Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

یہ بات یادہے کہ اے ایمان والو ! جوتم خود نہیں   کرتے وہ دوسروں   کوکیوں   کہتے ہوتمہاری گردنوں   میں   شہادت لکھ دی جائے گی پھرقیامت کے دن تم سے اس کے بارے میں   سوال ہوگا ۔  ‘‘    ( [1] )

عظمت ِ قرآن :  

 ( 857 ) …  حضرت سیِّدُنا ابوکِنَانَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان لوگوں   کوجمع کیاجوقرآن پاک پڑھ چکے تھے ان کی تعداد تقریباً 300 تھی ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کے سامنے قرآنِ مجیدکی عظمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :  ’’ بے شک یہ قرآنِ مجید تمہارے لئے اجر و ثواب کاذریعہ ہے لیکن یہ تم پربوجھ بھی بن سکتاہے  ۔ اس لئے تم قرآن مجید کی اتباع کرو ۔ اسے اپناتابع نہ بناؤ ۔  کیونکہ جو قرآن مجید کی اتباع کرتا ہے قرآن پاک اسے جنت کے باغات میں   پہنچادیتاہے اور جو قرآن مجید کو اپنا تابع بناتاہے قرآن پاک اسے گدی کے بل جہنم میں   دھکیل دیتاہے  ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 858 ) …  حضرت سیِّدُنا بُرَیْدَہ  رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی ٔ اکرم ،  رَسُولِ مُعَظَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو بلند آوازسے قرآنِ مجید پڑھتے سنا تو اِرشاد فرمایا :   ’’  اسے آلِ داؤد کی خوش آوازی سے حصہ ملا ہے ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُنا بُرَیْدَہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کہتے ہیں : یہ بات میں   نے حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو بتائی توانہیں   نے کہا :  ’’  جب سے آپ نے مجھے حضورنبی ٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یہ بات بتائی ہے تب سے آپ میرے دوست ہیں    ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 859 ) …  حضرت سیِّدُناابوبُرْدَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ ایک رات سرکارِ نامدار،  شہنشاہِ ابرارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کے ساتھ حضرتِ سیِّدُناابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے گھرکے پاس سے گزرے  ۔  اس وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنے گھر میں   قرآنِ مجید کی تلاوت کررہے تھے  ۔  دونوں   مبارکہ ہستیاں   ان کی قراء ت سننے کے لئے وہاں   ٹھہرگئے،   پھرکچھ دیربعد گھر تشریف لے گئے  ۔ صبح جب حضرت سیِّدُناابوموسیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بارگاہِ رسالت عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں   حاضرہوئے تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’ اے ابو موسیٰ ! گذشتہ رات میں   تمہارے گھر کے پاس سے گزرا میرے ساتھ عائشہ بھی تھیں   اس وقت تم اپنے گھر میں   قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے،   ہم دونوں   تمہاری قراء ت سننے کے لئے ٹھہرگئے ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  اگر مجھے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی موجودگی کا علم ہوتا تو میں   اور زیادہ خوبصورت آواز سے تلاوت کرتا ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 860 ) …  حضرت سیِّدُنااَنَس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔ پاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’  ابو موسیٰ کو آلِ داؤد کی خوش آوازی سے حصہ دیا گیا ہے  ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 861 ) …  حضرت سیِّدُناابوسَلَمَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر بن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُناابو موسیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایاکرتے :   ’’ ہمیں   ہمارے پروردگار عَزَّوَجَلَّ  کا کلام سنا ؤ  ۔  ‘‘ تووہ قرآن مجیدکی تلاوت کرتے ۔    ( [6] )

 ( 862 ) … حضرت سیِّدُناابو عثمان نَہْد ِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہمیں   صبح کی نماز پڑھاتے تھے ۔ ان کی آواز اتنی سریلی اور دِلکش تھی کہ سِتاراورجھانجھ ( ایک قسم کے باجے )  کی آواز بھی ایسی نہ تھی ۔  ‘‘    ( [7] )

 ( 863 ) … حضرت سیِّدُنامَسْرُوق رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  ہم چند افرادایک مرتبہ حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ کسی سفرپر تھے،  رات ہم نے حَرْث کے باغ میں   پڑاؤ کیا ۔ وہاں   حضرت سیِّدُناابو موسیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ رات کو اُٹھ کر نماز پڑھنے لگے  ۔ اس کے بعدحضرت سیِّدُنامَسْرُوق رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی حسنِ آواز وحسنِ قراء َت کو بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا دورانِ تلاوت جس مضمون پر سے گزر ہوتا اسے تلاوت کرنے کے بعد کہتے :   ’’ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَ مِنْکَ السَّلَامُ وَ اَنْتَ الْمُؤْمِنُ تُحِبُّ الْمُؤْمِنَ وَاَنْتَ الْمُھَیْمِنُ تُحِبُّ الْمُھَیْمِنَ وَاَنْتَ الصَّادِقُ تُحِبُّ الصَّادِقَ یعنی :   اے اللہعَزَّوَجَلَّ !  تو سلامتی والا ہے اورسلامتی تیری ہی طرف سے ہے ،  تو امن دیتا اور مؤمن سے محبت کرتا ہے ۔  تونگہبان ہے اور نگہبان کو پسند کرتا ہے ۔  تو سچا ہے اور سچے سے محبت کرتا ہے  ۔  ‘‘    ( [8] )

 ( 864 ) … حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ہم ایک سفر میں   حضرت ابو موسیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ تھے ۔  ایک مقام پر انہوں   نے لوگوں   کوآپس میں   باتیں   



[1]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزھد ،  کلام ابی موسٰی ،  الحدیث : ۱۱ ، ج۸ ، ص۲۰۴۔

                صحیح مسلم ،  کتاب الزکاۃ ،  باب لوأن لابن آدم وادیین لابتغی ثالثا ،  الحدیث : ۲۴۱۹ ، ص۸۴۳۔

[2]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزھد ،  کلام ابی موسٰی ،  الحدیث : ۹ ، ج۸ ، ص ۲۰۴۔

                فضائل القرآن للفریابی ،   باب فی فضل القرآن وقرائتہ ،  الحدیث : ۱۹ ، ص۲۱۔

[3]    سنن النسائی ،  کتاب الافتتاح ،  باب تزیین القرآن بالصوت ،  الحدیث : ۱۰۲۲ ، ص۲۱۵۳۔

                المسندللامام احمدبن حنبل ،

Total Pages: 273

Go To