Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

تَعَالٰی عَنْہکِنْدَہ کی مجلس میں   بیٹھے تو ایک آدمی نے پوچھا :   ’’ اے ابوعبداللہ ( یہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی کنیت ہے )  !  صبح کیسی رہی اور آپ نے اپنی بیوی کو کیسا پایا ؟  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ خاموش رہے اورکچھ جواب نہ دیا،  اس نے دوبارہ پوچھالیکن اب بھی اس کی بات کاکوئی جواب نہ دیا اور فرمایا :   ’’ کیا بات ہے تم گھر کے اندر کی باتیں   پوچھتے ہو تمہیں   یہ بات کافی ہونی چاہئے کہ جب کسی سوال کا جواب نہ دیا جائے تو دوبارہ وہ سوال نہ کرے ۔  ‘‘    ( [1] )

نگاہ ِعلی میں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا مقام:

 ( 601 ) …  حضرت سیِّدُنااَبوبَخْتَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں   دریافت کیاگیا تو فرمایا :   ’’ سلمان پہلے اور آخری علم کے پیروکار ہیں   اورجو ان کے پاس ہے اسے کوئی اور نہیں   پاسکتا ۔  ‘‘    ( [2] )

سلمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ا ہل بیت سے ہیں :

 ( 602 ) … حضرت سیِّدُنا زَاذَانکِنْدِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ ایک دن ہم امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی خدمت میں   حاضر تھے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی طبیعت خوش گوار دیکھ کر لوگوں   نے عرض کی: ’’ ہمیں   اپنے دوستوں   کے احوال بیان کیجئے ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے استفسار فرمایا :   ’’ تم میرے کس دوست کے بارے میں   پوچھتے ہو  ؟  ‘‘  لوگوں   نے عرض کی :  ’’  ہم حضرت سیِّدُنا محمد مصطفیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے اصحاب کے بارے میں   پوچھتے ہیں   ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ حضرت سیِّدُنا محمدصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے تو تمام صحابہ میرے دوست ہیں   تم کس صحابی کے بارے میں   پوچھناچاہتے ہو ؟   ‘‘ لوگوں   نے عرض کی :  ’’ ہم ان کے بارے میں   پوچھناچاہتے ہیں   جن کے تذکرے سے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوخوشی حاصل ہوتی ہے اورآپ ان کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہیں   ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہمیں   حضرتِ سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں   بتائیں   ؟  ‘‘ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ارشاد فرمایا :   ’’ سلمان فارسی ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) جیسا تم میں   سے کون ہو سکتا ہے ؟ وہ ہم میں   سے اوراہلِ بیت میں   سے ہیں   ۔  انہوں   نے پہلے اورآخری علوم حاصل کئے ۔ وہ پہلی کتاب  ( انجیل یا تورات مقدس )  اور آخری کتاب (  قرآن مجید ) کے عالم اور علم کا نہ ختم ہونے والا سمندر تھے ۔  ‘‘    ( [3] )

سرکار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے علم کی تعریف فرمائی :  

 ( 603 ) … حضرت سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ میرے گھرآئے تومیری زوجہ کو پراگندہ حالت میں   دیکھ کر سبب دریافت کیاتومیری زوجہ نے کہا :   ’’ آپ کے بھائی عورتوں   کی خواہش نہیں   رکھتے،   دن روزے کی حالت میں   گزارتے اور رات عبادت میں   بسر کرتے ہیں   ۔  ‘‘ یہ سن کر انہوں   نے مجھ سے فرمایا :  ’’  بے شک آپ پرآپ کی بیوی کابھی حق ہے ۔ لہٰذارات میں   نمازبھی پڑھاکریں  اورکچھ دیر آرام بھی کرلیا کریں   ۔  روزہ بھی رکھا کریں   اورافطار بھی کیا کریں   ( یعنی ناغہ بھی کرلیا کریں   )   ۔  ‘‘ جب یہ بات حضورنبی ٔ رحمت،   شفیعِ اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کوپتا چلی تو ارشاد فرمایا :   ’’ بے شک سلمان کو عِلم عطا کیا گیا ہے ۔  ‘‘   ( [4] )

اعمال میں   میانہ روی کا درس :  

 ( 604 ) …  حضرت سیِّدُنا ابوجُحَیْفَہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے ملاقات کے لئے گئے تو ان کی زوجہ کو پراگندہ حالت میں   دیکھ کر اس کی وجہ دریافت کی توانہوں   نے بتایا :  ’’  آپ کے بھائی دنیاکی کسی چیزمیں   رغبت نہیں   رکھتے وہ رات کو نماز میں   مشغول رہتے اور دن روزے کی حالت میں   بسر کرتے ہیں   ۔  ‘‘ جب حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لائے تو حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سے کہا :  ’’ کھاناکھائیں   !  ‘‘ انہوں   نے کہا :   ’’ میں   روزے سے ہوں   ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے قسم اُٹھاکر فرمایا :  ’’  اگرآپ نے نہ کھایاتو میں   بھی نہیں   کھاؤں   گا  ۔  ‘‘

            پھردونوں   نے مل کرکھاناتناو ُل فرمایااوررات انہیں   کے ہاں  قیام کیا ۔ جب رات کاکچھ حصہ گزراتوحضرت سیِّدُنا  ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نماز کے لئے اٹھنے لگے تو حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے انہیں   یہ کہہ کرروک دیاکہ ’’  اے ابو دَرْدَاء  !  بے شک آپ پر آپ کے رب عَزَّوَجَلَّ کا حق ہے،  آپ کی زوجہ کا حق ہے اورآپ کے جسم کا بھی حق ہے پس آپ ہر ایک کا حق ادا کریں   ۔  روزہ رکھیں  ،   اِفطار  ( یعنی ناغہ  ) بھی کریں  ،   رات کو قیام کریں  ،   آرام بھی کریں   اوراپنی بیوی کاحق بھی اداکریں   ۔  ‘‘

            پھررات کے آخری پہر میں   حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا :  ’’  اب اُٹھئے ۔  ‘‘ پھر دونوں   حضرات اُٹھے،   وضو کیا اور نمازپڑھی پھر نمازِ فجرکے لئے ( مسجد کی طرف )  چل دئیے ،  صبح کی نمازحضورنبی ٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے پڑھائی،  نمازکے بعد حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بارگاہِ رسالت عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں   حاضرہوئے اور حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی باتیں   بیان کیں   ۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اِرشاد فرمایا :   ’’ اے ابودَرْدَائ !  بے شک تم پرتمہارے جسم کا بھی حق ہے ۔  ‘‘  اور حضرتِ سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی باتوں   کی تائید فرمائی ۔  ‘‘    ( [5] )

 



[1]    المعجم الکبیر ،   الحدیث : ۶۰۶۷ ، ج۶ ، ص۲۲۶ ، مختصرًا۔

[2]    المصنف لابن ابی شیبۃ  ،  کتاب الزہد ،  باب کلام سلمان ،  الحدیث : ۱۴ ، ج۸ ، ص۱۸۰ ، بتغیرٍ۔

[3]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۶۰۴۲ ، ج۶ ، ص۲۱۳۔

[4]    المصنف لابن ابی شیبۃ  ،  کتاب الزہد ،  باب کلام سلمان ،   الحدیث : ۱۴ ،  ج۸  ، ص۱۸۰ ، بتغیرٍ۔

[5]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۲۸۵۵ ، ج۲۲ ، ص۱۱۲۔

                المسندلابی یعلی الموصلی ،   مسندابی جحیفۃ ،   الحدیث : ۸۹۴ ،   ج۱

Total Pages: 273

Go To