Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

            حضرت سیِّدُنامُعَاذبن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرتِ سیِّدُنا صُنَابِحِیکویہ وصیت کی،   انہوں   نے حضرت ابو عبدالرحمن کو،   انہوں   نے حضرت عُقْبہ کو ،   انہوں   نے حضرت حَیْوَہ کو،   انہوں   نے حضرت عبدالرحمنمُقْرِی کو،   انہوں   نے حضرت بِشر بن موسیٰ کو،   انہوں   نے حضرت محمد بن اَحمد بن حسن کو،  انہوں   نے مجھے ( یعنی حضرت سیِّدُناامام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہاَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی کو )  یہ وصیت فرمائی اور میں   تمہیں   اس کی وصیت کرتا ہوں   ( کہ ہر نمازکے بعد مذکورہ دعاپڑھنامت بھولنا )  ۔   ( [1] )

 ( 816 ) … حضرت سیِّدُنااَنس بن مالِک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بارگاہِ نبوت عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں   حاضر ہوئے توآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دریافت فرمایا :  ’’ اے مُعَاذ !  تم نے صبح کس حال میں   کی ؟  ‘‘ عرض کی :  ’’  میں   نےاللہعَزَّوَجَلَّپر ایمان رکھتے ہوئے صبح کی ہے ۔  ‘‘ توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’ ہر قول کا ایک تصدیق کرنے والا اور ہر حق کی ایک حقیقت ہوتی ہے اور تمہاری کہی ہوئی بات کی کیا تصدیق ہے ؟   ‘‘ انہوں   نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں   نے جب بھی صبح کی تویہ گمان کیاکہ شام نہیں   دیکھ سکوں   گا اور جب بھی شام کی تو یہ خیال کیا کہ صبح نہیں   دیکھ سکوں   گا ۔ جو بھی قدم اُٹھایا یہ سوچ کراُٹھایا کہ اس کے بعد دوسرا قدم نہیں   اٹھا سکوں   گا اور گویا میں    ( قیامت کا یہ منظر )  دیکھ رہا ہوں   کہ ہروہ اُمَّت گھٹنوں   کے بل گری ہوئی ہے جسے ان کے نامہ اعمال کی طرف بلایا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ ان کی طرف بھیجے جانے والے نبی  ( عَلَیْہِ السَّلَام ) ہیں   اور وہ بت بھی ہیں   جنہیں   وہ اللہعَزَّوَجَلَّ کو چھوڑ کر پوجتے تھے اور گویا میں   جہنمیوں   کی سزا اور اہلِ جنت کے ثواب کو دیکھ رہا ہوں   ۔  ‘‘  اس پر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا :  ’’ تم نے جان لیاپس ان امورکی پابندی رکھنا ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 817 ) … حضرت سیِّدُناقاسِم بنمُخَیْمِرَہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جب یمن سے واپس تشریف لائے تومصطفی جانِ رحمتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے استفسار فرمایا :  ’’  تم نے اپنے بعد لوگوں   کو کس حال میں   چھوڑا ہے ؟  ‘‘  عرض کی :   ’’  میں   نے انہیں   اس حال میں   چھوڑا ہے کہ ان کا مقصد صرف چوپایوں   والاہے ۔  ‘‘ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا :  ’’  اس وقت تمہاری کیاحالت ہوگی جب تم ایسے لوگوں   میں   رہ جاؤ گے جواُن چیزوں   کا علم رکھتے ہوں   گے جن سے یہ لوگ جاہل ہیں   مگر اِن ( علم رکھنے والوں   )  کا مقصد بھی ان جیسا ہی ہوگا ۔  ‘‘    ( [3] )

بدترین لوگ :  

 ( 818 ) … حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ایک مرتبہ میں   حضورنبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں   حاضر ہوااس وقت آپ طواف میں  مشغول تھے ۔  میں   نے عرض کی :   ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے لوگوں   میں   سے سب سے بُرے شخص کے بارے میں   بتائیے  ۔  ‘‘ ارشادفرمایا: ’’  مجھ سے بھلائی کے متعلق سوال کرو برائی کے متعلق مت پوچھو،  بد ترین لوگ بُرے عُلما ہیں   ۔  ‘‘    ( [4] )

سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاتعزیتی مکتوب :  

 ( 819 ) … حضرت سیِّدُناعبد الرحمن بن غَنمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے طاعون کی وبا میں   مبتلا ہو ( کرانتقال فرما ) گئے توانہیں   بہت صدمہ ہوا ۔ جب یہ بات حضور نبی ٔپاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکومعلوم ہوئی تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنامُعَاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف یہ خط لکھا :   بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم،  یہ خط محمدرسول اللہ ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )  کی طرف سے مُعَاذبن جَبَل کی طرف ہے  ۔

            اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ !  میں   اللہعَزَّوَجَلَّ کی حمد بیان کرتا ہوں  ،   جس کے سوا کوئی معبود نہیں   ۔ اَمَّابَعْد ! اللہعَزَّوَجَلَّ تمہیں   اجرعظیم عطافرمائے اور صبرکی توفیق بخشے ۔ ہمیں   اورتمہیں   اپنا شکرگزاربندہ بنائے،   ہماری جانیں  ،  ہمارے اہل وعیال ،   ہمارے اموال اور اولاد سب اللہعَزَّوَجَلَّ کے عطا کردہ اورہمارے پاس اس کی طرف سے عاریت ہیں   ۔ جو وہ ہمیں   ایک مدت مقررہ تک عطا فرماتاہے کہ ہم ان سے نفع اُ ٹھائیں   اوراس مقررہ مدت کے بعدوہ ہم سے واپس لے لیتاہے ۔ لہٰذا ہم پر فرض ہے کہ جب ہمیں   کوئی نعمت ملے تو اس پراللہعَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کریں   اور جب وہ ہم سے لے لی جائے تو اس پر صبر کریں    ۔ اے مُعَاذ !  تمہارا بیٹابھیاللہعَزَّوَجَلَّ کی عطاکی ہوئی ایک نعمت تھی جو اس کی طرف سے تمہارے پاس عاریت تھی جس کے ذریعےاللہعَزَّوَجَلَّنے تمہیں   مسرت وشادمانی عطا فرمائی اورپھرتمہیں   اس کے بدلے عظیم اجروثواب عطافرماکر اسے واپس لے لیا ۔  اگرصبر کرو گے توتمہارے لئے رحمت،   ہدایت اور ثواب ہوگا ۔

 اے مُعَاذ !  تم میں   2خصلتیں   ہر گزجمع نہ ہونے پائیں   کہ ان کی وجہ سے تمہارا اجر ضائع ہو جائے گااور پھرتمہیں   اپنے اجر و ثواب کے کھودینے پرندامت ہو گی ۔ اگر تم اپنی مصیبت کواس کی وجہ سے ہاتھ آنے والے اجرو ثواب پرپیش کرو گے توجان لوگے کہ اتنے عظیم ثواب کے مقابلے میں   تمہاری مصیبت توبہت چھوٹی ہے  ۔  تم اللہعَزَّوَجَلَّ کی طرف سے اس کے وعدہ کے مطابق اجرپاؤگے اور اپنی مصیبت کاصدمہ بھول جاؤگے ۔   ‘‘  گویا ایسا ہی لکھا تھا ۔   وَالسَّلَام ۔  ۔  ‘‘    ( [5] )

 



[1]    السنن الکبری للنسائی ،  کتاب عمل الیوم واللیلۃ ،  الحدیث : ۹۹۳۷ ، ج۶ ،  ص۳۲۔

[2]    کتاب الضعفاء للعقیلی ،  باب العین ،  الرقم۸۶۶ ، ج۲ ، ص۶۹۱۔

[3]    کنزالعمال ،  کتاب العلم ،  قسم الاقوال ،  الحدیث : ۲۸۹۶۷ ، ج۱۰ ، ص۸۱۔

[4]    البحرالزخارالمعروف بمسندالبزار ،  مسندمُعَاذبن جَبَل ،  الحدیث : ۲۶۴۹ ، ج۷ ، ص۹۳ ، مفہومًا۔

[5]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۳۲۴ ، ج۲۰ ، ص۱۵۵ ، مفہوماً۔



Total Pages: 273

Go To