) …  حضرت سیِّدُنارِبْعِی بن خِرَاشرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ بن یَمَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  کی بارگاہ سے واپس لوٹے توبیان کیاکہ ہم امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضر تھے کہ انہوں   نے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے دریافت فرمایا :  ’’ کیا تم میں   سے کسی نے حضورنبی ٔ رحمت ،  شفیعِ امت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سمندر کی طرح موجزن ہونے والے فتنوں   سے متعلق حدیث سنی ہے  ؟  ‘‘ سب صحابہ خاموش رہے اور میں   سمجھ گیاکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی مرادمیں   ہوں   ۔ چنانچہ،  میں   نے عرض کی: ’’ جی ہاں   !  میں   نے سنی ہے ۔  ‘‘ فرمایا :   ’’ اللہعَزَّوَجَلَّ تیرے باپ پررحم فرمائے !  تم نے ضرور سنی ہوگی ۔  ‘‘ پھرمیں   نے حدیث بیان کی کہ ’’   دلوں   پراس طرح فتنے چھا جائیں   گے جس طرح کٹی ہوئی کھیتی ۔ جو ان فتنوں   سے نفرت کرے گا اس کے دل پر سفید نکتہ لگا دیاجائے گا اور جو انہیں   پسند کرے گا اس کے دل پر سیاہ دَھبّا لگادیا جائے گا حتی کہ لوگوں   کے دل دو قسم کے ہوجائیں   گے ایک سفید سنگ مرمر کی طرح،  جب تک زمین وآسمان قائم ہیں   اس دل کو کوئی فتنہ نقصان نہ پہنچاسکے گااوردوسراکالا،  راکھ کی طرح جیسے اوندھا کوزہ اس کاایک پہلوجھکاہوگا ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُناابو یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَجِیْد فرماتے ہیں  : ’’ پہلو جھکا ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ نہ توکسی بھلائی کو پہچانے،  نہ کسی برائی کو براجانے سوا اس خواہش کے جواس کے من کوبھائے ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : پھر میں   نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو بتایا کہ ’’ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اور ان فتنوں   کے درمیان ایک بنددروازہ ہے جوعنقریب توڑ دیا جائے گا ۔  ‘‘ انہوں   نے فرمایا :   ’’ تیراباپ نہ رہے !  کیاوہ توڑ دیا جائے گا ؟  ‘‘  میں   نے عرض کی :   ’’ جی ہاں   ۔  ‘‘  فرمایا :  ’’ اگر وہ کھولا جاتا توہو سکتا تھا کہ دوبارہ لوٹایاجاتا ۔  ‘‘  میں   نے کہا :  ’’  نہیں   ! بلکہ اسے توڑدیاجائے گا ۔  ‘‘ اورمیں   نے امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو بتایا کہ ’’ وہ دروازہ ایک مَرْد ہے جسے شہیدکیا جائے گا یا وہ و فات پائے گا ۔  یہ ایک صاف بات ہے،   کوئی مُغَالَطہ نہیں    ۔    ( [1] )

اَمانت اُٹھ جائے گی :  

 ( 905 ) … حضرت سیِّدُنازَیدبن وَہْب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مَرْوِی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ حضور نبی ٔکریم،   رَء ُ وفٌ رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں   دو باتیں   بیان فرمائیں  ،   ان میں   سے ایک کو تو میں   دیکھ چکا ہوں   اور دوسری کے اِنتظار میں   ہوں   ۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں   بتایا کہ امانت لوگوں   کے دِلوں   کی گہرائی میں   اُتاری گئی ہے ۔ پھر لوگوں   نے قرآن اور سنت کو سیکھا ۔ پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں   اس امانت کے اُٹھ جانے کی خبردیتے ہوئے فرمایاکہ ’’  آدمی سوئے گا تو اس کے دل میں   ایک سِیَاہ دَھبَّا لگا دیا جائے گا جس کااَثر آبْلَے کی طرح ہوگاکہ جیسے تم اپنے پاؤں   پرچنگاری ڈالو تو اس سے چھالا بن جاتاہے تم اسے پھولاہوا دیکھتے ہوجبکہ اس میں   کچھ نہیں   ہوتا ۔ پھر لوگوں   میں   کوئی امین نہ رہے گااوران پر ضرورایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ایک شخص کے بارے میں   کہا جائے گا وہ کتنا خوش طبع اور کتنا زبردست عالِم ہے حالانکہ اس کے دل میں   جو کے دانے برابربھی ایمان نہیں   ہو گا  ۔  ‘‘    ( [2] )

گونگے بہرے فتنے:

 ( 906 ) … حضرت سیِّدُنانَصْربن عَاصِم لَیْثِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی بیان کرتے ہیں   کہ ایک مرتبہ میں  قبیلہ بنولَیْث کی ایک جماعت کے ہمراہ  یشکری کے پاس آیا پھر میں   کوفہ میں   آیا اور کوفہ کی جامع مسجد میں   داخل ہوا تو دیکھا کہ مسجد میں   ایک حلقہ لگا ہوا ہے ان کی کیفیت یہ ہے کہ گویا ان کے سرکاٹ دیئے گئے ہیں   اور وہ سب ایک شخص کی باتوں   کی طرف کان لگائے غور سے سن رہے ہیں   میں   بھی ان لوگوں   کے پاس کھڑا ہو گیا اور پوچھا :  ’’  یہ شخص کون ہے ؟   ‘‘ بتایاگیا :   ’’  یہ حضرتِ سیِّدُنا حُذَیْفَہ بن یَمَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہیں   ۔  ‘‘ میں   نے ان کے قریب ہوکرسناتو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرما رہے تھے کہ لوگ تو حضورنبی ٔاَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے خیرکے متعلق پوچھا کرتے تھے جبکہ میں  شر کے بارے میں   سوال کرتاتھاکیونکہ مجھے معلوم تھا کہ بھلائی مجھ سے سبقت نہیں   لے جاسکتی ۔ چنانچہ،  میں   نے عرض کی :   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  کیا اس خیر کے بعد کوئی شر  ہوگا ؟  ‘‘ ارشادفرمایا :  ’’  اے حُذَیْفَہ !  قرآن سیکھو اور اس کی اتباع کرو ۔  ‘‘ یہ بات آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے 3 مرتبہ ارشاد فرمائی ۔  میں   نے پھرعرض کی :   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  کیا اس خیر کے بعدکوئی برائی ہو گی ؟  ‘‘ ارشادفرمایا :  ’’ ایک فتنہ اورشر ہے ۔  ‘‘ اور ابو داؤد شریف کی روایت میں   ہے کہ فرمایا :  ’’ دھویں   پر صلح  ۔  ‘‘  میں   نے عرض کی :  ’’ دھویں   پرصلح کیا چیز ہے ؟  ‘‘  ارشاد فرمایا :   ’’ لوگوں   کے دل اس طرف نہیں   لوٹیں   گے جس پر تھے ۔  ‘‘ اس کے بعدآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’  پھر گونگے،   بہرے فتنے رُونما ہوں   گے،  ان کی طرف بلانے والے سراسر گمراہ ہوں   گے (  یا فرمایا :   اس کی طرف بلانے والے جہنمی ہوں   گے ۔  ) توتمہاراکسی درخت کی ٹہنی کواپنے دانتوں   کے ساتھ مضبوطی سے پکڑلینا ان میں   سے کسی کی پیروی کرنے سے بہتر ہے ۔  ‘‘    ( [3] )

فتنہ کے وقت کیا کریں :

 ( 907 ) …  حضرت سیِّدُناابو اِدْرِیس خَوْلاَنی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : میں   نے حضرتِ سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے خیر کے بارے میں   پوچھتے تھے جبکہ میں   شر کے بارے میں   پوچھاکرتاتھا اس ڈر سے کہ کہیں   اس میں   مبتلا نہ ہو جاؤں   ۔ چنانچہ،  میں   نے عرض کی :   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ



[1]    صحیح مسلم ،  کتاب الإیمان ،  باب رفع الأمانۃ والإیمانالخ ،  الحدیث : ۳۶۹ ، ص۷۰۲۔

                المسندللامام احمدبن حنبل ،  حدیث حذیفۃ بن الیمان ،  الحدیث : ۲۳۵۰۰ ، ج۹ ، ص۱۱۶۔

[2]    مسندابی داؤدالطیالسی ،  احادیث حذیفۃ بن الیمان ،  الحدیث : ۴۲۴ ، ص۵۷۔

[3]    سنن ابی داود ،  کتاب الفتن ،  باب ذکر الفتن وملاحم ،  الحدیث : ۴۲۴۶ ، ص۱۵۳۱۔

                 مسندابی داؤدالطیالسی ،  احادیث حذیفۃ بن الیمان ،  الحدیث : ۴۴۲ ، ص۵۹



Total Pages: 273

Go To