Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 824 ) … حضرت سیِّدُناخَالِدبن مَعْدَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان سے مروی ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُناسعید بن عامر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوحِمْصکاگورنر مقررفرمایا ۔ جب امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہحِمْص تشریف لائے تواہلِ حِمْصسے فرمایا :  ’’ تم نے اپنے گورنر کو کیسا پایا ؟  ‘‘  انہوں   نے اپنے گورنر کی شکایتیں   کیں   جس کی وجہ سیحِمْصوالوں   کوچھوٹے کوفی کہاجانے لگا ۔  انہوں   نے کہا :   ’’ ہمیں   ان سے 4 شکایات ہیں   ۔ ایک یہ کہ یہ دن چڑھے ہمارے پاس آتے ہیں   ۔   ‘‘ امیر المؤمنینرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  یہ توبہت بڑی شکایت ہے ۔  اس کے علاوہ کیا شکایت ہے ؟  ‘‘ بولے: ’’ یہ رات کو کسی کی بات نہیں   سنتے ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  یہ بھی بڑی شکایت ہے اور کیا ہے ؟  ‘‘ بولے: ’’  یہ مہینے میں   ایک  دن گھرمیں   ہی رہتے ہیں  ،   ہمارے پاس نہیں   آتے ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ یہ بھی بڑی شکایت ہے اور کیاشکایت ہے  ؟  ‘‘  انہوں   نے کہا :  ’’ کبھی کبھی انہیں   بے ہوشی کاایسا دورہ پڑتا ہے جس کی وجہ سے یہ مرنے کے قریب ہو جاتے ہیں   ۔  ‘‘

            امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اہلِ حِمْص اور ان کے گورنر حضرت سیِّدُناسعید بن عامر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک جگہ جمع فرمایاپھربارگاہِ خداوند ی میں   عرض کی: ’’ یااللہعَزَّوَجَلَّ ! آج اس معاملے میں   میرافیصلہ غلط نہ ہو ۔  ‘‘ دعاکے بعد اہلِ حِمْص  سے فرمایا :  ’’  تمہیں   ان سے کیا شکایت ہے ؟   ‘‘  انہوں   نے کہا :  ’’ یہ دن چڑھے ہمارے پاس آتے ہیں   ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُناسعید بن عامر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم !  اس بات کا اظہارمجھے پسند نہیں   لیکن مجبو راً بتائے دیتا ہوں   کہ میرے گھر میں   کوئی خادم نہیں   ہے اس لئے میں   خود ہی آٹا گوندھتاہوں  پھر اس کے خمیرہ ہونے کا انتظار کرتاہوں  پھرروٹی پکاکرکھاناکھاتااوروضوکرکے ان کے پاس آجاتا ہوں   ۔  ‘‘  امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے لوگوں   سے پوچھا :  ’’ اور کیا شکایت ہے ؟   ‘‘ بولے: ’’  یہ رات کو کسی کی بات نہیں   سنتے ۔  ‘‘ امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پوچھنے پرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: ’’  اگرچہ یہ بتانا مجھے پسند نہیں   لیکن مجبوراً بتائے دیتا ہوں   کہ میں   نے دن لوگوں    ( کے معاملات ) کے لئے اور راتاللہعَزَّوَجَلَّ  کی عبادت کے لئے خاص کر رکھی ہے ۔  ‘‘  امیر المؤمنینرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے مزید شکایت کے بارے میں   پوچھا :  تو لوگوں   نے کہا :  ’’  یہ مہینے میں  ایک دن ہمارے پاس نہیں   آتے ۔   ‘‘ اس کی وجہ دریافت کرنے پرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی :  ’’ کپڑے دھونے کے لئے میرے پاس کوئی خادم نہیں   ہے اورمیرے پاس پہننے کے لئے صرف ایک ہی جوڑا ہے جب وہ میلاہو جاتاہے تو اسے خود ہی دھوتاہوں   پھراس کے سوکھنے کا انتظارکرتا ہوں   جب سوکھ جاتا ہے تو اسے رگڑ کر نرم کرتا ہوں   پھر پہن کر شام کو ان کے پاس آتا ہوں   ۔  ‘‘ امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے پوچھا :  ’’ اور کیا شکایت ہے ؟  ‘‘ اہلِ حِمْص نے کہا :  ’’ کبھی کبھی ان پر رنج وغم کی ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے کہ یہ بے ہوش ہو جاتے ہیں   ۔  ‘‘ اس پر حضرت سیِّدُنا سعید بن عامر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا :   حضرت خبیب انصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت کے وقت میں   بھی مکۂ مکرمہ زَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًامیں   موجود تھا قریش نے پہلے توان کے جسم کا گوشت جگہ جگہ سے کاٹا پھر انہیں   سولی پر لٹکا دیا اور پوچھا :  ’’ کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ تمہاری جگہ محمد  ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )  ہوں   ؟  ‘‘  توانہوں   نے کہا :  ’’  اللہعَزَّوَجَلَّ کی قسم !  مجھے تو یہ بھی پسند نہیں   کہ میں   اپنے اہل و عیال میں   ہوں   اور میرے آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کانٹا بھی چبھے  ( پھر فرطِ محبت سے )  باآواز بلند پکارا: یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  ‘‘ پس جب بھی مجھے وہ دن یاد آتااوریہ خیال آتا ہے کہ میں   نے اس حالت میں   ان کی مدد نہیں   کی کیونکہ میں   اس وقت مشرک تھا اوراللہ عَزَّوَجَلَّ پر ایمان نہیں   لایا تھا تو میں   یہ گمان کرتا ہوں   کہاللہعَزَّوَجَلَّ میرے اس گناہ کو کبھی معاف نہیں   فرمائے گا ۔  بس یہ سوچتے ہی مجھ پر بے ہوشی طاری ہوجاتی ہے ۔  ‘‘

            امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ سب سناتو فرمایا :   ’’ تمام تعریفیں  اللہعَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں   جس نے میری فراست کو غلط نہیں   ہونے دیا ۔  ‘‘ پھرامیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کے پاس ایک ہزار دینار بھیجے اور فرمایا :  ’’ ان سے اپنی حاجات کو پوراکرلو ۔  ‘‘  ان کی زوجہ نے کہا :  ’’ اللہعَزَّوَجَلَّ کا شکرہے جس نے ہمیں   آپ کے کام کاج کرنے سے بے نیاز کر دیا ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُناسعید بن عامر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے زوجہ سے فرمایا :   ’’  کیا تم یہ پسند نہیں   کرتی کہ ہم یہ دینار اسے دے دیں  جو ہمیں   سخت ضرورت کے وقت لوٹا دے  ؟  ‘‘ زوجہ نے عرض کی :   ’’ ٹھیک ہے ۔   ‘‘ چنانچہ،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے گھر والوں   میں   سے ایک قابلِ اعتمادشخص کو بلایااور دیناروں   کو بہت سی تھیلیوں   میں   ڈال کر فرما یا:  ’’ یہ دینار فلاں   خاندان کی بیواؤ ں  ،  فلاں   خاندان کے یتیموں  ،  فلاں   خاندان کے مسکینوں   اورفلاں  خاندان کے مصیبت زدوں   کو دے آؤ ۔  ‘‘  تھوڑے سے دینار بچ گئے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی زوجہ سے فرمایا :   ’’ یہ اپنی ضروریات میں   خرچ کر لو ۔  ‘‘ پھر اپنے کاموں   میں   مشغول ہو گئے ۔ کچھ دنوں   بعدآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ نے عرض کی :  ’’ آپ ہمارے لئے کوئی خادم کیوں   نہیں   خریدلاتے ؟ اورمال کے بارے میں   بھی پوچھا ۔  ‘‘ توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ وہ  مال تمہیں   ( آخرت میں   )  سخت ضرورت کے وقت مل جائے گا ۔  ‘‘    ( [1] )

 بلاحساب جنت میں   داخلہ :  

 ( 825 ) … حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بنسَابِط جُمْحِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر بن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے قبیلۂ بنو جُمْحَ کے ایک شخص حضرتِ سیِّدُناسعید بن عامر بنحِذْیَمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوبلاکر فرمایا :  ’’ میں   آپ کو فلاں   فلاں  علاقے کاگورنر بناناچاہتاہوں   ۔  ‘‘ انہوں   نے عرض کی :   ’’ یاامیرالمؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  ! مجھے اس آزمائش میں   نہ ڈالئے ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! میں   تمہیں   نہیں   چھوڑوں   گا تم نے امارت کاوزن میرے سر ڈال دیا اور مجھے تنہا چھوڑدیا ۔  ‘‘ پھرامیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ کیامیں   آپ کے لئے کوئی و ظیفہ مقررکر دوں   ؟  ‘‘ حضرت سیِّدُناسعید بن عامررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی :   ’’ اللہعَزَّوَجَلَّ نے مجھے اتناعطافرمایاہے کہ اس سے کم مجھے کفایت کرتا ہے میں   اس سے زیادہ نہیں   چاہتا ۔  ‘‘  راوی بیان کرتے ہیں   کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو جو وظیفہ ملتا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ گھرکاراشن خریدنے



[1]    صفۃ الصفوۃ ،  الرقم۸۳سعیدبن عامربن حِذْیَم ، ج۱ ، ص۳۳۷۔



Total Pages: 273

Go To