Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

مذکورہ روایت پرمصنف کاتبصرہ :  

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ اَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی فرماتے ہیں : ’’ یہ تینوں   روایتیں   ضعیف ہیں   کیونکہ حضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے کی وفات حضورنبی ٔکریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصالِ ظاہری فرمانے کے 2 سال بعد ہوئی ۔  البتہ بعض صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے ان کو خطوط لکھے ہیں   اور راوی نے وَہم کے سبب ان کی نسبت رسول اَکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف کر دی ہے ۔ حضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جیسے جلیل القدر اورا علم صحابی کے بارے میں  کیونکرکہاجاسکتاہے کہ انہوں   نے بے صبری کی اوراللہعَزَّوَجَلَّ کی رضاپر راضی نہ رہے ۔  لہٰذااس میں   صحیح روایت وہی ہے جو حارِث بن عُمَیْرَہ اور ابوجُرَشِی نے روایت کی ہے،   اس میں   انہوں   نے بیٹے کی وفات پر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکااللہعَزَّوَجَلَّ کی رضا پر راضی رہنا ا ور صبر و استقامت کادامن تھامے رہنا بیان کیا ہے اورپھریہ کہ حضرت سیِّدُنامُعَاذبن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں   یقینی طورپریہ نہیں   کہاجاسکتا کہ حضورنبی ٔکریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حیات مبارَکہ میں   سفرِ یمن کے علاوہ کبھی حضورسراپانورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ سے دُور رہے ہوں  اور یمن سے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی واپسی سرکارِ والاتبارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصالِ ظاہری کے بعدہوئی تھی اور محمد بن سعید اور مجاشع اس پائے کے راوی نہیں   ہے کہ جن کی روایات و مفردات پر اعتماد کیا جائے ۔  ‘‘

 ( 822 ) … حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ جب حضورنبی ٔ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں   یمن کی طرف بھیجا تو ارشاد فرمایا :   ’’ دین میں   مخلص رہنا،   تھوڑاعمل بھی کفایت کرے گا ۔  ‘‘    ( [1] )

حضرت سَیِّدُنَاسَعِیْدبن عَامررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            ہجرت میں   سبقت لے جانے والوں   میں   سے حضرت سیِّدُناسعیدبن عامربن حِذْیَم جُمَحِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بھی ہیں   ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے سِحرانگیز وفتنہ گَر دنیاسے بے رغبتی اختیار کی،  دنیاکے طلب گاروں   کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔  نیکیوں   کی ترغیب دلانے اوراللہعَزَّوَجَلَّ سے ڈرانے کے معاملے میں   سابقین کے طریقۂ کارپرگامزن رہے ۔  حکومت وسلطنت حاصل ہونے کے باوجود دنیاسے کنارہ کشی اختیارکرتے ہوئے اپنی ذمہ داری کوانتہائی جانفشانی وامانت داری سے نبھاتے رہے ۔

            عُلمائے تصوُّف کے نزدیک: صبرپرقائم رہتے ہوئے مشکل حالات کا ڈَٹ کے مقابلہ کرنے اور بے جا گمانوں   کی تحقیق میں   نہ پڑنے کا نام تصوُّف ہے ۔

گھراَمن کاگہوارہ کیسے بنا ؟

 ( 823 ) … حضرت سیِّدُناحسّان بن عَطِیَّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا اَمیرمُعَاوِیَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو شام کی گورنری سے معزول کیا تو اِن کی جگہ حضرت سیِّدُناسعیدبن عامررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوگورنربناکروہاں  بھیجا ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنی بیوی جو قبیلۂ قریش سے تعلق رکھتی تھی ،  کو ساتھ لے کر ملک شام روانہ ہو گئے ۔  وہاں   کچھ ہی دنوں   بعدتنگدستی نے آلیا ۔  امیرالمؤمنین  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک ہزار دینار انہیں  بھیجے ۔ حضرت سیِّدُناسعید بن عامر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ وہ دِینار لے کر اپنی زوجہ کے پاس گئے اور فرمایا :  ’’  یہ ہمیں   امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے بھیجے ہیں   ۔  ‘‘ زوجہ نے عرض کی :   ’’ اگرآپ چاہیں   توان میں   سے بعض سے گھرکاراشن خرید لیں  اورجو بچیں   وہ آئندہ کے لئے سنبھال کر رکھ لیں   ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  کیا میں   تمہیں   اس سے بہترصورت نہ بتاؤں   ؟  وہ یہ کہ ہم یہ مال کسی تاجر کو دے دیتے ہیں   جو ہمارے لئے تجارت کرے اور ہم اس کا نفع کھاتے رہیں   اور ہمارے سرمائے کی ذمہ داری بھی اسی پر ہوگی ۔  ‘‘  زوجہ نے کہا :  ’’  یہ تو بہت اچھاہے۔‘‘

            چنانچہ،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے کچھ کھانے پینے کاسامان،  2اونٹ،  2 غلام خریدے پھر لوگوں   کی ضروریات کا سامان غلاموں   کے ذریعے اونٹوں   پر رکھوا کر مسکینوں   اورحاجتمندوں   میں  تقسیم فرما دیا ۔ کچھ دن گزرنے کے بعد زوجہ نے عرض کی :  ’’ فلاں   فلاں   سامان ختم ہوگیاہے آپ اس تاجر کے پاس جائیں   اورحاصل ہونے والے نفع سے سامان خرید لائیں   ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے کوئی جواب نہ دیا ۔ زوجہ نے پھر کہا لیکن اب کی بار بھی کوئی جواب نہ پاکر اس نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ستانا شروع کر دیاجس کی وجہ سے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  صرف رات کوگھر میں  تشریف لاتے اور سارا دن گھر سے باہر گزار دیتے  ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے گھر والوں   میں   سے ایک آدمی تھا جو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ آپ کے گھرآیاجایاکرتاتھاایک دن اس نے ان کی زوجہ سے کہاکہ ’’   آپ کیوں   انہیں  تکلیف دیتی ہیں   وہ تو سارا مال صدقہ کر چکے ہیں   ؟  ‘‘ یہ سن کروہ،   مال کے ختم ہونے پر افسوس کرنے اور رونے لگیں   ۔ ایک دن آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ گھر تشریف لائے اور زوجہ سے فرمایا :  ’’ آرام سے بیٹھی رہو !  میرے چند دوست کچھ عرصہ پہلے مجھ سے جدا ہو گئے ہیں   اگر مجھے دنیا اورجو کچھ اس میں   ہے سب مل جائے تب بھی میں   ان کے طریقے سے دورنہیں   ہٹوں  گا ۔ اگر کوئی جنتی حورآسمانِ دنیا سے جھانک لے تو تمام اہلِ زمین کو روشن کردے اور اس کے چہرے کانور چاند سورج کی روشنی پر غالب آ جائے اور جو دوپٹہ وہ اوڑھتی ہے وہ  دُ نیاومافیھا سے بہتر ہے ۔ لہٰذاان حوروں   کی خاطرتجھے چھوڑناتومیرے لئے آسان ہے لیکن تیری خاطرمیں   انہیں   نہیں   چھوڑ سکتا ۔  یہ سن کر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ نرم دل اور راضی ہو گئیں   ۔  ‘‘    ( [2] )

اہل حمص کی چارشکایات :  

 



[1]    المستدرک ،  کتاب الرقاق  ،  الحدیث : ۷۹۱۴ ، ج۵ ،  ص۴۳۵۔

[2]    صفۃ الصفوۃ ،  الرقم۸۳سعیدبن عامربن حِذْیَم ، ج۱ ، ص۳۳۶۔

                الجھاد لابن المبارک  ،  الحدیث : ۲۴ ، ص ۴۰۔



Total Pages: 273

Go To