Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

نہیں  ہوتا ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 689 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن مُرَّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت اس طرح کرو گو یا تم اسے دیکھ رہے ہواور اپنے آپ کو مُردوں   میں   شمار کرو اورجان لو !  وہ قلیل مال جو تمہاری دنیاوی فکروں   سے نجات کاذریعہ بنے اس کثیر مال سے بہتر ہے جو تمہاری غفلت کا سبب بنے ۔  جان لو ! نیکی کبھی پرانی نہیں   ہوتی اور گناہ کبھی بھلایا نہیں   جاتا ۔  ‘‘    ( [2] )

بھلائی کس میں   ہے ؟

 ( 690 ) … حضرت سیِّدُنا مُعَاوِیَہ بن قُرَّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  بھلائی اس میں   نہیں   کہ تجھے کثیر مال و اولادمل جائے بلکہ بھلائی تو اس میں   ہے کہ تیر احلم بڑھے،    علم ترقی کرے اوراللہعَزَّوَجَلَّکی عبادت میں   لوگوں   سے آگے بڑھے اورجب تم کوئی نیکی کرنے میں   کامیاب ہوجاؤ تواس پراللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد بجا لاؤ اور برائی ہوجانے پراللہ عَزَّوَجَلَّسے بخشش کاسوال کرو ۔  ‘‘    ( [3] )

 زندگی کو پسندکرنے کی وجہ :  

 ( 691 ) … حضرت سیِّدُنا عَبَّاس بنجُلَیْدحَجْرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی فرماتے ہیں :  حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  اگر 3 چیزیں   نہ ہوتیں   تو میں   زندہ رہنے کو مرنے پرترجیح نہ دیتا ۔  ‘‘ میں   نے عرض کی :   ’’ وہ 3 چیزیں   کون سی ہیں   ؟  ‘‘ فرمایا :  ’’ دن رات اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور سجدے کرنا،   سخت گرمی کے دنوں   میں   پیاسا رہنا  ( یعنی روزے رکھنا )  اورایسے لوگوں   کے ساتھ بیٹھناجو کلام کوعمدہ پھلوں   کی طرح چنتے ہیں   ۔  ‘‘ پھر فرمایا :   ’’ کمال درجہ تقویٰ یہ ہے کہ بندہ ایک ذرہ کے معاملے میں   بھیاللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرے اورجس حلال میں  ذرہ بھر بھی حرام کا شبہ ہو اسے ترک کر دے ،  اس طرح وہ اپنے اور حرام کے درمیان مضبوط آڑ بنالے گا ،  اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے مقدس کلام میں   بندوں   کے انجام کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:  

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷)وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸) ( پ۳۰،   الزلزال :  ۷،  ۸ )

 ترجمۂ کنزالایمان: توجوایک ذرّہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرّہ بھربرائی کرے اسے دیکھے گا ۔

            اس لئے تم کسی برائی کو معمولی نہ سمجھو اورنہ ہی کسی نیکی کو حقیر جانو  ۔  ‘‘    ( [4] )

دین سیکھنے اورسکھانے والااجرمیں   برابرہیں :

 ( 692 ) … حضرت سیِّدُناسالم بن ابوالجَعْدرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے راویت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ کیا بات ہے تمہارے علما دنیا سے رخصت ہوگئے اور بے علم ،  علم سیکھ نہیں   رہے ؟ بے شک علم دین سیکھنے اور سکھانے والا اجر میں   برابر ہیں   اور ان کے علاوہ  ( جونہ علم دین سیکھتے ہیں   ،  نہ دوسروں   کوسکھاتے ہیں   )  کسی میں   بھلائی نہیں   ۔  ‘‘    ( [5] )

علم کے اعتبارسے لوگوں   کی اقسام :  

 ( 693 ) … حضرت سیِّدُنالقمان بن عامرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَافِرسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  لوگ تین طرح کے ہیں :   ( ۱ ) عالِم،  علم رکھنے والا ( ۲ )  طالبِ علم،  علم سیکھنے والا  ( ۳ ) جاہل،  نہ علم رکھتاہے نہ سیکھتاہے اوراس میں   کوئی بھلائی نہیں   ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 694 ) …  حضرت سیِّدُنا سالم بن ابوالجَعْدرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  علم حاصل کرو ! اس لئے کہ علم سکھانے والے اور سیکھنے والے کا اجریکساں   ہے اور ان دونوں   کے علاوہ کسی میں   بھلائی نہیں   ۔  ‘‘    ( [7] )

اہلِ دمشق کووعظ ونصیحت :  

 ( 695 ) … حضرت سیِّدُنا ضَحَّاک رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرما یا :  ’’  اے اہلِ دمشق !  تم سب دین میں   اسلامی بھائی،   گھروں   میں   ایک دوسرے کے پڑوسی اور دشمن کے مقابلے میں   ایک دوسرے کے معاون و مدد گار ہو ۔  پھر کیا وجہ ہے کہ تم مجھ سے محبت نہیں   کرتے ؟ میری محنت ومشقت تمہارے علاوہ دوسروں   پر



[1]    الزہدللامام احمدحنبل ،  باب زہدابی الدرداء ،  الحدیث : ۷۷۱ ، ص۱۶۶ ، مختصرًا۔

[2]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزہد ،  باب کلام ابی الدرداء ،  الحدیث : ۱ ، ج۸ ، ص۱۶۷۔

[3]    المرجع السابق ،  الحدیث : ۶۔

[4]    الزہد الکبیرللبیہقی ،  الحدیث : ۸۷۰ ، ص۳۲۴۔

[5]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزہد ،  باب کلام ابی الدرداء ،  الحدیث : ۲۶ ، ج۸ ، ص۱۷۰۔

                الزہدللامام احمد بن حبنل ،  باب زہدابی الدرداء ،  الحدیث : ۷۲۸ ، ص۱۶۱ ، بتغیرٍ۔