Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

قدرت کی خوشخبری دواور جو شخص کوئی دینی کام دنیا کے حصول کے لئے کرے گااسے آخرت میں   اس کا کوئی اجر نہیں   دیاجائے گا  ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 851 ) … حضرت سیِّدُناطفیل بن اُبی بن کَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ جب ایک چوتھائی رات گزرجاتی توحضورنبی ٔاکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرمایاکرتے :  ’’  اے لوگو ! اللہعَزَّوَجَلَّ کو یاد کرو،  تھرتھرانے والی،   اس کے پیچھے آنے والی آ رہی ہے اور موت اپنی تمام ترتکالیف کو ساتھ لئے آرہی ہے ۔  ‘‘ یہ بات آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتین مرتبہ فرمایاکرتے تھے ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 852 ) … حضرت سیِّدُنااُبی بن کَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی ٔمُکَرَّم،  نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ’’ کیا میں   تمہیں   وہ کلمات نہ سکھاؤں   جو مجھے جبرائیلعَلَیْہِ السَّلَامنے سیکھائے ہیں   ؟  ‘‘  میں   نے عرض کی :  ’’  جی ہاں   !  یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ۔  ‘‘ ارشادفرمایا: ’’ اس طرح کہو: ’’ اللہمَّ اغْفِرْ لِیْ خَطَایَایَ وَعَمْدِیْ وَہَزْلِیْ وَجَدِّیْ وَلَاتَحْرِمْنِیْ مِنْ بَرَکَۃِ مَا اَعْطَیْتَنِیْ وَلَا تُفْتِنْنِیْ فِیْمَاحَرَّمْتَنِیْیعنی اے اللہعَزَّوَجَلَّ  ! جوگناہ میں   نے بھول کر یاجان بوجھ کر،  مذاق میں   یا سنجیدہ رہ کرکئے سب معاف فرمااور مجھے اپنی نعمتوں  کی برکات سے محروم نہ فرما اور اپنی حرام کردہ چیزوں   کے فتنوں   سے بچا ۔  ‘‘    ( [3] )

حضرتِ سَیِّدُنااَبُومُوْسٰی اَشْعَرِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            مہاجرین صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن میں   حضرت سیدناابو موسیٰ عبداللہبن قَیس بن حَضَّار اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بھی ہیں   ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ باعمل معلم ،   خوش اِلحان قاری ٔقرآن تھے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ میدانِ گھڑ دوڑکے شہسوار تھے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ احکام ومسائل کے بڑے عالم تھے ۔  محبت و مشاہدہ کی وادیوں   میں   سرگرداں  رہتے ،   تاریک راتوں  میں  خوش اِلحانی کے ساتھ قیام میں   قرآن مجید کی تلاوت فرماتے اور طویل دنوں   میں   گرمی کی شدت کے باوجود روزے رکھا کرتے تھے ۔

            صوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام فرماتے ہیں :  سرگرداں   دل کی ہر پژمردگی کودائمی عزت کی چراگاہوں   میں   عزت بخشنے کا نام تصوُّف ہے  ۔  ‘‘

 ( 853 ) … حضرت سیِّدُناابوبُردَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں  کہ سرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب وسینہ ،  با عثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں   اور حضرت سیِّدُنا مُعَاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو یمن بھیجا اور یہ حکم ارشادفرمایا کہ وہاں   لوگوں   کو قرآن کریم کی تعلیم دیں    ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 854 ) … حضرت سیِّدُناابورَجَاء عُطَارِدِی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بصرہ کی اس مسجدمیں  ہمارے پاس تشریف لاتے اور ہمارے ساتھ حلقوں   میں   تشریف فرماہو تے تھے ۔  گویا میں   اِس وقت بھی اِنہیں   ملاحظہ کر رہا ہوں   کہ 2 سفیدچادروں  میں   ملبوس مجھے قرآن مجید پڑھارہے ہیں   اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے ہی میں   نے قرآن پاک کی یہ سورت یاد کی ہے ۔ یہ کہہ کرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ آیت تلاوت کی :  

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ(۱) ( پ۳۰،  العلق :  ۱ )

ترجمۂ  کنزالایمان :   پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا  ۔

                حضرت سیِّدُناابورَجَاء عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعُلَاء  فرماتے ہیں  حضرت سیِّدُنا محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر سب سے پہلے یہی سورت نازل ہوئی ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 855 ) … حضرت سیِّدُناابو عامرخَرَّازرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ  حضرت سیِّدُناحسنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُناابو موسیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  مجھے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے تمہارے پاس بھیجا ہے تاکہ میں   تمہیں   قرآن سکھاؤں   اور تمہارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا طریقہ بتاؤں   اور تمہارے طور طریقے ستھرے کروں   ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 856 ) … حضرت سیِّدُناابواَ سودرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے قُرَّاء کو جمع کیا اور فرمایا :   ’’ جنہیں   پورا قرآن مجید یادہے صرف وہ میرے پاس آئیں   ۔  ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں  :  ’’ ہم تقریباً 300 قُرَّاء ان کی خدمت میں   حاضرہوئے توانہوں   نے ہمیں   نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:  ’’ تم لوگ اس شہرکے قُرَّاء ہوکہیں   زیادہ مدت گزرنے کی وجہ سے اہل کتاب کی طرح تمہارے دل سخت نہ ہوجائیں    ۔  بے شک ایک سورت نازل کی گئی تھی جسے ہم شدت و طوالت میں   سورۂ براء ت سے تشبیہ دیتے تھے ۔ مجھے اس میں   سے یہ ایک بات یاد ہے کہ اگرابن آدم کے لئے سونے کی دووادیاں   ہوں   تووہ پھربھی تیسری کی تلاش میں   رہتاہے اورابن آدم کاپیٹ توصرف (  قبر کی )  مٹی ہی بھرسکتی ہے ۔  اسی طرح ایک اورسورت نازل ہوئی تھی جسے ہم مُسَبَّحَات  ( [7] )یعنی جو سورتیں   اللہ عَزَّوَجَلَّکی تسبیح سے شروع ہوتی ہیں   ان سے مشابہ قراردیتے تھے ۔ مجھے اس میں   سے



[1]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  حدیث ابی العالیۃ الریاحی ،  الحدیث : ۲۱۲۸۱ ، ج۸ ، ص۴۵۔

[2]    المستدرک ،  کتاب التفسیر ،  الأحزاب ،  باب أکثرواعلیّ  الصلاۃ فی یوم الجمعۃ ،  الحدیث : ۳۶۳۱ ، ج۳ ، ص۱۹۸۔

                جامع الترمذی ،  ابواب صفۃالقیامۃ ،  باب فی الترغیب فی ذکر اﷲالخ ،  الحدیث : ۲۴۵۷ ، ص۱۸۹۹۔

[3]    المعجم الاوسط ،  الحدیث : ۷۱۱۰ ، ج۵ ، ص۲۱۴۔

[4]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  حدیث ابی موسٰی الاشعری ،  الحدیث



Total Pages: 273

Go To