Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

زَادَہَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا حاضر ہو ئے تواس وقت اسلام ظاہر کیاتا کہ مدینے ہی میں   قیام پذیر ہوسکیں   لیکن حضورنبی ٔرحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں   واپس بھیجتے ہوئے ارشادفرمایا :   ’’ ہم قاصد کو روکتے ہیں   نہ عہد شکنی کرتے ہیں   ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ان صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن میں   سے ہیں   جنہیں   حضورنبی ٔاکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایاتھا :  ’’  میرے بعد تمہیں   فقر کا سامنا کرناپڑے گااورانہیں   ضرورت سے زائد مال جمع کرنے سے منع کرتے ہوئے زائد مال جمع کرنے والے کی سزا سے آگاہ فرمایا  ۔  ‘‘

صدقات میں   خیانت والوں   کی سزا :  

 ( 596 ) … حضرت سیِّدُنا ابو رَافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے،  فرماتے ہیں   کہ ایک روز حضورنبی ٔ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مدینۂ منورہ کے قبرستان ’’ بقیعِ غرقد ‘‘ کے قریب سے گزرے تو فرمایا :   ’’ اُف،   اُف،   اُف ۔  ‘‘  اس وقت آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ میں   اکیلا ہی تھا ۔  میں   نے عرض کی :  ’’  یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  میرے ماں   باپ آپ پر قربان !  کیا بات ہے ؟  ‘‘  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’  میں   نے اس قبروالے کو فلاں   قبیلہ پر عامل  ( یعنی زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے ) مقرَّر کیاتھا ۔  اس وقت اس نے ایک چادر میں   خیانت کی تھی اور اب میں   دیکھتا ہوں   کہ وہی چادر آگ بن کر اُسے جلارہی ہے ۔  ‘‘    ( [1] )

 تمنّائے فقر :  

 ( 597 ) … حضرت سیِّدُناابورَافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے،  فرماتے ہیں :  رسولِ اَکرم،  شاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا :   ’’  اے ابو رَافع !  اس وقت تمہاراکیا حال ہوگا جب تم فقر میں   مبتلا ہوگے ؟   ‘‘ میں   نے عرض کی :  ’’  کیا میں   ابھی فقر اختیار نہ کر لوں   ؟  ‘‘  ارشاد فرمایا :   ’’ کیوں   نہیں    ۔  ‘‘  پھراستفسار فرمایا :   ’’ تمہارے پاس کتنا مال ہے ؟  ‘‘  میں   نے عرض کی :   ’’ 40 ہزار درہم ۔ میں   ان سب کو راہِ خدا میں   خیرات کرتا ہوں   ۔  ‘‘  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:  ’’ کچھ تقسیم کر دو اور کچھ اپنی اولاد کے لئے باقی رہنے دو ۔  ‘‘ میں   نے عرض کی :   ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! کیاہم پراولاد کے بھی حقوق ہے جس طرح ہمارے ان پر حقوق ہیں   ؟   ‘‘  ارشاد فرمایا :  ’’  ہاں   !  بچے کا حق والد پر یہ ہے کہ وہ اسے قرآنِ کریم کی تعلیم دلوائے ،   تیراندازی و تیرا کی سکھائے اور اسے حلال مال سے میراث دے ۔  ‘‘ میں   نے عرض کی :   ’’ میں   فقر میں   کب مبتلا ہوں  گا ؟   ‘‘ ارشاد فرمایا :   ’’  میرے بعد ۔  ‘‘

            حضرتِ سیِّدُنا ابوسُلَیْمرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  میں   نے حضرت سیِّدُنا ابو رَافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو حضور نبی ٔکریم،  رَء ُوفٌ رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد فقر میں   مبتلا دیکھایہاں   تک کہ جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیٹھتے تو بیٹھے رہتے اور فرماتے :  ’’  کون اس بوڑھے اور اندھے آدمی پر صدقہ کرے گا ؟  کون اس آدمی پر صدقہ کرے گا جسے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بتایا کہ تو میرے بعد فقرمیں   مبتلا ہوگا ؟  کون صدقہ کرے گا ؟  بے شکاللہعَزَّوَجَلَّ کا دستِ قدرت ہی بلند ہے اوردینے والے کا ہاتھ درمیان میں   اور سائل کا ہاتھ نیچے ہوتا ہے اور جو بیجا سوال کرتا ہے قیامت کے دن اس کے چہرے پر نشان ہوگا جس سے وہ پہنچانا جائے گااور غنی و مالدار کے لئے صدقہ لینا جائز نہیں    ۔  ‘‘  راوی کہتے ہیں : میں   نے ایک آدمی کودیکھا جس نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو چار درہم دیئے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے ایک درہم لوٹا دیا ۔ اس نے کہا :   ’’ اےاللہعَزَّوَجَلَّ کے بندے !  میرا صدقہ مجھ پر نہ لوٹا !  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  مجھے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے زائد مال جمع کرنے سے منع فرمایا ہے ۔  ‘‘   

            حضرتِ سیِّدُناابوسُلَیْمرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں : پھر میں   نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا مال داری والا دور دیکھاکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اتنے مالدار ہوئے کہ جب زکوٰۃ وصول کرنے والا آتاتوفرماتے تھے :   ’’ کاش !  ابورَافع فقر کی حالت میں   ہی فوت ہو جاتا ۔   ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کسی غلام کو اس کی اصل قیمت پر ہی مکاتب بناتے اور زائدمال وصول نہ فرماتے تھے ۔  ‘‘   ( [2] )

حضرت سیِّدُنَاسَلْمَان فَارِسِیرَضِیَ اللہ تَعَا لٰی عَنْہ

          حضرت سیِّدُناابوعبداللہسلمان بن اِسلام فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فارس  ( یعنی ایران ) والوں  میں  سب سے پہلے اسلام قبول کیا ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  اسلام کے سچے شیدائی تھے ،  اسلام کی خاطر درپیش مصائب و آلام پر صبر کرتے،   آخرت کے لئے نیک اعمال کا ذخیرہ کرتے،   دانا و عقل مند،  عالم و عبادت گزار،  عَلم اسلام بلند کرنے والے اورحضور نبی ٔ اکرم،  نُورِمُجَسَّم ،  شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رفیق اورممتاز صحابہ میں   سے تھے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا شمار ان خوش نصیبوں   میں   ہوتاہے کہ جن کی خود جنت مشتاق ہے ۔  نیز تنگدستی کے باوجود ثابت قدم رہتے اور اس کے بدلے میں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اجر عظیم پایا ۔

            اَہلِ تَصَوُّف فرماتے ہیں : ’’  جنت کی عُمدہ نعمتوں   کے حُصُول کی خاطر تکلیفوں   اور مصیبتوں   کو برداشت کر نے کا نام تَصَوُّفہے ۔  ‘‘

سبقت لے جانے والے 4 اَفراد :   

 ( 598 ) … حضرت سیِّدُنااَنَسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ’’ حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’ 4افرادسبقت لےگئے :   ( ۱ ) میں   ( محمدصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )  مُلکِ عرب سے  ( ۲ )  صُہَیْب مُلکِ روم سے ( ۳ ) سلمان مُلکِ فارس سے اور  ( ۴ ) بلال مُلک ِحبشہ سے  ( رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن )   ۔  ‘‘  ( [3] )

 



[1]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۹۸۸ ، ج۱ص۳۳۰۔

[2]    السنن الکبرٰی للبیھقی ،  کتاب السبق والرمی ،  باب التحریض علی الرمی ،  الحدیث : ۱۹۷۴۲ ، ج۱۰ ، ص۲۶ ، باختصارٍ۔

[3]    المستدرک ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  باب السباق اربعۃ ،  الحدیث : ۵۷۶۸ ، ج۴ ، ص۴۹۵۔



Total Pages: 273

Go To