Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

عالم ارواح میں   ) جان پہچان رکھتی ہیں   وہ  ( دنیا میں   بھی )  اُلفت رکھتی ہیں   اور جو  ( عالم ارواح میں   ) اجنبی رہتی ہیں   وہ  ( دنیا میں   بھی ) الگ رہتی ہیں    ۔  ‘‘    ( [1] )

قیامت کی بھوک :  

 ( 626 ) … حضرت سیِّدُناعَطِیَّہ بن عامرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَافِرفرماتے ہیں : میں   نے دیکھاکہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  تکلفًا کھاناتناو ُل کررہے ہیں   اور فرما رہے ہیں : مجھے یہ کھاناکافی ہے ،  مجھے یہ کھانا کافی ہے ۔  کیونکہ میں   نے رسولِ اَکرم،  نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ ’’   جو لوگ دنیا میں   پیٹ بھر کر کھاتے ہیں   وہ قیامت میں   زیادہ بھوکے ہوں   گے ۔  اے سلمان ! بے شک دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت  ( [2] )ہے ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 627 ) … حضرت سیِّدُنا اَبوبَخْتَرِی  عَلَیْہِرَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیسے مروی ہے کہ قبیلۂ بنی عَبس کے ایک شخص کابیان ہے کہ میں   حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی صحبت میں  رہاکرتاتھا،  ایک بارآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے مسلمانوں   کے کسریٰ کوفتح کرنے اور وہاں   کے خزانے ملنے کاذکر کرتے ہوئے فرمایا :  ’’ جس مالک مطلق خدائے حنّان ومنّان عَزَّوَجَلَّ نے تمہیں   کسریٰ کے خزانے اور ملک عطا فرمایا اگر وہ چاہتا توحضور نبی ٔاکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حیاتِ طیبہ میں   یہ خزانے عطا فرما دیتا ۔ اس وقت صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی صبح اس حال میں   ہوتی تھی کہ ان کے پاس درہم و دینارحتی کہ کھانا بھی معقول مقدار میں   نہیں   ہوتا تھا ۔ اے عَبسی ! اب اللہعَزَّوَجَلَّ نے مسلمانوں    کو اتنا مال عطافرمادیا ہے ۔  ‘‘  اس شخص کا کہنا ہے کہ ’’   پھر ہم ان خزانوں   کے قریب سے گزرے تو وہ بکھرے پڑے تھے ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان خزانوں   کویوں   بکھرے پڑے دیکھاتو فرمایا :   ’’ جس مالک مطلق خدائے حنّان ومنّان عَزَّوَجَلَّ نے کسریٰ کے خزانے اور ملک عطا فرمایا اگر وہ چاہتا توحضورنبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حیاتِ ظاہری میں   یہ خزانے تمہیں   عطا فرما دیتا ،   اس وقت صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی صبح اس حال میں   ہوتی تھی کہ ان کے پاس درہم و دینار حتی کہ کھانے کو بھی کچھ نہ ہوتا تھا،  اے عَبسی  !  اباللہ عَزَّوَجَلَّ نے مسلمانوں   کو کسریٰ کے خزانے اور ملک عطا فرمادیاہے  (  اب مسلمان کتنے چین میں   ہیں   )  ۔  ‘‘    ( [4] )

آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی سادگی :  

 ( 628 ) … حضرت سیِّدُنامَیْمُوْن بن مِہْرَانرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ قبیلۂ بنی عبدالقَیس کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں   کہ اس نے حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوایک ایسی جنگ میں   کہ جس میں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ امیرلشکرتھے ایسی حالت میں   دیکھاکہ ایک درازگوش پرسوارتھے اور ایسی شلوارپہن رکھی تھی جس کے کنارے ہوا کی وجہ سے حرکت کررہے تھے ۔ دوسری طرف لشکر والے کہہ رہے تھے کہ ’’  امیرلشکرتشریف لارہے ہیں   ۔  ‘‘ یہ سن کر انہوں   نے فرمایاکہ ’’   خیر اور شرتوآج کے بعد شروع ہوں   گے ( یعنی کامیابی یا ناکامی کا پتا تو اب چلے گا  )  ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 629 ) … حضرت سیِّدُناابن شَوْذَب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سرکے تمام بال مُنڈوا کے رکھتے ۔ کسی نے اس کاسبب دریافت کیا توفرمایا :  ’’  اصل زندگی تو آخرت کی ہے ۔  ‘‘    ( [6] )

بخل وحرص کی مذمت :  

 ( 630 ) … حضرت سیِّدُناسَہْل بن حُنَیْفرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا ایک شخص سے جھگڑا تھا،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ خداوندی میں   عرض کی :   ’’ یااللہعَزَّوَجَلَّ ! اگر یہ جھوٹا ہے تو اسے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک وہ تین باتوں   میں   سے ایک میں   مبتلا نہ ہو جائے ۔  ‘‘ جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا غصہ کم ہو ا تومیں   نے پوچھا:  ’’ اے ابوعبداللہ !  وہ تین باتیں  کون سی ہیں   ؟  ‘‘ فرمایا :  ’’ فتنۂ دجال،   فتنۂ امارت،   یہ بھی فتنۂ دجال ہی کی طرح ہے اور بخل و حرص کہ جب یہ کسی انسان کو لاحق ہوتے ہیں   تو وہ اس بات کی پرواہ نہیں   کرتاکہ فلاں   شیٔ کہاں   سے آئی ہے ۔  ‘‘    ( [7] )

 دعوت کے کھانے کا ایک مسئلہ:

 



[1]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۶۱۷۲ ، ج۶ ، ص۲۶۴۔

[2]    مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں   : ’’یعنی مومن دنیا میں   کتنا ہی آرام میں   ہو  ، مگر اس کے لئے آخرت کے مقابلہ میں   دنیا جیل ہے  ،  جس میں   وہ دل نہیں   لگاتا جیل اگرچہ اے کلاس ہو  ، پھر بھی جیل ہے  ، اور کافر خواہ کتنے ہی تکالیف میں   ہوں    ، مگر آخرت کے عذاب کے مقابل